کیا شوکت ترین تین ہفتوں میں سینیٹر بن پائیں گے؟





شوکت ترین کے لیے وزیر خزانہ کے طور پر برقرار رہنے کے لیے اگلے تین ہفتوں میں سینیٹر بننا لازمی ہے ورنہ وزیر اعظم عمران خان کو انکی تنزلی کر کے انہیں وزیر کے بجائے مشیر خزانہ لگانا ہو گا۔ آئین کے مطابق کابینہ کے کسی بھی وزیر کا منتخب ہونا ضروری ہے۔ کسی بھی غیر منتخب وزیر کو لگائے جانے کے بعد چھ ماہ کے اندر اس کا منتخب ہونا لازمی ہے۔ اگر ایسا نہ یو پایا تو انہیں بھی عبدالحفیظ شیخ کی طرح وزارت خزانہ سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے۔
دوسری جانب وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ڈیڈلائن سے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان انہیں سینیٹر بنوا دیں گے۔ تاہم ابھی اس حوالے سے سے کوئی عملی اقدامات ہوتے نظر نہیں آتے۔ لہذا بحثیت وزیر خزانہ شوکت ترین کا مستقبل اس وقت خطرے میں ہے۔
انہیں سینیٹر منتخب کروانے کی چھ ماہ کی ڈیڈ لائن 16 اکتوبر 2021 کو ختم ہورہی ہے۔ اگر تب تک حکومت انہیں سینیٹر منتخب نہیں کرتی تو پھر انکی تنزلی کر کے انہیں وزیراعظم کا مشیر برائے خزانہ بنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ اب تک کے تین برسوں میں پی ٹی آئی حکومت میں چار وزیر خزانہ تبدیل ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جارہے کیوں کہ انہیں وزیر اعظم عمران خان پر مکمل اعتماد ہے اور وہ انہیں سینیٹر منتخب کروا۔کر دم لیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ آئی ایم ایف/ عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے 12 اکتوبر، 2021 کو واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوں گے۔ اس لیے حکومت کو ان کی روانگی سے قبل ہی انہیں سینیٹر منتخب کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے شوکت ترین کو منتخب کرنے کے لیے مسلم لیگی اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ ختم کی تھی لیکن معاملہ عدالت میں چلا گیا۔ اب حکومت کو سندھ، پنجاب یا خیبر پختون خوا سے کوئی سیٹ خالی کرنا ہوگی، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ لیکن شوکت ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو اکتوبر کے ابتدائی دس روز میں سینیٹر منتخب کیا جا سکتا ہے اور یہ عمل بھی جلد شروع ہوگا۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم پرویز اشرف کے ساتھ شوکت ترین کے خلاف رینٹل پاور پراجیکٹ کا قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر تھے، جس میں سے احتساب عدالت نے انہیں بری کردیا تھا تاہم قومی احتساب بیورو نے اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ رینٹل پاور کیس میں راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کا الزام تھا۔نیب کا الزام ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے اس دور میں بطور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی جس سے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آخری سماعت کے موقعے پر شوکت ترین کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں ان کے خلاف نیب کی اپیل کو مسترد کرکے انہیں بری جائے۔ تاہم ابھی اس اپیل کا فیصلہ نہیں ہو پایا اور کہا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان شوکت ترین کو سینٹر بنوانے کے لیے کوئی طریقہ نہ نکال پائے تو پھر اس کیس کی آڑ میں بھی ان سے معذرت کی جا سکتی ہے۔

Back to top button