عورت کو جب بھی کوئی ہراساں کرے تو معاشرے کو کھڑا ہونا چاہئے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مینار پاکستان میں ہراسانی کے واقعے کے دوران مردوں کی بے حسی کا غم ہے ، عورت کو جب بھی کوئی ہراساں کرے تو معاشرے کو کھڑا ہونا چاہئے ۔

خواتین کے تحفظ کے حوالے سے منعقد ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ انسانی حقوق پر دنیا ہمیں ںصیحت کرتی ہے لیکن وہ 100 مہاجرین کو پناہ دینے میں تیار نہیں ہے ۔

 ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا  کہ گزشتہ دنوں دنیا میں جو ظلم ہوا ہے اس کے بعد مجھے یقین ہے کہ مغرب میں کوئی روشن خیالی، اخلاقیت نظر نہیں آئے گی لہٰذا مجھے اپنی وراثت میں جانا پڑتا ہے جو ہماری سوچ، عقل اور مذہب کی وراثت ہے اور میں جتنا پڑھتا ہوں مجھے نظر آتا ہے کہ اصل راہ وہی ہے، مغرب انسانی حقوق کی صرف باتیں ہی کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا ۔

 صدر مملکت  نے کہا کہ اسلام نے ہمیشہ ہی وحدانیت کے ساتھ معاشرے میں امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا اور عورت کو سب سے پہلے وراثت میں حصہ دینے سمیت دیگر حقوق اسلام نے ہی دیئے۔قائد اعظم کی تمام تصاویر میں ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں اور انہوں نے اس قدامت پسند معاشرے میں بھی بتا دیا تھا کہ عورت کا مقام یہ ہے کہ وہ ساتھ ساتھ رہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اس آزادی اور وراثت پر ہماری ثقافتوں نے لگائی اور ایک کلچر بن گیا کہ عورت کا وراثت میں حصہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں نے فروغ نسیم سے کہا کہ عورت کو وراثت کا حق دینے کے قانون میں یہ بات شامل کی جائے کہ دو سال تک عورت اپنی وراثت بطور تحفہ نہیں دی سکتی البتہ قانون میں یہ بات شامل نہیں کی گئی۔میں نے خواتین اراکین قومی اسمبلی سے پوچھا کہ آپ میں سے کتنی خواتین کو وراثت ملی تو انہوں نے کہا کہ شاید 50فیصد کو نہیں ملی، یہ خواتین ہیں جو معاشرے میں طاقت رکھتی ہیں اور اگر ان کو وراثت نہ ملے تو یہ مسئلہ بہت بڑا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے وراثت کے حوالے سے ایک بہترین قانون منظور کیا ہے کہ اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو پہلے جائیداد عورت کے نام پر ٹرانسفر ہو گی، اس کے بعد وہ اسے ہبہ کر سکتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ  اس کے علاوہ ‘لپ سروس’ چلتی رہتی ہے کہ عورت کو بااختیار بنانا ہے، مختلف معاشرے عورت کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف انداز سے سوچتے ہیں، ایک معاشرہ یہ سوچتا ہے، افغانستان کو دوربین سے دیکھنے والا ایک معاشرہ یہ سوچتا ہے کہ عورت جب حجاب اتارے گی تو بااختیار ہو گی۔

عورت کو مالی طور پر بااختیار بنانا بھی بہت ضروری ہے اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسٹیٹ کے مطابق حکومت نے عورتوں کے لیے بلاسود قرض یا انتہائی کم قرض کے کے حامل جو پروگرام متعارف کرائے ہیں تو ان سے استفادہ کرنے کے لیے 2فیصد خواتین بھی نہیں آئی ہیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عورت کے ساتھ یہ سیکیورٹ یہونی چاہیے کہ وہ جب کام پر نکلے یا کہیں جائے تو اسے ہراساں نہ کیا جائے اور کوئی بھی قوم وسائل سے نہیں بلکہ انسان کے اندر سے بدلتی ہے۔

Back to top button