اگر آف شور کمپنیاں قانونی ہیں تو پھر پنڈورا میں نام کیوں آئے؟

https://youtu.be/AAG6JwVt1s0
پنڈورا پیپرز لیکس میں شامل تقریبا تمام پاکستانی سیاستدانوں اور جرنیلوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی آف شور کمپنیاں قانونی ہیں کیونکہ انہیں قانون کے مطابق ڈکلیئر کیا گیا ہے۔
ایسے میں عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر یہ آف شور کمپنیاں غیر قانونی نہیں تو پھر پنڈورا پیپرز میں ان کا نام کیوں دیا گیا؟ اب جب کہ وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا سیل قائم کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ سزا و جزا کا پیمانہ کیا محض آف شور کمپنی کا ہونا ہو گا یا پھر اس کے لیے غیر قانونی سرمایہ کاری بھی جرم تصور ہو گی۔
اس حوالے سے اردو نیوز نے آئی سی آئی جے کی تحقیقات میں شامل سینئر پاکستانی صحافیوں عمر چیمہ اور فخر درانی سے بات کی تاکہ اس سوال کا جواب لیا جا سکے کہ آف شور کمپنی رکھنے والے سارے افراد سکینڈلائز کیوں ہو رہے ہیں؟ جب پوچھا گیا کہ کیا آف شور کمپنی کے ذریعے ٹیکس بچانا اخلاقی کرپشن ہے تو عمر چیمہ نے بتایا کہ دنیا میں کہیں بھی آف شور کمپنی کی ملکیت غیر قانونی نہیں ہے۔ پاکستان میں صرف شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی کمپنی کو ٹیکس حکام اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سامنے ڈکلیئر کیا جائے۔ ہاں قانون تب حرکت میں آئے گا جب اس سلسلے میں کوئی غلط بیانی کی جائے۔ ان کے مطابق آف شور کمپنی رکھنے والے کس شخص نے غلط بیانی کرکے دولت چھپائی یا کس شخص نے قانونی طور پر شفاف طریقے سے کام کیا اس کا فیصلہ متعلقہ حکام کی توثیق سے مشروط ہے۔
پنڈورا تحقیقات میں شامل صحافی فخر درانی کا کہنا تھا کہ محض آف شور کمپنی رکھنا کوئی جرم نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک طرح کی اپنے ملک میں ٹیکس سے بچنے کی کاوش تو بہرحال ہے جس کی وجہ سے دنیا اسے اخلاقی کرپشن سمجھتی ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں بڑی کمپنیاں ایسا کرتی ہیں تاکہ انہیں کم ٹیکس ادا کرنا پڑے۔ لہکن اس کام میں دو طرح کی کمپنیاں ہوتی ہیں، ایک قانونی اور ایک غیر قانونی۔ غیر قانونی وہ کمپنیاں ہوتی ہیں جن کے ذریعے کالے دھن کو خفیہ طریقے سے منتقل کیا جاتا ہے اور ان کے ذرائع کا بھی پتا نہیں ہوتا۔ فخر درانی کا کہنا تھا کہ صحافیوں نے صرف اتنی تحقیقات کی ہیں کہ کونسی آف شور کمپنیاں کس کی ملکیت ہیں، اب یہ حکومتی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ تحقیق کریں کہ کس کی کمپنی جائز ہے اور کون سی غیر قانونی ہے۔ درانی کے مطابق انہوں نے آف شور کمپنیاں رکھنے والے جتنے سیاستدانوں سے بات کی ان سب کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنیاں قانونی طور پر ڈکلیئرڈ ہیں۔
اس حوالے سے عمر چیمہ نے مثالیں دے کر بتایا کہ کیسے کچھ لوگ بیرون ملک کمپنیاں کاروباری مجبوری کے تحت قائم کرتے ہیں اور کیسے دیگر لوگ اسے جعل سازی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنیوں کی پہلی اور ممکنہ وضاحت یہ دی جاتی ہے کہ انکو قائم کرنا آسان ہے۔ نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے مینجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی کی ایک آف شور کمپنی ویری ٹاس ایڈوائزری سروسز برطانوی ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ تھی۔ استفسار پر ان کا کہنا تھا کہ 2011ء میں ان کے لئے ایسی کمپنی کا قیام ضروری تھا۔ انہیں چند منٹوں ہی میں 7500 روپے کے عوض قانونی طور پر آف شور کمپنی مل گئی جسے انہوں نے 2017ء میں خیر باد کہہ دیا۔ آف شور کمپنیوں کے قیام کی دوسری وجہ جو پاکستانی کاروباری شخصیات بتاتے ہیں وہ یہ کہ پاکستان کی اقتصادیات زیادہ تر غیر دستاویزی ہے۔ سرخ فیتے کا خدشہ رہتا ہے جس سے کاروبار چلانا دشوار ہوجاتا ہے۔ ٹیکسوں کی ادائیگی کے بجائے ان سے بچنے کی بھی سہولت ہے۔
قانون پسندوں کے لیے ماحول مشکل سے مشکل تر بنادیا جاتا ہے لہٰذا اکثر لوگ آف شور کمپنیوں کی ملکیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے ایسی کاروباری شخصیات بھی دیکھی ہیں جو نہایت شفاف اور رابطہ کرنے پر تفصیلات فراہم کرنے پر بھی آمادہ ہیں۔ لیکن کئی ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے آف شور کمپنیاں اپنی چالبازیوں کے لیے قائم کیں۔
کئی لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ آف شور کمپنی ہوتی کیا ہے؟ دراصل کاروباری اصطلاح میں آف شور ایسی کمپنی ہوتی ہے، جس کا لین دین اس ملک کی سرحدوں سے باہر ہوتا ہے، جہاں اسے قائم کیا گیا ہو جب کہ اس کے مقابلے میں آن شور کمپنی وہ ہوتی ہے جو اسی ملک میں لین دین کرتی ہے جہاں وہ رجسٹرڈ ہو۔ ماہرین کے مطابق آف شور کمپنیاں لوگوں کو بغیر کسی خلاف ورزی کے ٹیکس بچانے کے راستے فراہم کرتی ہیں اور طرح وہ ایسے ممالک میں کمپنیاں بنا کر اپنا پیسہ رکھتے ہیں جہاں ٹیکسوں کی چھوٹ ملے۔ فخر درانی کے مطابق ایسا کرنا دنیا بھر میں غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق اس طرح ٹیکس بچانا قانون کے دائرے میں تو ہے لیکن قانون کی روح کے مطابق نہیں۔ چند افراد کے لیے خفیہ کمپنیوں میں پیسہ رکھنا اور اسے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا غیر قانونی دولت چھپانے کا بھی بہترین طریقہ ہے جبکہ بعض افراد آف شور کمپنیوں کو جائز کاروباری مجبوری کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنی جائز دولت کو حفاظت کے لیے اور مخالف حکومتوں کے سیاسی انتقام سے بچنے کے لیے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔

Back to top button