واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا سروسز6 گھنٹے بعد بحال متاثر

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف مملک میں فیس بُک، واٹس ایپ، انسٹا گرام اور میسنجر کی سروسز تقریباً 6 گھنٹے معطل رہنے کے بعد بحال ہوگئیں۔فیس بک انتطامیہ نے گھنٹوں تک معطل رہنے والی سروسز پر صارفین سے معذرت کا اظہارتو کیاہے لیکن فوری طور پر اس تعطل کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
خیال رہے کہ فیس بک کے پلیٹ فارمز حالیہ سالوں میں متعدد بار متاثر ہوئے ہیں اور چونکہ تینوں پلیٹ فارمز ایک ہی کمپنی کی ملکیت ہیں اس لیے سروس متاثر ہونے سے دنیا بھر میں صارفین کی بڑی تعداد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تینوں اپیلی کیشنز کی سروس ڈاؤن کے ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اور مختلف قسم کے میمز کے ذریعے طنز و مزاح اور تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔
سروسز میں گھنٹوں کا تعطل سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی کے لیے چند دنوں میں دوسرا بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دو روز قبل فیس بک کی ایک سابقہ ملازمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ کمائی کی خاطر سوشل ویب سائٹ کا الگورتھم ہی اس انداز کا بنایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔کئی گھنٹوں کی معطلی کے باعث فیس بک کے شیئرز کی قیمتوں میں 4.9 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو گزشتہ سال نومبر کے بعد ایک دن میں سب سے بڑی کمی ہے تاہم سروسز بحال ہونے کے بعد اس میں 0.5 فیصد بہتری آگئی۔ فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی افسر مائیک شروفر نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘ہم پر انحصار کرنے والے چھوٹے اور بڑے کاروبار، خاندانوں اور افراد سے میں معذرت خواہ ہوں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘سروسز کی 100 فیصد بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے’۔
پاکستان سمیت دینا کے مختلف ممالک میں واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا سروسز شدید متاثر ہونے سےان سروسز سے وابستہ کئی ارب صارفین ان تینوں سروسزکو استعمال کرنے سے قاصررہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایک ہی ادارے کی ملکیت تینوں سوشل میڈیا اپیلی کیشن فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام کی کئی ممالک میں سروسز اچانک بند  ہوگئیں اور متعدد ممالک میں سروسز متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ان سروسز کی فراہمی معطل ہوتے ہی دنیا بھر میں ٹویٹر پر واٹس ایپ WhatsApp#  اور فیس بک #facebookdown کے ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ پر آگئے۔
سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی بندش کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کو باہمی رابطے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ واٹس ایپ، فیس بک، انسٹا گرام اور میسینجر اچانک ڈاؤن ہونے ہو نے عوامی رابطوں میں خلل پیدا ہوا۔
یہ مسئلہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجکر 44 منٹ پر شروع ہوا جس کے بعد دنیا بھر میں صارفین کو ان ویب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔
فیس بک کے ترجمان اینڈی اسٹون نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کچھ لوگوں کو ہماری مصنوعات اور ایپلی کیشن تک رسائی اور اسے استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صورتحال کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں اور زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
علاوہ ازیں واٹس ایپ نے بھی سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم آگاہ ہیں کہ کچھ لوگوں کو اس وقت واٹس ایپ کے استعمال میں مسائل کا سامنا ہے، ہم صورتحال کی معمول پر بحالی کے لیے کام کررہے ہیں اور جلد اپ ڈیٹس سے آگاہ کریں گے۔
بعد ازاں انسٹا گرام نے بھی ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں مسائل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انسٹاگرام اور دوستوں کو اس وقت کچھ مشکلات کا سامنا ہے اور آپ کو اسے استعمال میں مسائل پیش آ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ ڈاؤن ڈیکیکٹر کے مطابق 20 ہزار افراد نے فیس بُک اور انسٹاگرام متاثر ہونے کے بارے میں رپورٹ کیا ہے۔ اسی طرح میسیجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کے حوالے سے بھی 14 ہزار صارفین نے شکایت کی ہے جبکہ 3 ہزار سے زائد صارفین کا کہنا ہے کہ وہ میسنجر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم اس تعداد سے قطع فیس بک کے دنیا بھر میں استعمال کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ سروس متاثر ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
فیس بُک کی زیر ملکیت یہ تینوں ایپلی کیشن ایک مشترکہ انفرا اسٹرکچر پر چلتی ہیں اور یہ سب کام کرنے سے قاصر ہیں فیس بک کھولنے والے صارفین کو ‘ایرر پیج’ یا ‘یہ براؤزر کنیکٹ نہ ہونے’ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
علاوہ ازیں موبائل فون ایپس کے علاوہ فیس بک اور انسٹاگرام کے ڈیسک ٹاپ ورژن کو استعمال کرنے میں مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ میسنجر صارفین کو پیغام بھیجنے اور وصول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اس کے علاوہ فیس بک سے منسلک دیگر ویب سائٹس جیسے ورک پلیس وغیرہ کو کھولنے میں بھی صارفین کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگ اپنے اپنے ملکوں میں فیس بُک، واٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ کی سروسز متاثر ہونے کے پیغامات پوسٹ کررہے ہیں۔ فیس بُک جیسی ویب سائٹ عمومی طور پر بہت کم متاثر ہوتی ہیں لیکن جب کبھی بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات بڑے پیمانے پر مرتب ہوتے ہیں کیونکہ اس سے دنیا کی تین انتہا سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز بیک وقت کام کرنا بند کردیتی ہیں۔
اس سے قبل جب بھی ایسا مسئلہ ہوا تو کمپنی مسئلہ حل ہونے کے بعد بھی ہمیشہ اس کی وجوہات یا تفصیلات بتانے سے قاصر رہی۔ اس سے قبل جب 2019 میں مسئلہ ہوا تھا تو نیٹ ورک کی بحالی کے بعد فیس بُک نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ رومرہ کی مرمت کے دوران ان کے سسٹم میں مسئلہ ہو گیا تھا۔ 2019 میں منطر عام پر آنے والی دستاویزات میں فیس بُک کے مالک مارک زکربرگ نے سروسز متاثر ہونے کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب کبھی بھی ایسا مسئلہ آتا ہے تو لوگ کوئی اور نیٹ ورک یا پلیٹ فارم استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں اور ان کا اعتماد بحال کر کے دوبارہ فیس بک استعمال کرنے کے لیے قائل کرنا بہت مشکل امر ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی فیس بک اور ان کی ہی سوشل شیئرنگ ویب سائٹ انسٹاگرام کی سروس ڈاؤن ہوتی رہی ہے۔ آخری مرتبہ یہ مسئلہ گزشتہ رواں سال مارچ میں ہوا تھا اور اس وقت بھی دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Back to top button