عمران کے بعد بزدار کا بھی انفارمیشن دینے سے انکار





وزیراعظم عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ سے خریدے گئے قیمتی غیر ملکی تحائف کی تفصیلات کو خفیہ قرار دینے کے بعد اب پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے بھی اپنے زیراستعمال گاڑیوں کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس حوالے سے رازداری رکھنا ان کا حق ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر نے عثمان بزدار کی زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات جاری کرنے سے روکنے کے لیے قانونی رازداری’ کا دعویٰ کردیا دیا ہے۔ عثمان بزادار کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد اور ان کے ماڈلز سے متعلق معلومات مانگے جانے پر وزیر اعلیٰ ہاوس کا کہنا تھا کہ ‘پنجاب کے معلومات کے حق سے متعلق ایکٹ 2013 کی دفعہ 13 (ون) (بی) کے تحت ایسی معلومات کا تبادلہ نہیں کیا جاسکتا جو قانونی رازداری کے حق میں ہو’۔ چیف منسٹر کاوش کا موقف تھا کہ قانون کے سیکشن 13 (ون) (بی) کے مطابق جب تک متعلقہ شخص معلومات کی فراہمی پر رضامند نہ ہو، عوامی معلومات فراہم کرنے والے افسران ایسی معلومات تک رسائی سے انکار کر سکتے ہیں جس کی فراہمی قانونی رازداری کے مفاد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔
یاد رہے کہ لاہور کے معروف وکیل عبداللہ ملک نے حق معلومات قانون کے تحت جنوری 2021 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر سے عثمان بزدار کے زیراستعمال کاروں کی تفصیل مانگی تھی۔ لیکنوزیراعلیٰ کے دفتر نے پنجاب انفارمیشن کمیشن کے ذریعے نو ماہ بعد وکیل کے پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے انکار کے علاوہ کاروں کی لاگ بک کی کاپی دینے سے بھی انکار کردیا، جو استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات پر مشتمل ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے تسلیم کیا کہ بزدار حکومت کی جانب سے دسمبر 2020 تک 34 کروڑ 89 لاکھ روپے کے صوابدیدی فنڈز استعمال کیے گے۔ لیکن وزیر اعلی ہاوس نے وہ قانون بتانے سے انکار کیا جس کے تحت وزیر اعلیٰ نے یہ تمام صوابدیدی فنڈز استعمال کیے اور جن سے فنڈز کی حد واضح ہوتی ہو۔ شفافیت کے قانون کے تحت ‘قانونی ذاتی مفاد’ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلی کے دفتر نے کہا کہ درخواست گزار کو مذکورہ معلوم فراہم نہیں کی جاسکتیں اور اس حوالے سے رازداری رکھنا حکومت کا حق ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے اس سوال کا بھی جواب نہیں دیا کہ کن رولز کے تحت محکمہ خزانہ، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے لیے اضافی/ضمنی فنڈز مختص کرتا ہے اور سوال کو مبہم قرار دیا۔
چنانچہ وزیراعلی ہاوس سے انکار کے بعد وکیل عبداللہ ملک نے درکار معلومات کی عدم فراہمی کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا۔موقف ہے کہ وزیر اعلیٰ کی زیر استعمال گاڑیاں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی گئی ہیں اور انکے بارے میں جاننا دوام۔کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا دفتر پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 میں حاصل استثنیٰ کے تحت قانونی رازداری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے انفارمیشن کمیشن یہ قرار دے چکے ہیں زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات کی حامل لاگ بک صرف اس مفروضے پر جاری نہ کرنے اس دعوے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس سے کسی کی زندگی یا حفاظت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس مفروضے کی بنیاد پر معلومات کی فراہمی کے قوانین سے استثنیٰ نہیں لیا جاسکتا۔ انکا کہنا تھا کہ لاگ بک، سرکاری افسران کے اہل خانہ کی جانب سے گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال سے متعلق انکشاف کر سکتی ہے اور اس سے یہ انکشاف بھی ہوسکتا ہے کہ جو عہدیداران گاڑیاں استعمال کر سکتے ہیں وہ اس کا حق بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے زیر استعمال گاڑیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کرنا واضح طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
عبداللہ ملک کے مطابق منتخب نمائندوں کے مؤثر احتساب کے لیے یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ ان کے ٹیکس ان کے منتخب کردہ نمائندگان کی جانب سے کہاں خرچ کیے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم نے سرکاری توشہ خانہ سے خریدے گئے قیمتی تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا تھا اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت دائر کردہ ایک درخواست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی کی طرف سے اپنے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کے بعد سینیئر وکیل عبداللہ ملک نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button