کپتان حکومت نے مہنگی ترین گندم کا ریکارڈ بنا دیا

https://youtu.be/gPLC-5QD0P4
پندرہ دن کی قلیل مدت میں گندم کی ایک من بوری کی قیمت میں 400 روپے اضافے کے بعد اب ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چالیس کلو گرام بوری کی قیمت 2400 روپے کو پار کر گئی ہے جس سے پاکستان میں پچھلے 74 برس میں گندم کی مہنگی ترین قیمت کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے۔
اب جب کہ پانی سر سے گزر گیا ہے تو پنجاب حکومت کو بھی ہوش آگیا ہے اور اس نے گندم کی بین الاضلاعی اور بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی لگا دی۔ صوبے میں فلور ملز مالکان اور ڈیلرز کے ٹرکوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہے اور کیسز بنانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایک اعلامیے کے۔طارق اب صوبے میں کوئی محکمہ خوراک سے پرمٹ لئے بغیر اپنی ذاتی خرید کردہ گندم نہ خیبر پختونخوا‘ نہ سندھ اور نہ ہی پنجاب کے کسی ضلع میں بھجوا سکے گا۔ پرمٹ کیلئے شرط ہوگی کہ پچاس فیصد پرائیویٹ گندم کا آٹا پنجاب میں فروخت ہوگا اور صرف پچاس فیصد خیر پختونخوا یا دوسرے صوبوں میں جا سکے گا۔
دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے پنجاب چیپٹر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ فلورملز مالکان اوپن مارکیٹ سے 2400 روپے فی من گندم خریدیں اور اس کا پچاس فیصد آٹا پونے گیارہ سو روپے فی پندرہ کلو گرام پر فروخت کریں۔ انھوں نے کہا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں گندم کی قیمت، جو دو ہفتے قبل دو ہزار روپے فی من تھی، آج 2430 روپے فہ من پر چلی گئی ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گندم کی فی من بوری کی قیمت میں ہونے والا ہوشربااضافہ بنیادی طور پر حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس نے محکمہ خوراک کو پندرہ دن پہلے تجویز دی رھی کہ وہ سرکاری گندم کا اجرا فوری طور پر شروع کر دے تاکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کے ریٹ بڑھنے کا سلسلہ رُک سکے مگر حکومت کی جانب سے یہ جواب ملا ک ہمارے پاس 38 لاکھ ٹن گندم پنجاب میں موجود ہے، 12 لاکھ ٹن گندم سندھ میں ہے، 10 لاکھ ٹن گندم پاسکو کے گوداموں میں موجود ہے اور 15 لاکھ ٹن درآمدی گندم کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ محکمہ خوراک نے یہ موقف اپنایا تھا کہ ہمارے پاس گندم کی کمی نہیں ہے اس لیے ہم سرکاری گندم کا اجرا شروع کرنے کے لیے اکتوبر یا نومبر میں غور کریں گے۔ لیکن اب گندم کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور اس کی فی من بوری کی قیمت 2400 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن پنجاب کے سابق چیئرمین افتخار احمد مٹو نے لہا ہے کہ محکمہ خوراک اور بیوروکریسی عمران حکومت کو بدنام کرانے پر تل گئی ہے۔ پنجاب کا محکمہ خوراک سرکاری فلور ملوں کو جو گندم جاری کر رہا ہے اس نے مارکیٹ میں یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ گندم بتدریج مہنگی ہوتی جائے گی لہازا پندرہ روز میں دو ہزار روپے فی من والی گندم تین اکتوبر کو 2430 روپے فی من تک چلی گئی، اسی طح آٹے کے ریٹ بھی 920 روپے فی 15 کلو آٹا تھیلا سے بڑھ کر 1020 روپے ایکس ملز ریٹ کر دیئے گئے ہیں اور مارکیٹ میں پندرہ کلو آٹے کا تھیلا ساڑھے دس سو سے پونے گیارہ سو روپے تک صارفین کو خریدنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں ملک میں آٹے کا بحران جنم لینے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے پاس نئی فصل کی دو کروڑ 27 لاکھ ٹن گندم میں سے کم و بیش 85 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر اب بھی موجود ہیں اسلیے آئندہ چھ مہینوں میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہو گی مگر محکمہ خوراک کی نااہلی کی وجہ سے آٹے کی مارکیٹ میں ہیجان پیدا کر دیا گیا ہے جس کی ساری ذمہ داری بیوروکریسی اور وزرا کی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو اپنے احکامات پر عمل درآمد کے لیے سخت ایکشن لینا ہوگا وگرنہ مفاد پرست ذخیرہ اندوز پچھلے سال کی طرح آئندہ چند ماہ میں آٹے کی شدید گرانی اور قلت پیدا کر دینگے جس کا نتیجہ عوام تو بھگتیں گے ہیں لیکن حکومت بھی بدنام ہو گی۔

Back to top button