نواز شریف کی ویکسی نیشن سے حکومتی ساکھ پر سوال اٹھ گئے





لندن میں قیام پذیر سابق وزیراعظم نواز شریف کی سرکاری کاغذوں میں لاہور میں موجودگی دکھا کر انہیں ویکیسن لگائے جانے کے واقعے نے حکومت پاکستان کی ساکھ اور ویکسینیشن کے عمل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دئیے ہیں۔
خیال رہے کہ 22 ستمبر کے روز نواز شریف کو کرونا ویکیسن لگائے جانے کے تصدیق شدہ میسجز کے سکرین شارٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ ویکسین 22 ستمبر 2021 کو لاہور کے ایک ہسپتال میں لگائی گئی تھی۔ نواز شریف کے شناختی کارڈ کی تفصیل بھیجنے پر معلوم ہوتا ہے کہ کرونا ویکسین، کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں لگائی گئی۔ اس ریکارڈ کے مطابق نواز شریف کو سائنو ویک ویکسین 22 ستمبر کو شام چار بج کر چارمنٹ پر لگائی گئی جبکہ انہیں دوسری ڈوز کے لیے 20 اکتوبر کو بُلایا گیا ہے۔ حیران کن طور پر نوازشریف کی ویکسی نیشن کوٹ خواجہ سعید اسپتال میں کی گئی تاہم چونکہ نواز شریف طویل عرصے سے لندن میں ہیں لہٰذا یہ ممکن نہیں تھا کہ انہیں ویکسین لگائی گئی ہو۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور مریم نواز نے اسے عمران خان کی جعلی حکومت کا ایک اور جعلی کارنامہ قرار دیا ہے جس سے اس کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ لاہور کے کوٹ خواجہ سعید اسپتال میں کورونا ویکسی نیشن ڈیٹا کا اندراج دراصل چوکیدار اور وارڈ بوائے کے ذمے تھا کیونکہ اسپتال میں نگرانی کا فقدان تھا اور سرے سے ویکسی نیشن سینٹر میں کوئی سینیئر اسٹاف تعینات ہی نہیں کیا گیا تھا۔ لندن میں موجود نواز شریف کو لاہور میں ویکسین لگنے کے معاملے پر پنجاب حکومت کی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی ہے جس میں افسران سمیت نو اہلکاروں کو فوری معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کرونا ویکسینیشن ڈیٹا کا اندراج چوکیدار اور وارڈ بوائے کرتے رہے، اسپتال کے چار ملازمین نے نواز شریف کا ڈیٹا درج کرنے کا اعتراف کیا، اسپتال میں نگرانی کا فقدان تھا جس وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا، سینٹر میں کوئی سینیئر اسٹاف تعینات نہیں کیا گیا تھا، ڈیٹا اندراج کا اختیار اسپتال انتظامیہ نے وارڈ سرونٹ اور چوکیدار کو دیا تھا۔ نوازشریف کی جعلی ویکسی نیشن اینٹری پر ایکشن لیتے ہوئے لاہور کے کوٹ خواجہ سعید اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم اور سینیئر میڈیکل افسر ڈاکٹر منیر کو معطل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جعلی اینٹری میں ملوث اسپتال کے تین ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کرلیے گئے ہیں اور دو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نواز شریف کی جعلی کرونا ویکسی نیشن انٹری پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے اور پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کرلیے ہیں۔ ایف آئی اے سائبرکرائم کے مطابق چوکیدار ابوالحسن اور وارڈ بوائے عادل نے نواز شریف کی جعلی انٹری کے لیے ایک تیسرے ملازم نوید کی آئی ڈی استعمال کی تھی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد این سی او سی حکام نے نواز شریف کو لاہور میں ویکسین لگنے کی خبر کے بعد سسٹم میں ڈیٹا اپڈیٹ کر دیا تھا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس خبر بارے لوگوں نے طنز و مزاح شروع کر دیا ہے۔ ایک صارف فاطمہ کامران نے یوں کمنٹ کیا کہ حکومت کا نواز شریف کو کرارا جواب۔۔۔ انہوں نے لکھا کہ اب آپ بغیر بیماری کے باہر جا سکتے ہو؟ تو ہم بھی بغیر حاضری کے ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ فیصل بٹ نامی صارف کا کہنا تھا ’ یہی تبدیلی ہے۔ فرضی سکولوں، فرضی ملازمین کے بعد ہمارے ہاں فرضی ویکسینیشن بھی ہے۔ احمد حسین نامی صارف نے بھی صورتحال کو مزاح کا رنگ دیا ’یہ تھوڑے دن پہلے کسی نے کہا تھا نواز شریف واپس آ رہے ہیں شاید ویکسین لگوا کے واپس چلے گئے‘۔

Back to top button