چین نے بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی سے صاف انکار کر دیا





حکومت پاکستان کی جانب سے چینی حکام کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور یہ طے کیا گیا ہے کہ ماضی میں کیے گئے بجلی کی پیداوار کے معاہدوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ تین برس پہلے اقتدار میں آنے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف رہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے غیر ممالک، خصوصا چین کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کے جو معاہدے کیے تھے وہ کافی مہنگے تھے جن پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔
کپتان حکومت کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ عوام کو اندھیرے میں رکھ کر غیر حقیقی معاہدے کیے گئے اور ان معاہدوں کے ذریعے پاور سیکٹر کو گروی رکھ دیا گیا۔  موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ سی پیک کے تحت لگنے والے بجلی کے منصوبے مہنگا ترین قرضہ ہے۔ چینی کمپنیز نے پاکستان میں پاور پلانٹ لگانے کیلئے چینی بنکوں سے جو قرضہ لیا اس پر 4.5 فی صد انٹرسٹ ریٹ کا بوجھ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پاکستانی عوام سے وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ قرضہ ڈالرز میں ہونے کی وجہ سے شرح سود شرح دگنی ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے بجلی کی قیمت بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
چنانچہ کپتان حکومت پچھلے تین برس سے یہ دعوے۔کر رہی تھی کہ وہ ہر صورت ماضی میں پاور پروڈیوسنگ کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے حکومتی معاہدوں پر نظر ثانی کر کے رہے گی۔ تاہم اب اس حوالے سے مذاکرات ناکامی کا شکار ہوگئے ہیں اور چینی پاور پروڈیوسرز نے معاہدوں پر نظر ثانی سے انکار کر دیا ہے۔
23 ستمبر کو اسلام آباد میں پاک چائنا سی پیک مشترکہ رابطہ کمیٹی کے ایک اعلی سطحی اجلاس کے چین نے پاور سیکٹر کے معاہدوں سے متعلق ٹیرف اور ٹیکس کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی کرنے سے صاف انکار کر دیا اور پاکستان پر واضح کیا کہ اگر وہ سی پیک اور داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جیسے منصوبوں پر چینی کمپنیوں سے کام جاری رکھوانا چاہتا ہے تو اسے 14 جولائی کو داسو بس سانحے کے حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ داسو میں چینیی انجینئیرز کی بس کو ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا جس سے نو انجینئرز ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کو دو ماہ ہو چکے لیکن چینی کنسٹرکشن کمپنیوں نے ابھی تک داسو پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع نہیں کیا۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 ستمبر کے پاک چین سی پیک رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں نہ تو حکومت پاکستان چینی حکام کو بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی کے لیے راضی کر سکی اور نہ ہی 6 ارب ڈالر سے زیادہ کے مین لائن ریلوے ٹریک ایم ایل-1 کے انتظامات کو حتمی شکل دی جاسکی۔ اس حوالے سے صنعتی تعاون پر ایک فریم ورک معاہدہ طویل عرصے سے زیر التوا ہے جس پر تازہ ترین اجلاس میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ 23 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں چینی حکام نے حکومت پاکستان پر واضح کیا کہ ماضی میں کیے گئے معاہدوں میں کسی بھی قسم کا رد و بدل حکومت پاکستان کو بھاری پڑ سکتا ہے کیونکہ بین الاقوامی قوانین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ یاد رہے کہ اس وقت پاکستان پر چینی پاور کمپنیوں کے ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز یعنی 230 ارب روپے واجب الادا ہیں جس پر وہ سیخ پا ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے چینی حکام کو ماضی میں کیے گئے پاور معاہدوں پر نظر ثانی کی تجویز نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یوں اس معاملے پر چین اور پاکستان کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کے جو معاہدے ہوئے تھے وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کو قانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو پاور کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوں سے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ تصفیے کے عالمی ادارہ میں بھی جا سکتی ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی تصفیے کی عدالت میں ریکوڈک کیس اور ترکی کی پاور کمپنی’ل کارکے کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ ایسے مین اگر پاور معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو کمپنیاں پاکستان کے خلاف عدالت میں چلی جاتیں لہذا پاکستان نے معاہدوں پر نظر ثانینخے لیے چینی حکام کی منت کی جو رائیگاں گئی۔

Back to top button