فواد کا انڈین یوٹیوبر پر الزام مذاق کا نشانہ کیوں بنا؟





وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو دھمکی آمیز پیغام بھیجنے کے لیے بھارتی ڈیوائس اور ای میل آئی ڈی استعمال کرنے کا دعوی سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گیا ہے کیونکہ انہوں نے جس اوم پرکاش مشرا پر یہ حرکت کرنے کا الزام لگایا ہے وہ انڈیا میں ایک معروف یوٹیوبر اور ریئلٹی شو سٹار کے طور پر مشہور ہیں جو گانے بھی گاتا ہے۔ بھارت میں ریپ کنگ کہلانے والا اوم پرکاش مشرا خود پر لگے الزام کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے اور ہر طرف اسکا نام اور تصویر گردش میں یے۔ چنانچہ مشرا نے خود کو وائرل کیے جانے پر پاکستانی وزیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ لیکن اس نے فواد کے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ انڈین سوشل میڈیا صارفین بھی فواد کے دعوے کو بالکل سنجیدگی سے لیتے دکھائی نہیں دے رہے اور وہ اس حوالے سے مزاحیہ میمز بنا رہے ہیں۔
اوم پرکاش مشرا کے کچھ گانوں کی بدولت انھیں عام لوگوں کی طرف سے ’انڈین طاہر شاہ‘ کا خطاب بھی دیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ طاہر شاہ بیرون ملک مقیم ایک پاکستانی گلوکار ہیں جو عجیب و غریب گانے بنانے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یاد رہے کہ فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دھمکی آمیز پیغامات انڈین اکاؤنٹس سے موصول ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ اکثر آئی ڈیز اور ای میلز ہندی ناموں پر بنائی گئی ہیں جیسے ’فلموں، ڈراموں اور میوزک کے ناموں پر۔‘ان کا کہنا تھا کہ جس موبائل ڈیوائس سے یہ اکاؤنٹ آپریٹ کیے گئے وہ اگست 2019 میں انڈیا میں لانچ کی گئی اور موبائل سِم 25 ستمبر 2019 کو رجسٹر ہوئی۔ اور اس کے واحد صارف کی بھی تشخیص کر لی گئی ہے۔
فواد کے مطابق نیوزی لینڈ کو دھمکی آمیز پیغام بھیجنے کے لیے جو ڈیوائس استعمال کی گئی وہ انڈیا سے چلائی جا رہی تھی اور اس کے پیچھے ’اوم پرکاش مشرا ہیں، جو مہاراشٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔‘ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں ان دھمکیوں کے لیے استعمال ہونے والی ڈیوائس کو اوم پرکاش مشرا کی ملکیت ظاہر کیا گیا اور تصویر اس نام کے انڈین یوٹیوبر کی استعمال کی گئی۔ فواد نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں دھمکی دی گئی کہ ’ان کے خاوند کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس پر ہم نے تحقیق کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ای میل کسی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے جڑی نہیں تھی۔ ای میل اکاؤنٹ 21 اگست کو رات ایک بج کر پانچ منٹ پر بنایا گیا اور صبح 11 بجے کے قریب مارٹن گپٹل کی بیوی کو ای میل بھیجی گئی۔ اس اکاؤنٹ سے اب تک ایک ہی ای میل بھیجی گئی ہے۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر معلومات کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ممکنہ طور پر اس ای میل آئی ڈی کے صارف ممبئی کے اوم پرکاش مشرا ہیں۔ اسکے بعد اوم پرکاش مشرا کا نام اور تصویر دکھاتے ہوئے فواد نے اس پر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو ملنے والی دھمکیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ مگر اس نام اور تصویر کو دیکھ کر تشویش ظاہر کرنے کے بجائے انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین اس کے ردعمل میں مزاحیے میمز بنا رہے ہیں۔ جس اوم پرکاش مشرا کی تصویر فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں دکھائی ہے وہ انڈیا میں ایک یوٹیوبر اور ریئلٹی شو سٹار کے طور پر مشہور ہیں۔
سنہ 2016 کے دوران وہ انڈیا میں اپنے ایک گانے سے مشہور ہوئے تھے۔ ’آنٹی کی گھنٹی‘ نامی ان کا گانا چند سال قبل وائرل ہوا تھا جس کے ابتدائی الفاظ ’بول نہ آنٹی آؤں کیا، گھنٹی میں بجاؤں کیا‘ ہیں۔ اس گانے پر اب تک 68 لاکھ ویوز آ چکے ہیں اور یہ ان کے دیگر گانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ سُنا اور دیکھا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ وہ انڈین آئیڈل اور ایم ٹی وی ایس آف سپیس جیسے ریئلٹی شوز میں نظر آچکے ہیں۔
اوم پرکاش یوٹیوب پر خود کو ’ریپ کنگ‘ کے نام سے پکارتے ہیں جبکہ ان کے گانوں پر ان کا موازنہ ڈھنچک پوجا اور پاکستانی سنگر طاہر شاہ سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ بعض صارف تو انھیں ’انڈین طاہر شاہ‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان الزامات کے ردعمل میں اوم پرکاش مشرا محض اسی بات پر کافی خوش دکھائی دیتے ہیں کہ گذشتہ روز سے ان کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔
ان سے منسوب انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ان کی متعدد ویڈیوز لگائی گئی ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ‘ایک نام نے پورے پاکستان کو ہلا دیا۔’ جبکہ ایک دوسری ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے فخر ہے۔ ٹوئٹر پر تمھارا بھائی ٹرینڈ کر رہا ہے۔’
بھارت میں ریپ کنگ کہلانے والا اوم پرکاش مشرا خود پر لگے الزام کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے اور ہر طرف اسکا نام اور تصویر گردش میں یے۔ چنانچہ مسرا نے خود کو وائرل کیے جانے پر پاکستانی وزیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ فواد کے ان دعوؤں کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک پر ’اوم پرکاش مشرا‘ ٹرینڈ کر رہے ہیں، اور ان کا نام گذشتہ روز سے بار بار سرچ کیا جا رہا ہے۔ ٹوئٹر پر شوبھانگی شرما نامی صارف نے ان کی ایک تصویر شیئر کی ہے اور اس پر لکھا ہے کہ ’پاکستان نے انڈین یوٹیوبر اوم پرکاش مشرا پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے پاکستانی کرکٹ کو تباہ کر دیا۔‘ اس نے لکھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دھمکی آمیز پیغامات کے حوالے سے پاکستانی اداروں نے ان کا نام اور تصویر استعمال کی ہے۔
رجنیش چوہدری نے مزاحیہ انداز میں کہا ’اوم پرکاش مشرا کا اگلا گانا یہ ہونا چاہیے کہ ’بول نہ پاکستان، ای میل بھیجوں کیا؟‘ سرمد نے تبصرہ کیا کہ ہر وہ انڈین جس نے اوم پرکاش مشرا کے بُرے گانوں پر ان کا مذاق اڑایا آج وہ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ مگر فوٹوشاپ کے ذریعے ان کی ایسی تصاویر بھی شائع کی جا رہی ہیں جن میں وہ عالمی رہنماؤں کو مشورے دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک تصویر میں وہ امریکی صدر جو بائیڈن کو حکمرانی کے گُر بتاتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری میں ان کے ساتھ روسی صدر ولادی میر پوتن کی بات چیت چل رہی ہے۔ ادھر فوٹوشاپ کی ایک تصویر میں تو انھیں انڈیا میں صدارتی ایوارڈ وصول کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

Back to top button