مریم کے ایکسٹینشن کو گناہ قرار دینے پر نئی بحث شروع





مریم نواز کی جانب سے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے سے خود کو الگ کرنے کے بیان نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن میں اختلافات کی خبروں کو تقویت بخشی ہے۔
مریم نواز نے اگلے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے ’گناہ‘ میں شامل نہیں تھیں۔جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ان کی جماعت نے تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا تو اب وہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی کیوں مخالفت کر رہی ہیں، تو مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال کی مدت ملازمت کے بارے میں وہ تبھی تبصرہ کریں گی جب یہ معاملہ انکی جماعت کے سامنے آئے گا، لیکن میں ایکسٹینشن کے گناہ میں شامل نہیں تھی۔
بعدازاں ایک صحافی نے جب یہی سوال دہرایا تو مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ اسکا جواب دے چکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع کے لیے شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو راضی کیا تھا لیکن بعد ازاں ان کے خلاف حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں میں اور بھی تیزی آگئی جس کے بعد نواز شریف نے پی ٹی ایم کے جلسوں میں فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کے نام لے کر تنقید شروع کردی تھی۔ چنانچہ مریم نواز کا تازہ بیان مسلم لیگ نواز کے اندر دو مخالف بیانیوں کی کشمکش کے تاثر کو تقویت دیتا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اگست 2019 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین برس کی توسیع کر دی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اس ضمن میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت اس ضمن میں چھ ماہ میں قانون سازی کرے۔
جنوری 2020 میں پارلیمنٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی تھی۔ تب مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی سمیت پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں حکومت نے آرمی چیف کی توسیع کا کیس واپس سپریم کورٹ کو نہیں بھجوایا۔ جنرل باجوہ کی دوسری مدت ملازمت نومبر 2022 میں ختم ہو جائے گی۔
مسلم لیگ نون میں موجود مزاحمتی بڑے کا موقف ہے کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی حمایت کرنا ایک غلط فیصلہ تھا جس کا نتیجہ مزید سختیوں اور پابندیوں کی صورت میں سامنے آیا، جب کہ شہباز شریف اب بھی اپے مفاہمتی بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مریم نواز پہلے بھی اس حق میں نہیں تھیں کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے لیکن مزاحمتی بیانیے کی علامت سمجھے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر ہی ان کی جماعت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ مریم بھی خود کو مزاحمتی بیانیے کی علامت سمجھتی ہیں اس لیے بعض اوقات وہ اپنے والد سے بھی اختلاف کر جاتی ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی شہباز کی زیر قیادت مفاہمتی بیانیے کی حامی ہے جبکہ جماعت کی تنظیمی اُمور کی نگرانی کرنے والے نواز شریف اور۔مریم۔کی زیر قیادت مزاحمتی بیانیے کی حامی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ لوگ اس جماعت کو ووٹ نواز شریف کے نام پر ہی دیتے ہیں۔
تاہم مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت میں دو بیانیے نہیں ہیں بلکہ ایک ہی بیانیہ ہے تاہم یہ لوگوں پر ہے کہ وہ اس بیانیے کو کس تناظر میں لیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا بیانیہ صرف ووٹ کو عزت دینا اور اقتدار عوام کے نمائندوں کے حوالے کرنا ہے۔ انھوں نے آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں کوئی ایسا کام ہوا ہے جس کو شاید پسندیدہ کی کیٹگری میں تو نہیں لیا جا سکتا تو ضروری نہیں ہے کہ اس کو دوبارہ دہرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اداروں سے ٹکراؤ کے حق میں نہیں ہے اور ان کی جماعت کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جائے اور بااثر اداروں کا اثر و رسوخ ختم کر کے سویلین بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

Back to top button