ملکی قرضے 39 ہزار ارب روپے سے بڑھ گئے

حکومت کی طرف سے قرض کی ادائیگیوں‌ کا راگ الاپنے کے باوجود پاکستان کے ذمہ واجب الادا غیر ملکی اور مقامی قرضوں کا حجم 253 ارب ڈالر جبکہ پاکستانی کرنسی میں مجموعی قرضہ بڑھ کر39 ہزار859 ارب روپے ہوگیا ۔

2020-21 کے دوران واجب الادا قرضے میں تین ہزار461 ارب روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں مقررہ تخمینے سے زیادہ وفاقی مالیاتی خسارہ، اثاثوں کی عدم دستیابی ، مقررہ ہدف سے کم سکوک بانڈز کا اجراء، انعامی بانڈزکے بڑی تعداد میں کیش ہونے کی وجہ سے محکمہ قومی بچت کے پاس موجود بچتوں میں کمی ، حکومتی اداروں کی نجکاری کا مقررہ ہدف پورا نہ ہونا شامل ہے۔

امریکی ڈالرز میں پاکستان کے غیر ملکی اور مقامی قرضوں کا حجم 253ارب ڈالر ہے جن میں سے پاکستان کے مجموعی غیر ملکی قرضے 86ارب ڈالر ہیں اورپاکستان کے مجموعی مقامی قرضے 167ارب ڈالر ہیں۔غیر ملکی قرضوں کا حجم 34 فیصد اور مقامی قرضوں کا حجم 66 فیصد ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف سے 7.38ارب ڈالر کے قرضے لئے ، پیرس کلب سے 10.72ارب ڈالر اور ملٹی لیٹرل کے 33.83 ارب ڈالر کے قرضے ہیں، عالمی بنک سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم18.13 ارب ڈالر، ایشائی ترقیاتی بینک کے قرضے13.42 ارب ڈالر ہے ، وزارت خزانہ کے مطابق تمام قرضوں کا تخمینہ 157.3روپے فی ڈالر کے ریٹ سے لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذمہ واجب الادا مقامی قرضہ30 جون2019 تک 20 ہزار732 ارب روپے تھا جو30 جون2020 تک بڑھ کر 23ہزار283 ارب روپے اور 30 جون 2021تک بڑھ کر26 ہزار 265ارب روپے ہوگیا ہے۔

Back to top button