صدر علوی اپنے عہدے کی تکریم بھول کر کپتان کے میراثی بن گئے

پاکستان کی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ میں صدر کے عہدے پر فائز عارف علوی نامی ایک شخص نے اپنے وزیر اعظم کی خوشامد کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے اسے نہ صرف سیاسی تدبر کی ایک زندہ مثال قرار دے دیا بلکہ بین الاقوامی دنیا کو بھی یہ مشورہ دے ڈالا کہ اگر وہ کامیاب حکمرانی کے گر سیکھنا چاہتی ہے تو عمران خان کی شاگردی اور مریدی اختیار کر لے۔
ساری زندگی دانتوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر عارف علوی نے 13 ستمبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خوشامد اور شاہ پرستی کی ایسی شرمناک مثال قائم کی جس کی نظیر پاکستان کی 74 سالہ پارلیمانی تاریخ میں تلاش کرنا ممکن نہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے عارف علوی کا خطاب کسی صدر کا نہیں بلکہ کسی ایسے میراثی کا خطاب لگ رہا تھا جو زمین پر بیٹھ کر گاؤں کے چوہدری کی ٹانگیں دبا رہا ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صدر اکثریتی پارٹی کی نظر عنایت ہی کی وجہ سے منتخب ہوتا ہے اور اسکی اپنی کوئی اوقات نہیں ہوتی۔ ماضی میں آصف علی زرداری کو چھوڑ کر ہم نے ممنون حسین اور رفیق تارڑ جیسے ڈمی صدر بھی دیکھے ہیں لیکن عارف علوی نے تو کوئی دید لحاظ اور حیا شرم رکھے بغیر وزیراعظم کی خوشامد کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے آئینی عہدے کی تکریم کا تقاضہ تھا کہ علوی تھوڑی بہت غیر جانبداری برتتا اور اپنی سرتاپا خوشامد بننے کی بجائے ایک متوازن اور باوقار طرز بیان کے ذریعے سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام طبقہ ہائے فکر کو یہ احساس دلاتا کہ صدر بننے کے بعد اس کا کسی ایک سیاسی جماعت سے تعلق محض رسمی ہے اور وہ بنیادی طور پر ریاست پاکستان اور اس میں آباد باشندوں کے مفادات کا سرپرست ہے۔ لیکن افسوس کہ عارف علوی کی تقریر کسی ایک بھی پارلیمانی اصول پر پوری نہیں اتری۔
معروف لکھاری مجاہد علی صدارتی خطاب پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں بلاشبہ یہ بھی روایت کا حصہ ہے کہ صدر مملکت اپنی سالانہ تقریر میں وہی اعداد و شمار پیش کرتا ہے جو حکومت اسے فراہم کرتی ہے اور انہی کامیابیوں کا راگ الاپتا ہے جسکی تفصیلات اسے وزیر اعظم ہاؤس سے فراہم ہوتی ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کے سب ارکان اور عوام یکساں طور سے صدر مملکت کی ان آئینی حدود و مجبوریوں کو سمجھتے ہیں۔ صدر کی تقریر میں کامیابیوں کی تفصیل کو حکومت کا اعلامیہ مانا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے اس پر جب تنقید کی جاتی ہے یا سوال اٹھائے جاتے ہیں تو یہ حکومت پر نکتہ چینی ہوتی ہے، ملک کا صدر اس کا نشانہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں صدر کی تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈروں کو رائے ظاہر کرنے کا موقع دینا بھی عالمگیر پارلیمانی روایت کا حصہ ہے۔ یہ موقع نہ تو گزشتہ پارلیمانی سال کے دوران فراہم ہوا اور نہ ہی اس بار اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود یہ ضرورت محسوس کی گئی۔
عارف علوی نے اپنے خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈروں کے احتجاج، نعرے بازی اور پھر واک آؤٹ کو پارلیمانی روایت کا حصہ سمجھ کر اس سے درگزر کرتے ہوئے اپنے عہدے کی شان و مرتبہ کے مطابق رہنما تقریر کرنے کی بجائے اپوزیشن کو مخاطب کرنا بھی ضروری سمجھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’شور مچانے کی بجائے حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی۔ آپ لوگ صبر کریں اور سنیں، عوام کو میری بات سمجھ آ گئی ہے۔ اب اپوزیشن کو بھی میری بات غور سے سننی اور سمجھنی چاہیے۔ موصوف نے کہا کہ حکومتی کارکردگی اور کامیابی کو شور شرابے سے نہیں روکا جا سکتا۔ گزشتہ 3 سالوں میں ملک و قوم میں بہت مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، پاکستان درست سمت کی جانب اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے‘ ۔
