کیا چیف الیکشن کمشنر بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں؟





باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزرا کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان پر بڑھتے ہوئے ذاتی حملوں کا جواب قانونی طریقے سے دینے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے جج کے اختیارات رکھتا ہے اور وہ ریڈ لائن کراس کرنے پر ہتک عزت کی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی جانب سے حالیہ دنوں میں چیف الیکشن کمشنر پر رکیک حملوں کے بعد دونوں وفاقی وزراء کو وضاحت کے لیے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں جن کا جواب آنے کے بعد دونوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں دونوں وفاقی وزراء بطور ممبر پارلیمنٹ نااہل بھی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ لہازا بہتر یہی ہوگا کہ وفاقی وزراء الیکشن کمیشن کے نوٹس کے جواب میں معذرت کر لیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے خلاف اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت بھی آخری مراحل میں ہے اور اس کا فیصلہ بھی آنے والا ہے جو حکومت کے لیے بڑی پریشانی کھڑی کر سکتا ہے۔ شاید اسی لیے حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان ماضی میں پنجاب اور وفاق میں مختلف سرکاری عہدوں پر کام کر چکے ہیں، اور انہوں نے دوران ملازمت کبھی دباؤ قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2020 میں جب سے وہ چیف الیکشن کمشنر تعینات ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن خبروں میں معمول سے زیادہ اِن ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن کا معاملہ، الیکشن کمیشن کا اختیار واضح طور پر دکھائی دیتا ہے، جو ماضی میں قدرے کم رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ان کے کئی معاملات پر اختلافات ماضی میں سامنے آتے رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ان پر وفاقی وزرا کی جانب سے شدید تنقید سے کشیدگی بڑھی ہے۔
بیوروکریسی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں سکندر سلطان پنجاب میں بیشتر عہدوں پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی جگہ تعینات ہوتے رہے ہیں۔ تب یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ فواد حسن اور سکندر سلطان میں بااثر اور بہترین سیکرٹری کا مقابلہ ہوتا رہا ہے۔
سکندر سلطان کے ساتھ کام کرنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اصولوں کی بنیاد پر صوبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ پنجاب میں کئی محکموں کے بااختیار سیکرٹری رہنے کے بعد وفاق میں بطور وفاقی سیکرٹری بھی کام کر چکے ہیں۔ ان کے دور میں کام کرنے والے اور سول سیکرٹریٹ کی بیٹ کرنے والے صحافیوں کے مطابق سکندر سلطان راجہ کو اصولوں سے ہٹانا بہت مشکل کام ہے۔ انہوں نے کئی بار مختلف منصوبوں اور افسران کی تقرریوں میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی رائے بھی دلیل سے تبدیل کروائی۔ انہیں کبھی سیاسی اثرات کے تحت فیصلے کرتے یا انہیں تبدیل کرتے نہیں دیکھا گیا۔ لہذا اگر وفاقی حکومت کا یہ خیال ہے کہ الزامات عائد کر کے سکندر سلطان کو ان کے موقف سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے تو ایسا ہونے والا نہیں۔
لاہور میں سول سیکرٹریٹ کی بیٹ کرنے والے صحافی خالد رشید کے مطابق انہیں پنجاب میں وہ جلال سکندر سلطان راجہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ 1999 میں سابق جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے دوران نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کو بھی ان کے خلاف بنائے گئے طیارہ سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کے ایک بھائی وصال فخر سلطان راجہ ایڈیشنل آئی جی پولیس پنجاب ہیں۔ ان دونوں بھائیوں کی شادی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری معروف بیوروکریٹ سعید مہدی کی بیٹیوں سے ہوئی ہے۔ خالد کے بقول: ’جلال سکندر سلطان راجہ بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ طیارہ سازش کیس میں گرفتار رہے اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے قریبی دوست رہے ہیں اور مقتدر حلقوں میں بھی اس خاندان کے قریبی تعلقات ہیں۔ اسی لیے جب وزیر اعظم  عمران خان کی جانب سے بطور الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا نام تجویز کیا گیا تو سیاسی حلقوں میں تاثر پیدا ہوا کہ حکومت نے شاید غلط فیصلہ کرلیا، جس کا اظہار اب وزرا کر بھی رہے ہیں مگر ان کی مدت ملازمت پانچ سال ہے۔‘ خالد رشید کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں زیر اثر لانے کی جتنی کوشش کرے گی، وہ کامیاب ہونے کی بجائے نقصان اٹھائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ پنگا ڈالنے کی ٹائمنگ بالکل بھی اچھی نہیں ہے کیونکہ اس وقت الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے جسکا اب فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید وزیراعظم کو فارن فنڈنگ کیس کے ممکنہ فیصلے کا اندازہ ہے اور اسے روکنے کی خاطر ہی چیف الیکشن کمشنر کو متنازع بنانا جا رہا ہے۔

Back to top button