پریس گیلری کی بندش بارے سپیکر اسد قیصر کا سفید جھوٹ

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہےکہ پریس گیلری سے متعلق فیصلہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیاتاہم پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن نے سپیکر قومی اسمبلی کا جھوٹ بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری سپیکر قومی اسمبلی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ پریس گیلری سے متعلق جو فیصلہ بھی ہوا تھا وہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) کے ساتھ مل کر کیا تھا، اطلاعات تھیں کہ مشترکہ اجلاس میں میڈیا گیلری سے ہلڑ بازی ہوگی، نہیں چاہتا تھا وہاں ہلڑ بازی ہو اور میڈیا کے دوست آپس میں لڑ پڑیں، اس سے ہاؤس اور میڈیا دونوں کی توہین ہوتی۔اسپیکر قومی اسمبلی کاکہنا تھا کہ پی آر اے ہاؤس کی نمائندہ تنظیم ہے اسے روایت کا خیال کرنا چاہیے، کسی بھی صورت میں کسی کو بدتہذیبی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری جانب پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اطلاعات ملک سعید اعوان نے اسپیکر سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے اسپیکر سے ملاقات نہیں کی لہٰذا تحقیقات کرائی جائیں کہ اسپیکر نے کس وفد سے ملاقات کی۔
پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن سپیکر قومی اسمبلی کے بیان کہ پی آر اے کے وفد نے آج سپیکر سے ملاقات کی ہے کی سختی سے تردید کرتی ہے_
پی آر اے کے وفد نے نہ سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی ہے اور نہ ہی پریس گیلری کی بندش کے معاملے پر پی آر اے کو اعتماد میں لیا گیا۔پی آر اے سپیکر قومی اسمبلی کے اس سیاہ جھوٹ کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے کس وفد سے ملاقات کی اور کس نے سپیکر قومی اسمبلی سے غلط بیانی کی ہے_سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا بیان سریحا جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں_ پارلیمانی تاریخ کے سیاہ ترین دن جس میں پارلیمانی گیلری کو تالا لگا دیا گیا کے بعد پی آر اے آئندہ کی حکمت عملی اور موقف کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہے اور حتمی فیصلے قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ی آر اے کے ارکان کی مشاورت سے کیا جائے گا_ اس دوران سپیکر کی جانب سے ملاقات کا بیان جاری کرنا معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش ہےپی آر اے ایک بار پھر اس بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتی ہے
واضح رہےکہ صدر عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر حکومت نے صحافیوں پر پارلیمنٹ کے دروازے بند کردیے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پریس گیلری کو بند کردیا گیا اور صحافیوں کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی جس پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔

Close