کیا چوہدری سرور گورنری چھوڑ کر الگ دھڑا بنائیں گے؟

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی جانب سے اس امر کی تصدیق کیے جانے کے بعد کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لیں گے، توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ جلد گورنر شپ سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عملی سیاست میں متحرک ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ حالیہ دنوں جب ایک انٹرویو میں گورنر پنجاب سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعی آپ عمران خان سے الگ ہوکر کوئی سیاسی جماعت بنانے جا رہے ہیں تو انکا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت بنانے والی بات درست نہیں۔ تاہم اس بات کا میں واضح اعلان کرچکا ہوں کہ اگلا الیکشن ضرور لڑوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ مختلف انتخابی حلقوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ میں وہاں سے الیکشن لڑوں گا۔ بہت سارے حلقوں میں ہمارے مضبوط امیدوار بھی مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ یہاں سے الیکشن لڑیں۔ تاہم میں نے اپنے انتخابی حلقے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔
چوہدری سرور کی جانب سے گورنرشپ چھوڑنے کا عندیہ دیئے جانے کے بعد یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وہ جہانگیر ترین کی طرح تحریک انصاف کا حصہ رہتے ہوئے جماعت کے اندر ہی اختلافی سیاست کرنے کو ترجیح دیں گے یا عبدالعلیم خان جیسے ہم خیال ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کوئی سیاسی جماعت بنائیں گے۔ ابھی تک چوہدری سرور نے اپنے تمام کارڈز سینے کے ساتھ لگا رکھے ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اپنے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے کیا فیصلہ کریں گے۔
قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی آئینی عہدے پر خدمات انجام دینے والے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتخابی سیاست میں اترنے سے دو سال قبل اپنا عہدہ چھوڑ چکا ہو تاہم چوہدری سرور کے قریبی حلقے اس نکتے سے اختلاف کرتے ہیں۔ بہر حال اس وقت سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ چوہدری سرور گورنری چھوڑنے کے بعد آیا اپنی الگ سیاسی جماعت بنائیں گے یا تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہی انتخابی سیاست میں حصہ لیں گے۔ گورنر پنجاب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ گورنر سرور تحریک انصاف کی بیڈ گورننس کی وجہ سے سخت پریشان ہیں لہذا وہ پی ٹی آئی چھوڑ کر جہانگیرترین کی طرح اپنا الگ دھڑا تشکیل دے کر سیاسی میدان میں اترسکتے ہیں۔ چوہدری سرور اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے کی تردید کر چکے ہیں لیکن تاحال انہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے کا بھی اشارہ نہیں دیا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان بھی چوہدری سرور کے دھڑے میں جا سکتے ہیں حنا کے علیم خان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اب ان کا سیاست سے جی اکتا چکا ہے اور وہ اسے ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ علیم خان نے پچھلے دنوں بطور سینئر صوبائی وزیر پنجاب اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور انہیں عمران خان کی جانب سے اس کی منظوری کا انتظار ہے۔
واضح رہے کہ فروی 2015ء میں چوہدری سرور نے تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شامل ہو نے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت ہے اس لئے اس میں نے اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2018 میں انہیں گورنر تعینات کیا گیا۔ یاد رہے کہ سرور مسلم لیگ (ن) دور میں بھی گورنر  پنجاب کے عہدے پر تعینات تھے تاہم انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے طرز حکومت سے اختلاف کرتے ہوئے باقاعدہ چارج شیٹ کر کے گورنر شپ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا جس کے کچھ ماہ بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ مگر تین سال کی گورنری کے بعد اب چوہدری سرور نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ میں گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کے لیے برطانیہ سے پاکستان نہیں آیا تھا، اور یہ کہ میں آئندہ انتخابات میں حصہ لوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ میں پاکستان آرام اور آسائش کی زندگی گزارنے نہیں آیا۔میرا مقصد تھا کہ ہم سب مل جل کر ملک کے غریب عوام کی حالت بہتر کر سکیں۔ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم کر سکیں۔ میری خواہش تھی پاکستان میں سیاسی جماعتیں ویسے ہی کام کریں اور ویسا ہی کردار ادا کریں جیسا کی یورپ میں ہوتا ہے۔ لیکن اب میں نے پاکستان اور اس کے عوام کی بہتری کی خاطر انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چنانچہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری سرور نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے مشاورت شروع کر دی ہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اگر انہوں نے اگلے انتخابات میں حصہ لینا ہے تو انہیں رواں ماہ ستمبر یہ عہدہ چھوڑنا ہو گا تاکہ وہ دو برس بعد یعنی اگست 2023الیکشن لڑنے کے لیے اہل ہو سکیں۔ واضح رہے کہ آئین کے تحت گورنر اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد دو سال پورے ہونے تک انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اگر چودھری سرور ابھی مستعفی ہوتے ہیں تو وہ اس آئینی شرط کو پورا کر پائیں گے۔ ذرائع کے مطابق قوی امکان کہ چوہدری محمد سرور بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر ایسے شہر سے انتخاب لڑیں گے جہاں پر ان کی آرائیں برادری کی اکثریت ہو گی۔ بتایا جا رہا کہ چودھری سرور نے گورنر شپ چھوڑنے کے ارادے سے ابھی تک وزیر اعظم عمران خان کو بالمشافہ اگاہ نہیں کیا لیکن ایسا کرنے سے پہلے وہ اپنے کپتان سے مشورہ کریں گے اور اجازت ملنے کے بعد ہی مستعفی ہونے کا اعلان کریں گے۔

Close