پاکستان ، چین سمیت دنیا طالبان پر دبائو ڈالنے کیلئے تیار ہے

امریکہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان ، چین اور روس سمیت دنیا طالبان پر دبائو ڈالنے کے لیے متحد ہوگئی ہے ۔

 سیکرٹری خارجہ  نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے سائیڈلائن ملاقات کی تھی جبکہ بدھ کو چین اور روس سمیت سلامتی کونسل کے چار ویٹو طاقت رکھنے والے ممالک کے وزرا سے بھی بات چیت کی تھی۔

سیکرٹری خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں مقصد اور نقطہ نظر کا بہت مضبوط اتحاد ہے ، طالبان کہتے ہیں کہ وہ قانونی حیثیت اور عالمی برادری کی حمایت چاہتے ہیں لیکن عالمی برادری کے ساتھ ان کے تعلقات کی وضاحت ان کے اقدامات کے بعد ہوگی۔انھوں  نے طالبان کے لیے امریکا کی افغان اور غیر ملکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے، خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنے اور افغانستان کو دوبارہ انتہا پسند القاعدہ کی طرح کسی کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے سے دینے کی ترجیحات کو دہرایا۔

 انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ گفتگو میں سفارتی روابط کو مربوط کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پاکستان نے طالبان کے ساتھ رابطہ کرنے اور افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم شاہ محمود قریشی کا رواں ہفتے کہنا تھا کہ پاکستان کو نئی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، مغربی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے امریکی سیکریٹری خارجہ کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ’ہمیں مشترکہ طور پر کام کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہے تاکہ امن و استحکام کا مشترکہ مقصد حاصل کیا جاسکے۔چین اور روس دونوں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے آگے بڑھ چکے ہیں لیکن وہ بھی جلد ان کی حکومت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور انہیں مذہبی انتہا پسندی سے متعلق دیرینہ خدشات ہیں۔طالبان نے گزشتہ ماہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے امریکی فوجی انخلا کے بعد افغانستان پر قبضہ کیا، جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں سے جاری امریکا کی طویل جنگ کو مزید وسیع کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

Back to top button