صدارتی آرڈیننس سے ٹیکس قوانین کا نفاذ غیر آئینی قرار





کپتان حکومت کی جانب سے حال ہی میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس قوانین کے نفاذ کی شدید مخالفت کہ جا رہی ہے اور عوام اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدارتی آرڈیننس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاست کا پہلا کام ٹیکس جمع کرنا اور ان کی بنیاد پر نظامِ مملکت کو مرتب کرنا ہے۔ مگر اس کے لیے ایک نظام وضح کیا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری ریاست میں ٹیکس عائد کرنے کا حق عوامی نمائندوں کو حاصل ہے اور وہی ٹیکس عائد کرسکتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی جمہوری نظام رائج ہے وہاں ٹیکس کسی حکم نامے کے ذریعے عائد نہیں کیا جاتا۔ تاہم ہائبرڈ نظام کے تحت چلنے والے پاکستان میں اب یہ نئی روایت بھی ڈال دی گئی ہے کہ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مہنگائی سے پسنے والے عوام پر مزید ٹیکس نافذ کر دیئے جائیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان قوانین کا نفاذ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسلیے کیا کہ پارلیمنٹ سے ان کی منظوری حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ صدارتی آرڈیننس میں ایسے راستے ہموار کیے گئے ہیں جن کے ذریعے مخصوص مقدمات کو کھولا جاسکے گا اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کو نئے ٹیکسوں سے قابو کیا جائے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈمی صدر صدر عارف علوی کے ارڈینینس نے اب ٹیکس گزاروں کو نیب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یاد رہے کہ نیب کا قیام بظاہر سرکاری اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا مگر اسے اب سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آرڈینینس کے بعد نیب اب حکومت کے سیاسی مخالفین کو ٹیکسوں کے معاملات میں بھی ہراساں کرنا شروع کر دے گا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر زبیر طفیل کا کہنا ہے کہ سال 2020ء کی آخری سہ ماہی میں ان کی قیادت میں تاجروں اور صنعت کاروں نے چیئرمین نیب سے ملاقات کر کے کہا تھا کہ نیب کا کام سرکاری کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے۔ وہ ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہ کرے جس پر نیب نے انکم اور سیلز ٹیکس سے متعلق سیکڑوں مقدمات نیب سے ایف بی آر کو منتقل کردیے تھے۔ لیکن اب حکومت نے ٹیکس گزاروں کو نیب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
صدارتی آرڈیننس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو مقدمات 20 سال قبل بند ہوچکے ہیں، اب ان پر بھی تحقیقات کی جاسکے گی۔ اس حکومتی فیصلے کی وجہ سے ٹیکس گزاروں میں خوف پایا جاتا ہے۔ زبیر طفیل کے مطابق ایف بی آر کا قانون کہتا ہے کہ صرف 6 سال کا ریکارڈ پاس رکھا جائے، ایسے میں نیب کو 20 سال پُرانے ٹیکس مقدمات کا اختیار دینا سمجھ سے باہر ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ قانون سیاسی انتقام کا ایک اور ہتھیار بن جائے گا۔ یہ بھی واضح رہے کہ اگر 20 سال پُرانے مقدمے کھولے گئے تو کسی بھی ادارے کے لیے اس سے متعلق ریکارڈ پیش کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ایف بی آر قانون کے تحت ٹیکس ریکارڈ 6 سال تک محفوظ رکھنا لازمی ہے۔
علاوہ ازیں، اب نیب کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ٹیکس دہندگان سے متعلق ڈیٹا تک رسائی بھی فراہم کردی گئی ہے۔ اب اگر نیب نے بین الاقوامی سطح پر ڈیٹا کو استعمال کرنے کا عمل شروع کیا تو خدشہ ہے کہ پاکستان کو لینے کے بجائے دینے پڑجائیں گے۔
حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ بہتر تو یہ تھا کہ جس طرح بے نامی قانون کے تحت ایف بی آر میں بے نامی زون بنایا گیا ہے اسی طرح اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور اس پر قانون کے مطابق عمل کروانے کے لیے ایف بی آر میں الگ سے زون یا سیل قائم کیا جاتا، بجائے اس کے کہ ڈیٹا تک نیب کو رسائی دی جاتی کیونکہ اس عمل کی لپیٹ میں بہت سے چھوٹے چھوٹے فری لانسرز اور یوٹیوبرز بھی آسکتے ہیں کیونکہ اگر ان کی کوئی بھی ویڈیو امریکا میں دیکھی گئی ہو تو اس پر امریکا میں
ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ نئے صدارتی آرڈیننس میں حکومت نے پارلیمانی ممبران کے ساتھ ساتھ اب سرکاری افسران کو بھی اپنے ٹیکس گوشوارے ظاہر کرنے کا حکم دے دیا ہے لہٰذا اب سرکاری افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا پڑیں گے۔ قانون کی اس شق پر ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کے ٹیکس گوشوارے تو پہلے ہی ظاہر ہوتے ہیں، اب حکومت سرکڑی افسران کو بھی اسی چھنی سے چھاننے کی خواہاں ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ ٹیکسوں کے حوالے سے حکومت نے جو آرڈیننس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ جمہوری رویہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت کو اتنے سخت قوانین لانے تھے تو ان کو بجٹ پیش کرتے وقت سامنے لانا چاہیے تھے لیکن عوامی غیض و غضب سے بچنے کے لیے چند ماہ بعد صدارتی آرڈیننس سے یہ کام کیا گیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے فورم کو نظرانداز کرنا اور عوامی نمائندوں کو ٹیکس کے حوالے سے رائے کا اظہار کرنے اور قانون پر غور کرنے کا موقع نہ دینا کسی طور پر بھی جمہوری رویہ نہیں ہے۔ اس انداز میں ٹیکس کا نفاذ ملک میں بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔ عوام پہلے ہی معاشی حالات کی وجہ سے پریشان ہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت گیر ٹیکس قوانین جلتی پر تیل کا کام کر سکتے ہیں۔

Back to top button