کراچی الیکشن میں MQM اور PTI کو شکست کیوں ہوئی؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 12 ستمبر کو ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف اور شہر پر دو دہائیوں سے زائد راج کرنے والی اسکی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم کو اپنے سیاسی گڑھ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ یہ دونوں جماعتیں پچھلے تین برس سے مرکز میں اقتدار کے مزے لے رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ الیکشن میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی شکست دونوں جماعتوں کی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یاد رہے کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جس میں کسی بھی ایک شہر میں سب سے زیادہ یعنی چھ کنٹونمنٹس ہیں۔ ان چھ کنٹونمنٹس میں سے کراچی کینٹ، کلفٹن، ملیر کینٹ، فیصل کینٹ، کورنگی کینٹ اور منوڑہ کینٹ شامل ہیں۔ ان میں سے کیٹیگری اے والے کینٹ کلفٹن، ملیر اور فیصل میں دس، دس وارڈ، کیٹیگری بی کے کراچی کینٹ اور کورنگی میں پانچ، پانچ وارڈ اور سی کیٹیگری کے منوڑہ میں دو وارڈز ہیں، جن کی 42 نشستوں پر 12 ستمبر کو الیکشن ہوئے۔ کلفٹن پی ٹی آئی کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے پی ٹی آئی نے گذشتہ انتخابات بھاری اکثریت سے جیتا تھا۔
پی ٹی آئی کے 50 سے زائد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی رہائش بھی کلفٹن میں ہے۔ اس کے علاوہ گورنر سندھ عمران اسمعیل اور صدر عارف علوی بھی کلفٹن میں رہتے ہیں اور کلفٹن ان کا انتخابی حلقہ بھی ہے۔
اس کے باوجود کلفٹن کینٹ کی 10 میں سے چار نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لی ہیں جبکہ تحریک انصاف صرف دو نشستیں لینے میں کامیاب ہوسکی ہے۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی نے دو جبکہ دو نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے۔کراچی پر دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک راج کرنے والی ایم کیو ایم کو کراچی میں کنٹونمنٹ بورڈ کی 42 نشستوں میں سے صرف تین ہی مل سکیں جو کہ اس کی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ماضی میں فیصل کینٹ میں بھاری اکثریت رکھنے والی ایم کیو ایم اس حلقے سے ایک بھی نشست جیت نہ سکی جبکہ دس میں سے پی ٹی آئی نے چھ نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کر لی۔ ملیر کینٹ کی دس میں سے پانچ نشستیں تحریک انصاف کو ملیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو، دو نشستیں جیتیں۔منوڑہ کینٹ کی دونوں نشستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب رہی جبکہ کورنگی کریک کینٹ کی پانچ میں سے دو نشستیں مسلم لیگ ن نے جیتیں۔ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی ایک، ایک نشست رہی۔ کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی دو نشستوں پر ایم کیو ایم کامیاب رہی جبکہ ایک نشست پیپلز پارٹی کے نام رہی۔
ملک بھر سے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف 63 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی جبکہ مسلم لیگ نے 59 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، پیپلز پارٹی نے 17 اور ایم کیو ایم پاکستان نے 10 نشستیں حاصل کیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی دو کینٹونمنٹ، فیصل اور کراچی کینٹ میں ماضی میں بھاری اکثریت رکھتی تھی۔ مگر اس بار عوام ایم کیو ایم سے شدید مایوس دکھائی دیتے تھی، اس لیے اسے ووٹ نہیں دیے اور یوں ایم کیو ایم کراچی سے صرف تین نشستیں حاصل کر سکی۔ دوسری جانب حکمران جماعت پی ٹی آئی کے گڑھ میں شکست پر بارے تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ کلفٹن میں ترقیاتی کاموں کی اکثریت صوبائی حکومت کرتی ہے اور اس کے علاوہ کلفٹن کی عوام پی ٹی آئی سے مایوس ہے اس لیے ووٹر ٹرن آؤٹ بھی کم رہا۔ ووٹرز نے پی ٹی آئی کو چھوڑ کر پی پی پی کو ووٹ دیا کیونکہ ان کے پاس صوبائی حکومت ہے اور وہ علاقے میں ترقیاتی کام کرائیں گے۔ ملیر اور فیصل کینٹونمٹ سے متعلق ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان وارڈز مخں جہاں حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی رہتے ہیں، پی ٹی آئی کو اچھے ووٹ ملے اور اسی لیے اس نے وہاں سے سیٹیں بھی جیتیں۔

Close