ماضی میں دہشت گردوں کے ساتھ دس امن معاہدے ناکام ہوئے

https://youtu.be/oNMuuzS4JY8
تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے والے وزیراعظم عمران خان شاید یہ نہیں جانتے کہ ماضی میں پاکستان نے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ کم از کم دس باقاعدہ تحریری اور غیر تحریری امن معاہدے کیے لیکن بعد ازاں یہ سب معاہدے ناکام ثابت ہوئے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو عام معافی کی پیشکش کے بعد معلوم ہوا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا ایک وفد پاکستان کے ایما پر افغانستان میں ٹی ٹی پی کے قائدین سے مذاکرات میں مصروف ہے۔ بی بی سی کو ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ تحریک طالبان کو عام معافی مشروط ہو گی کیونکہ ٹی ٹی پی سے منسلک کچھ نام ایسے ہیں جنھیں فوج معاف کرنے کے انکاری ہے۔ لہازا مذاکرات کے دوران ایسے ناموں کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے جو پاکستانی ریاست کی جانب سے کسی ’ایمنسٹی‘ سکیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
خیال رہے کہ جولائی 2020 میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تحریک طالبان کے ساڑھے چھ ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ پاکستان کی حکومت، فوج اور طالبان کے درمیان معاہدے یا مذاکرات کی بات چیت کی گئی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے کئی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ باقاعدہ تحریری اور بعض اوقات غیر تحریری معاہدے کیے ہیں۔ ان میں تین بڑے معاہدے سوات اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے۔ ان تمام معاہدوں کے لیے مذاکرات کے وقت ان علاقوں میں ریاست کی رٹ بالکل ختم ہو چکی تھی، اور فوج کو بھاری جانی نقصان کا سامنا تھا لہٰذا حکومت کی پوزیشن نہایت کمزور اور شدت پسند تنظیموں کا پلڑا بھاری تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام معاہدے ناکام ثابت ہوئے اور ان کے نتیجے میں شدت پسند تنظیموں کو نہ صرف ان علاقوں میں قدم جمانے کا موقع ملا بلکہ انہوں نے دیگر علاقوں میں پھیلنا شروع کر دیا۔
پاکستانی شدت پسندوں سے پہلا امن معاہدہ اپریل 2004 میں شکئی میں یا گیا۔ شکئی معاہدہ جنوبی وزیرستان میں نیک محمد اور حکومت کے درمیان طے پایا۔ فوج کی جانب سے جی او سی میجر جنرل صفدر حسین نے 27 سالہ نیک محمد سے ملاقات کی۔ اس معاہدے سے قبل پاک فوج نے امریکہ کے کہنے پر وہاں ایک آپریشن شروع کیا تھا تاکہ القاعدہ سے منسلک غیرملکی جنگجو پکڑے یا ختم کی جا سکیں۔ تاہم فوج کو اس آپریشن میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد بات چیت کا فیصلہ کیا گیا۔ نیک محمد پر الزام تھا کہ ان کی پناہ میں 400 غیر ملکی جنگجو تھے جو القاعدہ سے منسلک تھے اور افغانستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ تب تک نیک محمد امریکہ کی ہٹ لسٹ پر آ چکا تھا۔ شکئی معاہدے کے مطابق نیک محمد نے پاکستان کو القاعدہ جنگجوؤں کی لسٹ دینی تھی اور افغانستان میں حملے بند کرنے تھے۔ لیکن معاہدے پر دستخط کے بعد نیک نے جنگجوؤں کو فوج کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور ان مقامی عمائدین کو قتل کرنا شروع کر دیا جنھوں نے ان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی تھی۔ یوں یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور پھر ایک امریکی ڈرون نے نیک محمد کو نشانہ بنا ڈالا۔
فروری 2005 میں جنوبی وزیرستان میں ہی سراروغہ کا مشہور امن معاہدہ ہوا۔ چھ شقوں پر مشتمل یہ معاہدہ بیت اللہ محسود کے ساتھ کیا گیا جو دو سال بعد تحریک طالبان کا سربراہ بنا۔ معاہدے کے مطابق بیت اللہ محسود نے حکومتی اہلکاروں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی دی اور یہ بھی کہ وہ غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ فراہم نہیں کریں گے۔ بدلے میں ان کے اور ساتھیوں کے لیے معافی کا اعلان کیا گیا۔ اس معاہدے سے تحریک طالبان مضبوط تر ہوتی گئی اور طالبان اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا، جبکہ شہری علاقوں میں خودکش حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ چنانچہ بیت اللہ محسود اگست 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گئے۔ تاہم وہ حکیم اللہ محسود کے لیے ایک نہایت مضبوط تحریک طالبان چھوڑ گیا۔ فوج نے بعد میں آپریشن راہ نجات جیسے آپریشنز بھی شروع کیے اور علاقے کو کلیئر کرنا شروع کیا۔ یوں دوسرا بڑا امن معاہدہ بھی ناکام ثابت ہوا۔
تیسرا بڑا اور اہم امن معاہدہ سوات میں مئی 2008 میں کیا گیا۔ سوات میں 2001 میں شدت پسندی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ تب ملا فضل اللہ اور اسکے ماننے والوں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا اور وہ سوات سمیت پورے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ملا ریڈیو کے نام سے مشہور ملا فضل اللہ حکومت اور فوج خلاف ایف ایم پر خطبے دیتے، لڑکیوں کے سکول جلائے گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیا۔ الیکشن 2008 میں خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سوات کے حالات قابو میں کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔ مئی 2008 میں 16 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا۔ تاہم معاہدے کے چند دن بعد ہی ملا فضل اللہ اور صوفی محمد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ فوج پہلے اس علاقے سے نکلے اور ساتھ ہی ان کے گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔ پھر دوبارہ حملے شروع ہو گے اور پاک فوج کو آپریشن راہ حق شروع کرنا پڑا۔
خیبرپختونخواہ حکومت نے فروری 2009 میں سوات میں طالبان کا شرعی ’نظام عدل‘ نافذ کرنے پر مان گئی جس کے بعد ملا فضل اللہ نے سیز فائر کا اعلان کیا، تاہم یہ معاہدہ بھی ناکام ہوا چنانچہ حکومت اور فوج نے آپریشن راہ راست کا اعلان کیا۔ ملا فضل اللہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت سوات سے سابق فاٹا میں فرار ہو گیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی یا تو ہلاک ہو گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔
ملا فضل اللہ نے فرار کے بعد بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اسے سال 2013 میں حکیم اللہ محسود کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی قیادت سونپی گئی۔ اس نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، میجر جنرل ثنااللہ اور آرمی پبلک سکول پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ بعد ازاں وہ افغانستان فرار ہو گیا اور پھر صوبہ کنڑ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔
بعد ازاں ریاست پاکستان نے اسی طرح کے تین اور امن معاہدے حافظ گل بہادر، کمانڈر منگل باغ اور مولوی فقیر محمد کے ساتھ بھی کیے لیکن یہ سب معاہدے بھی بالآخر ناکامی کا شکار ہوئے۔ لہٰذا تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی معاہدہ کرنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ کہ ماضی کے تمام معاہدے لا حاصل ثابت ہوئے تھے۔

Back to top button