افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے جس کو روکنے کے لیے افغان حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہوگا۔

 بڑے انسانی بحران سے خبردار کرتے ہوئے عمران خان  کہا ہے کہ غیر مستحکم، افراتفری کا شکار افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے لہٰذا آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ افغانستان کے عوام کی خاطر موجودہ افغان حکومت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔

 لنک کے ذریعے خطاب میں وزیر اعظم نے افغانستان کی صورتحال، تنازع کشمیر، اسلاموفوبیا، بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز، بدعنوانی کے مضمرات، کووڈ 19 وبا کے اثرات سمیت متعدد موضوعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے ویڈیو خطاب میں انھوں نے افغانستان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لیے کسی وجہ سے امریکا میں سیاستدانوں اور یورپ کے بعض سیاستدانوں نے پاکستان کو ان واقعات کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

 پاکستان کے جانی و مالی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 80 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں، ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 35 لاکھ پاکستانی عارضی طور پر بے گھر ہوئے اور ایسا کیوں ہوا؟ 1980 کے عشرے میں پاکستان، افغانستان پر قبضے کے خلاف لڑائی میں صف اول کا ملک تھا۔ پاکستان اور امریکا نے افغانستان کی آزادی کے لیے مجاہدین گروپوں کو لڑنے کے لیے تربیت دی، ان مجاہدین گروپوں میں القاعدہ اور دنیا بھر سے مختلف گروپس شامل تھے، وہ مجاہدین تھے، افغان مجاہدین، ان کو ہیرو تصور کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے یاد دلایا کہ صدر رونالڈ ریگن نے 1983 میں انہیں وائٹ ہاس میں مدعو کیا اور ایک خبر کے مطابق انہوں نے ان کا امریکا کے بانیان کے ساتھ تقابل کیا۔ 1989 میں سوویت یونین چلا گیا اور اسی طرح امریکا نے بھی کیا اور افغانستان کو چھوڑ دیا گیا، پاکستان کو 50 لاکھ افغان مہاجرین کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔ ہمیں فرقہ ورانہ مسلح گروہوں کے ساتھ چھوڑ دیا گیا جن کا اس سے پہلے کبھی وجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ لیکن بدترین وقت وہ تھا جب ایک سال بعد پاکستان پر امریکا نے پابندیاں لگا دیں، ایسا محسوس ہوا کہ ہمیں استعمال کیا گیاان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے فوری بعد امریکا کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت پیش آئی کیونکہ اب امریکا کی قیادت میں اتحاد، افغانستان پر حملہ آور ہو رہا تھا اور یہ پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اس کے بعد کیا ہوا؟ وہی مجاہدین جنہیں ہم نے تربیت دی تھی کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ میں ہمارے خلاف ہو گئے، ہمیں شراکت دار کہا جانے لگا اور انہوں نے ہمارے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی پٹی پاکستان جو نیم خود مختار قبائلی پٹی ہے جہاں ہماری آزادی کے بعد سے کوئی پاکستانی فوج وہاں نہیں رہی تھی، وہاں کے لوگوں کی افغان طالبان کے ساتھ شدید ہمدردیاں تھیں جو ان کے مذہبی نظریے کی وجہ سے نہیں بلکہ پختون قومیت کی وجہ سے تھیں جو کہ بہت مضبوط ہے۔پاکستان میں اس وقت بھی 30 لاکھ افغان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں جو تمام پختون ہیں، 5 لاکھ افغان پناہ گزین بڑے کیمپ میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ایک لاکھ کیمپس ہیں، ان سب کی افغان طالبان سے وابستگی اور ہمدردی تھی لہٰذا کیا ہوا؟ وہ بھی پاکستان کے خلاف ہو گئے اور پہلی مرتبہ پاکستان میں مسلح طالبان سامنے آئے اور انہوں نے بھی حکومت پاکستان پر حملے کیے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  ہماری فوج تاریخ میں پہلی بار قبائلی علاقوں میں گئی اور جب بھی کوئی فوج سویلین علاقوں میں جاتی ہے وہاں ضمنی نقصان ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں بھی ضمنی نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے شدت پسند بدلہ لینے پر اتر آئے لیکن صرف اتنا ہی نہیں ہوا۔عمران خان نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں امریکا نے 480 ڈرون حملے کیے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ڈرون حملے اتنے زیادہ عین مطابق نہیں ہوتے اور ہدف بنائے جانے والے شدت پسندوں کے مقابلے میں زیادہ ضمنی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

