نیوزی لینڈ کی ٹیم کو بھگانے میں احسان اللہ کا مرکزی کردار تھا





معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان سے بھگانے میں سب سے منفی اور مرکزی کردار تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے ادا کیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے آخری لمحات میں، کسی پیشگی اطلاع کے بغیر یک طرفہ طور پر پاکستان سے کرکٹ سیریز منسوخ کرنے کے فیصلے نے جہاں پاکستانی کرکٹ شائقین کو مشتعل کردیا وہیں دنیا بھر میں کرکٹ مبصرین حیران رہ گئے۔
فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم، جسینڈا آرڈن سے ٹیم نیوزی لینڈ کی واپسی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست بھی کی لیکن اُنہوں نے دوٹوک انداز میں انکار کردیا۔ درحقیقت اس فیصلے کا با عث بننے والی دھشت گردی کی مبینہ دھمکی سے بھی اسلام آباد کو آگاہ نہ کرنا اور صرف یہ کہنا کہ ”فائیو آئیز“ یعنی نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، امریکا، برطانیہ اور جاپان پر مشتمل انٹیلی جنس گروپ کو اس دھمکی کا علم ہے، بھی پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔
تاہم واقعے کے چار دن بعد 22 ستمبر کو نیوز ی لینڈ انٹرپول نے انکشاف کیا کہ اُنہیں 18 ستمبر کو کسی ”HamzaAfridixxx“ کی ای میل موصول ہوئی تھی۔ اس نے خود کو تحریک لبیک کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے نیوزی لینڈ ٹیم پر ممکنہ دھشت گرد حملے کی تصدیق کی تھی۔ حکومت پاکستان کا اصرار ہے کہ اس بارے کوئی ٹھوس دھمکی موجود نہیں تھی۔  مہمان ٹیم کو وہی سکیورٹی فراہم کی جارہی تھی جو صدر مملکت کو فراہم کی جاتی ہے۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ تحقیقات کے مطابق مذکورہ ای میل کے ذرائع بھارت میں ہیں اور اس کا تعلق ”ففتھ جنریشن وار“ سے ہے۔ میڈیا کے ذریعے ٹیموں کو دھشت گردی کے خطرے سے خبردار کیا جاتا ہے تاکہ وہ پاکستان کا دورہ کرنے سے گریز کریں۔ پاکستان کو شدت پسند رویے رکھنے والے ایک ”ابنارمل“ ملک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے بھی مردوں اور خواتین کی ٹیموں کے پاکستان دورے کی منسوخی کا اعلان کردیا۔ یہ دورہ اگلے ماہ ہونے جارہا تھا۔ اس کے لیے اپنے کھلاڑیوں کی ”ذہنی اور جسمانی صحت“ کو جواز بنایا گیا۔ یہ فیصلہ بزدلانہ بھی ہے اور منافقانہ بھی۔ پاکستان نے حال ہی کوویڈ کی انتہائی سخت پابندیوں کے باوجود نیوزی لینڈ اور انگلینڈ، دونوں کا دورہ کیا۔ اس سے دونوں میزبان ممالک کو مالی فائدہ ہوا۔ اس کے جواب میں ویسی ہی حمایت اور شائستگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تھا۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ تحریک طالبان کے سابق ترجمان، احسان اللہ احسان نے بھی پاکستان کا کھیل بگاڑ دیا۔ اس نے اپنے فیس بک پیج پر تحریک طالبان کی طرف سے دھمکی کو مستند قرار دیا۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے اس کے فیس بک پیج کو جعلی قرار دیا لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہا اور اس حوالے سے ایک آڈیو پیغام میں تصدیق کی کہ یہ میسج اسی نے ڈالا تھا۔
نجم سیٹھی بتاتے ہیں کہ بد قسمتی سے میچ سے چند دن پہلے حکومت پنجاب کی طرف سے دو تھریٹ ایڈوائزریز جاری ہوئیں جن کے مطابق نیوزی لینڈ سیریز کی سکیورٹی خطرے میں تھی۔ اس نے مہمان ٹیم کے خدشات بڑھا دیے۔ چوں کہ ”فائیو آئیز“ کی معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا، ہم فرض کرسکتے ہیں کہ نیوزی لینڈ نے میڈیا میں کئی ایک خبریں اور اعلانات پڑھ کر حملے کا خطرہ مول لینے کی بجائے احتیاط کا دامن تھامنا بہتر سمجھا۔ اگر نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو کوئی گزند پہنچتی تو وزیر اعظم آرڈن کو ملک میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔
