احسان اللہ احسان بارے فواد چوہدری کا دعویٰ فیک نکلا





پاکستانی میڈیا پر فیک نیوز چلانے کا الزام لگانے والے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا احسان اللہ احسان کے حوالے سے کیا گیا اپنا دعویٰ فیک ثابت ہوگیا۔ احسان اللہ احسان نے ایک آڈیو پیغام میں فواد اور شیخ رشید کی جانب سے اپنا فیس بک آئی ڈی جعلی قرار دینے کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے دونوں وزرا کو شرمندہ کردیا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے آڈیو پیغام میں وفاقی وزرا شیخ رشید اور فواد چوہدری کے اس موقف کی نفی کی ہے کہ پاکستان آنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دورہ پاکستان ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے احسان اللہ احسان کے نام سے ایک جعلی فیس بک آئی ڈی بنا کر انہیں داعش کے ممکنہ حملے سے ڈرایا گیا۔ احسان کا دعویٰ ہے کہ اس کی فیس بک آئی ڈی جینوئن ہے لہذا وفاقی وزراء غلط بیانی کر رہے ہیں۔
یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کرکٹ سیریز کو منسوخ کرنے کا فیصلہ نیوزی لینڈ حکام نے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک دھمکی کے بعد کیا جس کی تصدیق نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی حکام نے براہ راست احسان سے خود رابطے کے بعد کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار ہو جانے والے احسان اللہ نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو درپیش سکیورٹی خطرات کے حوالے سے اگست کے آخر میں ایک ٹویٹ پوسٹ کی تھی جسکی تصدیق کے لئے نیوزی لینڈ حکام نے احسان اللہ احسان سے خود رابطہ کیا اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ ان کے کرکٹرز پاکستان میں محفوظ نہیں ہوں گے، انہوں نے اپنی ٹیم کا دورہ منسوخ کرنے کا فوری فیصلہ کیا۔
تاہم 22 ستمبر کو دو وفاقی وزرا نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ احسان اللہ احسان کی جانب سے دھمکی آمیز پوسٹ دراصل ایک فیک یعنی جعلی فیس بک اکائونٹ سے کی گئی جس کا احسان سے کوئی تعلق نہیں اور اس سازش میں بھارت ملوث ہے۔
تاہم ‏احسان اللہ احسان نے 22 ستمبر ہی کو وزرا کی پریس کانفرنس کے جواب میں ایک آڈیو مسیج میں دعویٰ کیا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہے۔ احسان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ جس فیس بک اکاؤنٹ سے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو لاحق خطرات بارے پراپیگنڈہ کیا گیا وہ اسی کا ہے یعنی وہ کوئی فیک یا جعلی اکاؤنٹ نہیں۔ احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا کہ فواد چوہدری اور شیخ رشید غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں جو حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ احسان اللہ احسان نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کوئی دھمکی نہیں دی تھی بلکہ ایک کرکٹ فین ہونے کے ناطے انہیں خطرے سے آگاہ کیا۔ اسکا کہنا تھا کہ میں نے ایسا نیک نیتی کی بنیاد پر کیا اور مجھے خوشی ہے کہ میری وجہ سے کرکٹ کا نقصان نہیں ہوا۔
احسان اللہ احسان نے الزام لگایا کہ پاکستانی وزرا میرے بیان کو کسی سازش سے جوڑ کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ا ور روایتی طور پر انڈیا پر مدعا ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جو یہ دھائیوں سے کرر ہے ہیں۔ احسان نے کہا کہ وہ پاکستانی وزراء کے تمام تر دعوے مسترد کرتا ہے۔
یاد رہے کہ یاد رہے کہ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے فروری 2020 میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان فوجی تحویل سے فرار ہو کر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس دعوے کے چھ ماہ بعد اگست 2020 میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ احسان اللہ احسان کو ایک آپریشن میں استعمال کیا جا رہا تھا کہ اس دوران وہ فرار ہو گیا۔
24 فروری 2020 کو راولپنڈی میں غیر ملکی میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں میجر جنرل بابر افتخار نے پہلی مرتبہ ان خبروں کی تصدیق کی تھی کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل سے فرار میں چد فوجی اہلکار ملوث تھے جن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔یاد ریے کہ پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری لینے والے احسان اللہ احسان نے جنوری 2020 میں پشاور کے ایک سیف ہاوس سے فوج کی حراست سے فرار ہونے کے بعد فروری کے مہینے میں ایک آڈیو ٹیپ جاری کی تھی جس میں اس نے اپنے فرار کی تفصیل بتائی تھی۔ اس نے دعوی کیا تھا کہ وہ پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے 2017 میں رضاکارانہ طور پر خود کو انٹیلی جنس اداروں کے حوالے کیاتھا۔ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نے تین برسوں تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سکیورٹی اداروں نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔احسان نے دعویٰ کیا کہ ’ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوا۔ دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری 2020 کو بھاگنے میں کامیاب ہوا۔
پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیوزی لینڈ کے دورہ کرکٹ کی منسوخی ایسی سازش ہے جسکا مقصد پاکستان کو تنہا کرنا ہے۔ لیکن کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی کچھ حالیہ کارروائیوں نے منفی تاثر پیدا کیا، جس کی وجہ سے کرکٹ ٹیمیں دورہ منسوخ کرنے پر مجبور ہوئیں۔

Back to top button