 لہٰذا ایسے لوگ جن کے رشتہ دار جاں بحق ہو جاتے وہ پاکستان سے بدلہ لینا چاہتے، 2004 سے 2014 کے دوران 50 مختلف مسلح گروہ ریاست پاکستان پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر ہمارے جیسے لوگ پریشان تھے کہ کیا ہم اس صورتحال سے نکل پائیں گے؟ پاکستان بھر میں بم دھماکے ہو رہے تھے اور ہمارا دارالحکومت ایک قلعے کی طرح تھا، اگر دنیا کی سب سے منظم فوج اور دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک خفیہ ایجنسی نہ ہوتی تو میرے خیال میں پاکستان بہت نیچے چلا جاتا۔ امریکا میں ترجمانوں اور ہر اس شخص کے بارے میں جس نے بھی امریکا کی مدد کی ہے، کی حفاظت کے بارے میں بہت پریشانی پائی جاتی ہے، ہمارے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہمارے بہت زیادہ نقصان اٹھانے کی واحد وجہ یہ تھی کہ ہم افغانستان کی جنگ میں امریکا کے اتحاد کا حصہ بن گئے۔

وزیراعظم عمران خان  نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے، کم از کم تحسین کا ایک لفظ تو ادا کیا جانا چاہیے تھا لیکن تحسین کے بجائے الزامات لگائے گئے، تصور کریں ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب افغانستان میں پیش رفت پر ہمیں موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2006 کے بعد افغانستان اور اس کی تاریخ کو سمجھنے والے ہر شخص پر واضح ہو گیا تھا کہ افغانستان میں کوئی فوجی حل نہیں ہو گا، میں امریکا گیا، میں نے تھنک ٹینک سے بات کی، میں نے اس وقت کے سینیٹر بائیڈن، سینیٹر جان کیری، سینیٹر ہیری ریڈ سے ملاقات کی۔

انھوں نے کہا کہ میں نے ان پر واضح کرنے کی کوشش کی کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہوگا اور سیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے لیکن اس وقت کوئی نہیں سمجھا اور بدقسمتی سے فوجی حل مسلط کرنے کی کوشش جہاں امریکا سے غلطی ہوئی اور اگر آج دنیا کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ طالبان واپس اقتدار میں کیوں آئے ہیں، انہیں یہ کرنا ہے کہ اس کا گہرائی سے تجزیہ کرنا چاہیے کہ 3 لاکھ اسلحے سے لیس افغان فوج نے لڑائی کے بغیر ہتھیارکیوں ڈالے اور یاد رکھیں کہ افغان، دنیا کی بہادر اقوام میں سے ایک ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ  اس کا عمیق تجزیہ ہونے پر دنیا جان جائے گی کہ طالبان دوبارہ اقتدار میں کیوں آئے اور یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے۔اب پوری عالمی برادری کو سوچنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے، دو راستے ہیں جو ہم اختیار کر سکتے ہیں، اگر ہم ابھی افغانستان کو نظرانداز کر دیتے ہیں تو اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے نصف لوگ پہلے ہی انتہائی غریب ہیں اور اگلے سال تک افغانستان میں تقریباً 90 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے، وہاں پر ایک بڑا انسانی بحران منڈلا رہا ہے اور اس کے نہ صرف افغانستان کے پڑوسیوں بلکہ ہر جگہ سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایک غیر مستحکم، افراتفری کا شکار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا اور اسی وجہ سے امریکا، افغانستان آیا تھا۔ اس بات پر زور دیا کہ آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے، ہمیں افغانستان کے عوام کی خاطر موجودہ حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہیے۔ طالبان کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں گے، ان کی ایک جامع حکومت ہوگی، وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور انہوں نے عام معافی دی ہے۔ اگر عالمی برادری انہیں مراعات دیتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو اس سے ہر ایک کے لیے یکساں طور پر مفید صورتحال ہوگی، کیونکہ یہ وہ چار شرائط ہیں جن کے بارے میں دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر دنیا انہیں اس سمت میں جانے کے لیے ترغیب دیتی ہے تو افغانستان میں اتحادی افواج کی 20 سالہ موجودگی بہرحالو رائیگاں نہیں جائے گی کیونکہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی طرف سے افغان سرزمین استعمال نہیں کی جائے گی۔افغانستان کے لیے ایک نازک وقت ہے، وقت ضائع نہیں کر سکتے، وہاں مدد کی ضرورت ہے، وہاں انسانی امداد فوری طور پر دی جانی چاہیے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جرأت مندانہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں اور اس سمت میں آگے بڑھیں۔

وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ وادی میں متعدد غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے، اس نے 9 لاکھ قابض افواج کے ذریعے دہشت کی فضا قائم کی ہوئی ہے، کشمیریوں کی سینئر قیادت کو پابند سلاسل رکھا ہوا ہے، میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، پرامن احتجاج کو پرتشدد طریقے سے دبایا گیا، 13 ہزار نوجوان کشمیریوں کو اغوا کیا گیا اور ان میں سے سیکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جعلی مقابلوں میں سیکڑوں بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور پورے پورے محلوں اور دیہات کو تباہ کرکے لوگوں کو اجتماعی سزائیں دی گئیں۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈوزیئر جاری کیا ہے، غیر قانونی کوششوں کے ذریعے جابرانہ ہتھکنڈوں کا مقصد مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور مسلمان اکثریت کو مسلمان اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، قراردادوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ متنازع علاقے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اس کے لوگوں کو کرنا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں دنیا کے نقطہ نظر میں یکساں برتاؤ کا فقدان ہے اور حتیٰ کہ یہ چنیدہ ہے، جغرافیائی و سیاسی عوامل یا کاروباری مفادات، تجارتی مفادات اکثر بڑی طاقتوں کو اپنے ‘وابستہ’ ممالک کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے دوہرے معیارات بھارت کے معاملے میں سب سے زیادہ واضح اور نمایاں ہیں، جہاں پر آر ایس ایس ۔ بی جے پی حکومت کو تمام تر آزادی کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اجازت دی جارہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی بربریت کی تازہ ترین مثال عظیم کشمیری رہنما سیّد علی شاہ گیلانی کے جسد خاکی کو ان کے خاندان سے زبردستی چھیننا اور ان کی وصیت اور اسلامی روایت کے مطابق نماز جنازہ کی ادائیگی اور تدفین سے محروم کرنا ہے۔

‘پاکستان، بھارت کے درمیان ایک اور تصادم کو روکنا ضروری ہے’
انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ بھی تمام ہمسایہ ممالک کی طرح امن چاہتا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کے حل پر منحصر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال فروری میں ہم نے کنٹرول لائن پر 2003 کی جنگ بندی کی مفاہمت کا اعادہ کیا، امید تھی کہ یہ نئی دہلی میں حکمت عملی پر نظرثانی کا باعث ہوگی لیکن افسوس بی جے پی حکومت نے کشمیر میں ظالمانہ ہتھکنڈے تیز کر دیے اور ان وحشیانہ کارروائیوں سے ماحول کو خراب کر رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز رابطے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے اسے یہ اقدامات کرنا ہوں گے کہ 5 اگست 2019 سے کیے گئے اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے، کشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے اقدامات کو روکے اور واپس لے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور تصادم کو روکنا بھی ضروری ہے، بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ، جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور غیر مستحکم کرنے والی روایتی صل

Back to top button