سیTھی کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا غصہ اور مایوسی قابل فہم ہے۔ 2009 ء میں جب لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دھشت گردی کا حملہ ہواتو اس کے بعد عالمی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکارکردیا۔ کرکٹ کے شائقین کی ایک پوری نسل عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کو اپنے میدانوں میں کھیلتے دیکھنے کی خوشی سے محروم رہی ہے۔ غیر ملکی دورے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ آمدنی کے خاطر خواہ ذرائع سے بھی محروم رہا۔ فنڈز کی قلت کی وجہ سے کرکٹ کے ملکی ڈھانچے کو ترقی نہ دی جاسکی۔
دراصل کرکٹ کے حوالے سے پاکستان کے لیے 2015-2018  میں برف پگھلنا شروع ہوئی جب زمبابوے، سری لنکا، آئی سی سی الیون اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کو لاہوراور کراچی میں کھیلنے کے لیے راضی کیا گیا۔ ہر گزرتے برس صورت حال میں بہتری آرہی تھی یہاں تک کہ دنیا کی چوٹی کی ٹیموں کے دوروں کا بھی امکان پیدا ہوچلا تھا۔لیکن اب ہمیں یہ سفر پھر سے شروع کرنا ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر نیوزی لینڈ بروقت معلومات کا تبادلہ کرتا، یا چند دنوں کے لیے میچ کو ملتوی کردیا جاتا تو ممکن ہے کہ دھمکی کی اطلاع کے مستند یا بے بنیاد ہونے کی تحقیقات کرلی جاتیں۔ نتائج کی روشنی میں میچ جاری رکھنے یا ختم کرنے کافیصلہ کسی تلخی کے بغیر کرلیا جاتا۔ اس صورت حال میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا فیصلہ مزید اشتعال انگیز ہے۔ بیان کردہ جواز قواعد وضوابط اور کھیل کی روح کے منافی ہے۔ یہ خیر سگالی کے برعکس جارحانہ ڈھٹائی کا برملا اظہار ہے۔ ان دونوں فیصلوں نے پاکستانیوں کی نوآبادیاتی دور کی تلخ یادوں کو تازہ کرنے کے علاوہ سازش کی تھیوریوں کو نئی زندگی دی ہے۔ ان سے ”بگ تھری“ کی انصافی اور آئی سی سی پر بھارتی بالادستی کا تاثر گہرا ہوتا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا ردعمل بھی تحمل کی بجائے غصے کی تلخی سے لبریز تھا۔ اس نے نیوزی لینڈاور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو آن بورڈ لینے کی بہت کوشش کی تھی۔ اس کے بعد آسڑیلیا، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کو بھی آنا تھا۔ لیکن اس کے نئے چیئر مین ابھی کرسی پر بیٹھے ہی تھے کہ غصے سے اچھل پڑے۔ عوام اور حکومت کی طرف سے قوم پرستی کے نعروں کے دباؤ میں آتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی کچھ غیر حقیقی اقدامات کا اعلان کرڈالا، جن میں ایشیائی بلاک کی تشکیل سے لے کر مالی وسائل اورترغیب میں بگ تھری کا مقابلہ کرنا شامل تھا۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ بہتر ہوتا اگر پی سی بی فوراً  انگلینڈ کرکٹ بورڈ سے رجوع کرتے ہوئے مزید تحقیقات تک فیصلہ موخر کرنے کا کہتا کیوں کہ انگلینڈ کا دورہ ابھی کئی ہفتوں بعد ہونا تھا۔ حقیقت پسندی اور مثبت پیش رفت کی بجائے قومی سیاست میں روارکھی جانے والی نعرے بازی کبھی بھی فائدہ مندثابت نہیں ہوتی، چاہے یہ جذباتی طور پر کتنی ہی طمانیت بخش کیوں نہ ہو۔ انکا کہنا ہے کہ فوری طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ آئی سی سی سے رابطہ کرتے ہوئے وعدہ خلافی کرنے والے دونوں بورڈز سے اپنے مالی نقصان کی تلافی طلب کرے۔ کرکٹ کے طے شدہ دورے سے انکار کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی خوف اور خدشے کے بغیر جلد از جلد پاکستان کے بڑے اور بھرپور دورے کریں گے۔ ان کی سکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے۔وہ ہم پر اسی طرح اعتماد کریں جس طرح ہم بیرونی دورے کرتے ہوئے اُن پرا عتماد کرتے ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا اور دیگر ٹیموں کو بھی اُن کے آنے والے دوروں پر تحفظ کی یقین دہانی کرائی جائے۔

Back to top button