کیا تھپڑ کے جواب میں بیوی کو بھی تھپڑ مارنا چاہیئے؟





مشہور ڈرامہ سیریز “میرے پاس تم ہو” کے ایک زناٹے دار تھپڑ والے سین کے بعد ڈرامہ سیریل ’’لاپتہ‘‘ کے تھپڑ والے کلپ نے گھریلو تشدد بارے اس بحث کو جنم دیدیا ہے کہ کیا خاوند کے تھپڑ رسید کرنے پر بیوی کو بھی جوابی تھپڑ مارنا چاہیے؟
اس ڈرامے میں بیوی کا کردار نبھانے والی اداکارہ سارہ خان شوہر کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے جواب میں خود بھی شوہر کو زور دار تھپڑ جڑ دیتی ہیں۔ اس تھپڑ سے ایک مضبوط عورت کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ تھپڑ کے بدلے تھپڑ سے مسئلہ حل ہو جائے گا اور گھریلو تشدد میں کمی آئے گی یا اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا؟
عام طور پر ڈراموں میں شوہر سے تھپڑ کھانے کے بعد بیوی کو ایک کونے میں بیٹھ کر روتے دھوتے دکھایا جاتا ہے لیکن اس ڈرامے میں ’فلک‘ پہلے تو تھپڑ کھا کر حیرانی سے اپنے شوہر کو دیکھتی ہیں اور پھر پوری قوت سے ایک طمانچہ ان کے منہ پر جڑ دیتی ہیں۔ ساتھ وہ یہ ڈائیلاگ بھی بولتی ہے: ’خبردار، میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین اس سین کو ایک ’پاور فل میسیج‘ قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو خود پر ہونے والے ظلم خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے اسی انداز میں جواب دینا چاہئے تاکہ اسے کمزور سمجھ کر کوئی دوبارہ اس پر ہاتھ نہ اُٹھا سکے۔ مگر کچھ صارفین سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے سین دکھانے سے نہ صرف معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھ جائے گی گی بلکہ گھریلو تشدد کو بھی تحریک ملے گی اور ‘اگر تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیا جائے گا تو نہ صرف گھریلو تشدد میں اضافہ ہوگا بلکہ طلاقوں کی شرح بھی بڑھ جائے گی۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اس معاملے پر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ افشاں غضنفر کا کہنا تھا کہ دنیا کا بڑے سے بڑا جھگڑا بھی ’ٹیبل ٹاک‘ سے ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شادی کو چلانا ہے تو دونوں کو برداشت پہدا کرنی چاہئے، اگر تحمل نہیں ہے تو پھر ایک راستہ علیحدگی کا موجود ہے۔ افشاں غضنفر نے کہا کہ یہ تو ڈرامہ ہے لیکن اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو مرد چار تھپڑ اور مارتا، اس لیے عورت مرد سے فزیکلی تو نہیں لیکن دماغ سے مقابلہ کر سکتی ہے، اسے ان ایشوز کو ڈیل کرنا آنا چاہئے.
سماجی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ویسے تو کسی بھی قسم کے تشدد کو پروموٹ کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے لیکن چونکہ ڈراموں میں کسی حد تک وہی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جو ہمارے معاشرے میں ہو رہی ہوتی ہیں اس لیے حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایک پدرسری معاشرے میں جب آپ مین سٹریم میڈیا پر یہ دکھائیں گے کہ ایک عورت تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دے رہی ہے تو ظاہر ہے اس پر اعتراض سامنے آئے گا۔
اس معاملے پر ردا مقبول نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’لاپتہ کی کیا شاندار تھپڑ والی قسط تھی۔ رائٹر کو ایک خودمختار، نڈر اور بے خوف عورت دکھانے پر خراج تحسین۔ جو اپنے لیے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتی اور جسے اپنے حقوق کا معلوم ہے۔
سارہ فلک لائف لائن کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ’فلک نے بہت اچھا کیا جو تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیا۔ ہر لڑکی کو فلک کی طرح ہونا چاہئے تاکہ ہر لڑکی اپنے لیے آواز اُٹھا سکے ، اب یہ ڈرامہ بہت دلچسپ ہو گیا ہے۔انسٹاگرام پر اریبہ ملک نامی صارف نے لکھا کہ ’ہونا بھی ایسے ہی چاہئے۔ سمجھتے کیا ہیں مرد اپنے آپ کو۔ لڑکیو! مضبوط رہو۔ لیکن کچھ صارفین نے ڈرامے کے اس سین پر اعتراض بھی اُٹھایا۔

Back to top button