طالبان کی سولو فلائٹ سے افغانستان کو کیا نقصان ہو گا؟

افغان طالبان کی جانب سے اعلان کردہ 33 رکنی آل طالبان عبوری کابینہ میں افغانستان کے نسلی گروہوں، اقلیتوں اور خواتین کی عدم شمولیت کی بنیاد پر اسے سولو فلائٹ یعنی تنہا پرواز کے اعلان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان عوام اور مغربی ممالک طالبان کی نئی کابینہ کو مسترد کرچکے ہیں۔ طالبان کو ایک وسیع البنیاد نمائندہ حکومت تشکیل دینے کے حوالے سے وعدہ یاد دلاتے ہوئے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ طرز کہن پر چلنے کی صورت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ طالبان کا نیا افغانستان مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کابینہ میں افغان قوم کی اس ہمہ جہت شمولیت کے لئے کوئی جگہ نہیں جسے خود طالبان نے گزشتہ دو برس کے دوران مسلسل بیان کیا۔
خیال رہے کہ نئی کابینہ افغان مہاجر خاندانوں کے پاکستانی دینی مدارس بالخصوص دارالعلوم جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں پڑھنے والے طالب علموں اور پاکستانی پناہ گاہوں میں مقیم طالبان کے لڑاکا دستوں کے باہمی گٹھ جوڑ کی واضح نمائندگی کرتی ہے۔ اگر طالبان کے نقطہ نظر سے 33 ارکان پر مشتمل کابینہ کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو اس میں طالبان کے بیشتر گروہوں کی آزمودہ قیادت کو شامل کیا گیا ہے خصوصا طاقتور قندھاری گروپ کو۔ تاہم اس کابینہ میں اہم نسلی گروہوں جیسے تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمان، خواتین اور مذہبی اقلیتوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس کابینہ میں ایک بھی غیر طالبان اور ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے قرون وسطی کے نظریات کی بنیاد پر خواتین کو سماجی سیاسی زندگی سے باہر رکھنے پر مصر ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کا اصرار ہے کہ ان کے فیصلے اسلامی شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے کچھ پڑوسی ممالک نے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو صرف تب تسلیم کریں گے جب افغانستان میں ایک جامع حکومت تشکیل پائے گی۔ تاہم اب طالبان کا یہ موقف ہے کہ انہوں نے امریکہ کے خلاف 20 برس طویل جنگ جیت کر افغانستان واپس لیا ہے پر لہٰذا حکومت سازی کے حوالے سے تمام فیصلے وہ اپنی مرضی سے کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے زیادہ تر وزراء ادھیڑ عمر کے پرانے جہادی کھلاڑی ہیں۔ نئی کابینہ میں افغانستان کی نوجوان اکثریت کی نمائندگی نہیں ہے۔ درحقیقت طالبان نے مدرسوں میں تعلیم کے اپنے پس منظر کے زیر اثر ان لاکھوں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قائم کردہ تعلیمی اداروں کے وسیع نیٹ ورک کی مدد سے ملک کے کونے کونے میں ابھرے ہیں اور حال ہی میں کابل میں طالبان مخالف مظاہروں میں پیش پیش نظر آئے۔
واضح رہے کہ طالبان کی مرکزی قیادت، بشمول اس کے تین سپریم لیڈر یا امیر اور لیڈر شپ کونسل کے اراکین کی اکثریت لوئی قندھار یعنی قندھار اور نواحی علاقہ جات سے تعلق رکھتی ہے۔ نئی کابینہ کے کل پندرہ ارکان کا تعلق لوئی قندھار سے ہے۔ طالبان کے بانی مرحوم ملا عمر کے خاندان کو کابینہ میں دو اہم نشستیں ملی ہیں۔ ان کا بیٹا ملا یعقوب وزیر دفاع جبکہ ان کے چچا ملا عبدالمنان کو عوامی فلاح و بہبود کی وزارت ملی۔ اسی طرح حقانی نیٹ ورک کا گڑھ سمجھے جانے والے پشتون علاقے لویا پکتیا کو کابینہ کی دس نشستیں ملی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج حقانی اس وقت طالبان کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اور انہیں وزارت داخلہ ملی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے سراج الدین حقانی کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔ ان کے چچا خلیل حقانی وزیر مہاجرین بنے ہیں، ان کے سر پر بھی پچاس لاکھ ڈالر کا انعام موجود ہے۔ ننگرہار کے مشرقی علاقے میں زیادہ تر پشتون آباد ہیں جنہیں کابینہ میں پانچ نشستیں ملی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، شمالی افغانستان میں آباد غیر پشتونوں کو صرف تین عہدے ملے ہیں۔ آرمی چیف کا اہم عہدہ ایک تاجک کمانڈر قاری فصیح الدین کو ملا ہے۔ اس عہدے کو عام طور پر شمالی صوبوں پر قبضہ کرنے میں طالبان کی مدد کا انعام سمجھا جا رہا ہے۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج افغانستان میں فوج بطور ایک ادارہ عملی طور پر موجود نہیں۔ چنانچہ آرمی چیف کے منصب کو علامتی اہمیت ہی دی جا سکتی ہے۔ نائب وزرائے اعظم میں عبدالسلام حنفی کابینہ میں واحد ازبک نمائندے ہیں جو کہ طالبان کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں اور 1990 کی دہائی میں ان کی حکومت کا حصہ بھی رہے تھے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ روابط رکھنے والے طالبان کو بھی ایک طرف کر دیا گیا ہے۔
طالبان کی عبوری حکومت کی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان میں تبدیلی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود طالبان میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی اور اس حقیقت کے داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے۔
افغانستان میں طالبان کی عبوری کابینہ کے مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں جدید طرز حکمرانی سے کوئی سروکار نہیں اور یہ لوگ ٹیکنوکریٹس کو اپنے ساتھ کام کرنے پر راغب نہیں کر سکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے ریاستی نظام کے بارے میں کوئی اشارہ دیے بغیر کابینہ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے آئین کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا، یہاں تک کہ عبوری آئین کا بھی کوئی ذکر سنائی نہیں دیا۔
عالمی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر نامزد دہشت گردوں کو کابینہ میں شامل کرنے سے طالبان کی حکومت کے لیے عالمی تعلقات کے حوالے سے عملی مسائل پیدا ہوں گے۔ مثال کے طور پر طالبان حکومت کے کچھ وزیر دہشت گردوں کی فہرست میں ہوتے ہوئے کیسے بین الاقوامی سفر کر سکیں گے۔ اسی طرح نئی حکومت کے بہت سے ارکان کو اقوام متحدہ کے اداروں کی طرف سے سفری پابندیوں کا سامنا ہے۔ نانچہ افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان کی حکومت اور ریاست کی کیا صورت ہو گی، یہ صرف وقت ہی بتائے گا۔

Close