تاہم لطیفوں پر مبنی یہ تقریر کرتے ہوئے عارف علوی بھول گئے کہ یہ حکومتی بیانیہ ہے جسے انہوں نے فریق بن کر اور اپوزیشن سے براہ راست مخاطب ہو کر اپنی ’ذاتی رائے‘ میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح انہوں نے ایک ایسے آئینی عہدے کو متنازعہ اور جانبدار بنا یا جسے پوری قوم کا نمائندہ ہونا چاہیے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج پر علوی کی جانب سے اپوزیشن کی سرزنش تب تو قابل فہم ہوتی جب وہ حکومت کو بھی مشورہ دیتے کہ اسے اپوزیشن کو سرے سے مسترد کرنے اور دیوار سے لگانے کی بجائے دانشمندانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے تاکہ ملک میں افہام و تفہیم کا صحت مند ماحول پیدا ہو سکے۔ علوی کو اصولی طور پر اپوزیشن کے اس مطالبے کی حمایت کرنی چاہیے تھی کہ صدر کی تقریر چونکہ سرکاری پالیسی کا بیان ہوتا ہے اور اس میں وہی خوشنما تصویر پیش کی جاتی ہے جو حکمران جماعت عوام کو دکھانا چاہتی ہے، اس لئے مشترکہ اجلاس کو ملتوی کرنے کی بجائے صدارتی تقریر کے بعد قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈروں کو بھی اپنے خیالات کا موقع دیا جائے تاکہ ملک میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی روایت راسخ ہو سکے۔ لیکن عارف علوی اس حوالے سے صرف یہ خواہش ظاہر کر کے آگے بڑھ گئے کہ ہمیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ سوال تو یہ ہے کہ جب کسی بھی سطح پر رائے کا موقع دینے سے ہی انکار کیا جائے گا تو احترام کی فضا کیسے قائم ہوگی۔
مشترکہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے باہر ملک بھر کے صحافی میڈیا اتھارٹی کے بارے میں حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ صحافیوں کی تنظیموں اور میڈیا کی صنعت سے وابستہ سب حلقوں کا متفقہ موقف ہے کہ نئی قانون سازی سے حکومت ملک میں میڈیا پر کنٹرول کی بدترین مثال قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس قانون کے نفاذ اور تجویز کردہ میڈیا اتھارٹی کے قیام سے خبر کی غیر جانبدارانہ ترسیل اور متوازن رائے کا اظہار ممکن نہیں رہے گا۔ حکومت صرف اخبارات و ٹیلی ویژن ہی تک نہیں بلکہ اظہار کے ہر فورم پر اپنا تسلط نافذ کرنے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے۔ اس صورت حال میں صدر علوی نے پارلیمنٹ سے خطاب میں یہ فرمان جاری کر دیا کہ میڈیا ’فیک نیوز کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ اسکے بعد موصوف نے ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتا ہے کہ پہلے تحقیق کرو پھر بات کو آگے پھیلاؤ، جھوٹی خبروں کا سدباب ضروری ہے‘ ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ’فیک نیوز‘ کی اصطلاح امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایجاد کی تھی اور امریکی میڈیا کی تنقید مسترد کرنے کے لئے تواتر سے اس اصطلاح کا استعمال کیا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکی معاشرہ اس وقت بری طرح تقسیم ہے اور ملک میں ایک ایسا طبقہ پیدا کر لیا گیا ہے جو متفقہ، مسلمہ اور قانونی دائرہ کار میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں بھی شبہات کا اظہار کر رہا ہے یا امریکی کانگرس پر متشدد حملہ کو جائز جمہوری طریقہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب یہ اصطلاح بھارتی پروپیگنڈا کے تناظر میں پاکستان میں متعارف کروائی گئی ہے۔ اسے ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار فیئر کا نام دے کر ہمہ قسم اظہار کو فلٹر کرنے اور سرکاری نقطہ نظر سے متصادم یا برعکس کسی بھی رائے کے بارے میں شبہ پیدا کرنے کے مقصد سے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ چنانچہ صدر علوی نے اس اصطلاح کو استعمال کر کے نہ صرف ملکی صحافیوں اور میڈیا اداروں کے احتجاج کو مسترد کیا بلکہ سنسرشپ اور کنٹرول کی سرکاری حکمت عملی کی تائید کا افسوسناک جرم بھی کیا۔

Close