میڈیا دشمن کپتان حکومت نے اپنا منہ کیسے کالا کیا؟

پچھلے تین برسوں سے پاکستانی میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی کوششوں میں مصروف کپتان حکومت اپنی میڈیا دشمنی میں اس حد تک آگے چلی گئی کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پریس گیلری میں صحافیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ یوں عمران خان کی ہائبرڈ حکومت نے اپنے سیاہ کارناموں کی طویل لسٹ میں ایک اور کارنامے کا اضافہ کر دیا اور اپنے منہ پر خود ہی کالک مل دی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی حکومت نے پارلیمنٹ کی کارروائی کور کرنے والے صحافیوں کا پریس گیلری میں داخلہ بند کر دیا ہو۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر 13 ستمبر کو حکومت نے پریس گیلری کو باقاعدہ تالے لگا دیے جس کے بعد صحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ نمبر ایک پر دھرنا دے دیا جو پارلیمنٹ کا اجلاس ختم ہونے تک جاری رہا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اس اقدام کے بارے میں کوئی وضاحتی بیان تو نہیں آیا لیکن وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے کے مطابق خفیہ اداروں نے حکومت کو رپورٹ دی تھی کہ صدر کے خطاب کے دوران صحافی پریس گیلری سے مجوزہ میڈیا مخالف بل کے خلاف نعرے بازی کرسکتے ہیں۔ خفیہ اداروں کی رپورٹوں پر چلنے والی حکومت کو دی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چونکہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز میں صدر کے خطاب کے دوران سروسز چیفس کے علاوہ غیر ملکی سفارت کار بھی شامل ہوں گے، لہازا اگر انکی موجودگی میں ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو حکومت کی سُبکی ہوگی۔ تاہم خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر صحافیوں کا پریس گیلری میں داخلہ بند کرنے والوں نے ایسا کرکے اور بھی زیادہ سبکی اٹھائی۔ بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا جس میں اس صورت حال اور بالخصوص پارلینمٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کے دھرنے کا جائزہ لینے کے بعد پریس گیلری کو صدر کے خطاب کے دوران بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر صدیق ساجد نے بتایا کہ صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل صحافیوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو حلف نامہ دیا تھا کہ وہ صدر کے خطاب کے دوران نہ تو شور شرابہ کریں گے اور نہ ہی میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے خلاف نعرے بازی کریں گے۔انھوں نے کہا کہ اس یقین دہانی کے بعد وفاقی حکومت کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے 25 صحافیوں کے لیے پریس گیلری میں داخلے کے خصوصی پاس جاری کیے تھے۔ صدیق ساجد کے بقول انھوں نے یہ پاس خود وصول کیے تھے۔ لیکن اجلاس سے کچھ وقت پہلے انھیں سپیکر آفس سے کال آئی کہ صدر کے خطاب کے دوران صحافیوں کے لیے پریس گیلری بند کر دی گئی ہے اس لیے وہ پارلیمنٹ آنے کی زحمت نہ کریں۔ پی آر اے کے صدر کا کہنا تھا کہ ان 25 صحافیوں کی جگہ پی آئی ڈی نے اپنے چند ’چہیتوں‘ کو خصوصی پاس جاری کیے لیکن جب ان کے لیے بھی پریس گیلری کے دروازے بند کر دیے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو گئے۔
بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر صحافیوں نے سپیکر قومی اسمبلی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وزیر اعظم اور سروسز چیفس کو قومی اسمبلی کے ایوان میں جانے کے لیے اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ صدر مملکت عارف علوی نے اپنے خوشامدانہ خطاب کے دوران ایک موقعے پر کہا کہ ’میں میڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘۔ اس دوران جب انہوں نے میڈیا گیلری کی جانب دیکھا تو وہ خالی تھی۔ اس۔پر انہوں نے ہاتھ سے ایسے اشارہ کیا گویا پوچھ رہے ہوں کہ گیلری خالی کیوں ہے۔ اس دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں نے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کالے قانون کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا جس کو سرکاری ٹی وی چینل کے علاوہ تمام نجی ٹی وی چینل بھی وقفے وقفے سے دکھاتے رہے۔
صحافیوں کے اس احتجاجی مظاہرے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی شرکت کی۔ ان دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب کے دوران اس مجوزہ بل کو نہ صرف کالا قانون قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ’فیک نیوز‘ کی آڑ میں اس طرح کا قانون لانے کا مقصد صحافیوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہونے دیں گی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے بھی شرکت کی اور میڈیا کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ احتجاجی مظاہرے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی شرکت کی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت نے پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ صحافیوں کا پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں داخلہ بند کرکے اپنے ہی منہ پر کالک ملی ہے۔

Close