جسٹن ٹوروڈو تیسری مرتبہ کینیڈین وزیراعظم منتخب

کینیڈا کے لبرل وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو سخت مقابلے کے بعد قدامت پسند امیدوار کو شکست دے کر تیسری مرتبہ منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے البتہ وہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ضبر رساں ایجنسی اے ایف کے مطابق گزشتہ ماہ ٹروڈیو نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ دونوں مرتبہ کی برعکس اس دفعہ انہیں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔

پانچ ہفتوں تک چلائی جانے والی مہم کے بعد یہ بات واضھ ہو چکی تھی کہ اس مرتبہ انتخابات میں کامیابی ٹروڈیو کے لیے گزشتہ دونوں مرتبہ کی نسبت اتنی آسان نہ ہو گی کیونکہ گزشتہ کچھ سالوں میں خصوصاً کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔انتخابات میں فتح کے بعد جسٹن ٹروڈیو نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ دے کر آپ نے لبرل ٹیم پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور روشن مستقبل کا انتخاب کیا۔ ہم کووڈ-19 کے خلاف جنگ جلد ختم کر لیں گے اور ہم ہر کسی کے لیے کینیڈا کو آگے کر جائیں گے۔

فتح کے بعد اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ ہمیں واضح مینڈیٹ دے کر دوبارہ اقتدار میں لائے ہیں تاکہ ہم اس وبا سے نمٹ کر آپ کو ایک روشن مستقبل دے سکیں اور ہم یہی کرنے کے لیے تیار ہیں۔49 سال جسٹن ٹروڈیو کو اس مرتبہ سخت انتخابی مزاحمت کا سامنا تھا لیکن اس کے باوجود وہ کامیابی کے حصول میں کامیاب رہے۔ چھ سال اقتدار میں رہنے کے بعد ٹروڈیو کی انٹظامیہ میں تھکاوٹ کے آثار نمایاں نظر آتے تھے اور ان کے لیے کینیڈا کے عوام کو قائل کرنا آسان نہ تھا کیونکہ 2015 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد وہ عوام کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہے تھے۔

انتخابات کے دوران پورا دن مختلف شہروں میں پولنگ اسٹیشن کے باہر عوام قطار میں کھڑے نظر آئے جن میں سے ایک ٹروڈیو کے ضلع مونٹریال میں ووٹ ڈالنے والے 73سالہ ڈگلس اوہارا بھی ہیں جو وزیر اعظم کی کارکردگی سے مایوس نظر آئے۔انہوں نے کہا کہ وبا کے سلسلے میں انہوں نے آدھا کام تو ٹھیک کیا لیکن ساتھ ساتھ یاد دہانی کرائی کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وبا کے خاتمے تک انتخابات نہیں ہوں گے لیکن جیسے ہی انہیں لگا کہ وہ اکثریت حاصل کر سکتے ہیں تو انہوں نے الیکشن کا اعلان کردیا، میرا ماننا ہے کہ انہوں نے ہم سے جھوٹ بولا۔

ریاست اوٹاوا کی 25سالہ ووٹر کائی اینڈرسن نے کہا کہ کینیڈا کا وبا سے نمٹنے کا طریقہ کار سے اہم مسئلہ تھا اور میرے خیال میں وبا کے حوالے سے وزیراعظم نے بہت اچھا کام کیا۔72سالہ لیز میئر بھی وزیراعظم اور ان کی انتظامیہ کے کاموں سے مطمئن نظر آئیں اور صحت کے بحران کے دوران حکومت کی مستقل مزاج پالیسی کی وجہ سے ٹروڈیو کی کامیابی کے لیے پرامید ںظر آئیں۔پارلیمانی اکثریت کے حصول کے لیے وزیر اعظم نے مقررہ مدت سے دو سال قبل ہی الیکشن کے انعقاد کا اعلان کردیا تھا۔وہ نومبر 2015 سے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور وہ پہلے لیڈر تھے جو لبرلز کو تیسرے نمبر سے پہلے نمبر تک لانے میں کامیاب رہے تھے۔

البتہ اس نئی حکومت میں لبرلز واضح اکثریت حاصل نہ کر سکے کیونکہ وہ 338نشستوں کے ایوان میں 170 نشستیں جیتنے میں کامیاب ناکام رہے اور اب انہیں ایک اتحادی حکومت تشکیل دینی پڑے گی۔قدامت پسند رہنما او ٹول نے منگل کو اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جسٹن ٹروڈیو کو کال کر کے انہیں مبارکباد دی البتہ ابھی حتمی نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

15 اگست کو انتخابات سے دو سال قبل ہی نئے الیکشن کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عوام سے سوال کیا تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ کووڈ-19 کے خلاف لڑائی ختم اور ملک کی بحالی کے لیے سب سے موزوں کون ہے۔البتہ 38روزہ انتخابی مہم کے بعد سامنے آنے والے ملے جلے نتائج اس بات کی عکاسی کررہے تھے کہ ایک اقلیتی حکومت کو اکثریتی حکومت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

Related Articles

Back to top button