طالبان سے مذاکرات عمران نہیں، اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے





وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ہزاروں معصوم پاکستانیوں کی قاتل تنظیم تحریک طالبان کو عام معافی دینے کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کا نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا ہے اور اس پر اعتراض کرنے والوں پر غداری کا الزام بھی لگ سکتا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ جس تنظیم کو آج عام معافی دینے کی بات ہو رہی ہے اسکا کا نام اخباروں اور ٹی وی میں لینے کی اجازت بھیبچند دن پہلے تک میسر نہیں تھی۔ہمیں 2014ء سے مسلسل بتایا گیا ہے کہ تحریک طالبان بھارت اور افغانستان کی پالتو تنظیم ہے۔ اور ان دونوں ممالک کے ایما پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے بازاروں میں خودکش دھماکے کرواتی ہے۔ یہ ہماری فوجی تنصیبات پر بھی حملے کرتی تھی۔ جی ایچ کیو بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہا تھا۔ ہمارے ہزاروں افسر اور جوان ٹی ٹی پی کی دہشت گرد کارروائیوں میں شہید ہوئے۔ پشاور میں اے پی ایس سکول کے سینکڑوں بچوں کی شہادت کے بعد بالآخر اس تنظیم کا قلع قمع کرنے کے لئے بھرپور فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ لیکن اب اچانک ایک انٹرویو میں عمران خان نے تحریک طلبان کو عام معافی دینے کے لیے اس سے مذاکرات کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی اس دیرینہ سوچ کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی جیسے مسائل کا فوجی حل موجود نہیں ہے اور ہتھیار اٹھائے لوگوں کو مذاکرات کے ذریعے ہی پرامن زندگی کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے۔
عمران خان صاحب کے دو ٹوک اعتراف سے کئی ہفتے قبل آرمی چیف جنرل باجوہ، صدر علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دے چکے تھے۔ اب وزیر اعظم کی جانب سے بالآخر تصدیق ہو گئی جس پر سیاست دان اور مبصر سراپا احتجاج کا ڈھونگ رچانے لگے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ڈھونگ کا لفظ میں نے سوچ سمجھ کر استعمال کیا ہے۔افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا 1980ء کی دہائی سے جو بھی سرکاری مؤقف اور حکمت عملی رہی اس کی تشکیل میں سیاست دانوں نے رتی برابر کردار بھی ادا نہیں کیا تھا۔ سوویت یونین کو افغانستان میں گھیرنے کا فیصلہ جنرل ضیا اور ان کے رفقا نے کیا۔امریکہ اور سعودی عرب کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس ضمن میں ان کی کلیدی حلیف رہیں۔افغانستان سے سوویت یونین ذلیل وخوار ہوکر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تو جنرل ضیاء اس دنیا میں موجود نہ رہے۔ ان کے بعد آئے سیاست دانوں کو سمجھ ہی نہ آئی کہ افغانستان کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران تاہم طالبان نمودار ہوگئے۔ ہم نے انہیں امن کا نقیب ٹھہرایا۔ ان کی معاونت کا فیصلہ کیا۔ 1997ء میں وہ کابل پر قابض ہوگئے تو نواز شریف کی دوسری حکومت نے انہیں افغانستان کی جائز حکومت کے طورپر باقاعدہ تسلیم کرلیا۔اس کے بعد مگر نائن الیون ہوگیا۔نواز شریف کو فارغ کرنے والے جنرل مشرف نے اس کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ مل کر طالبان اور القاعدہ کو سزا دینے کے نام پر ایک طویل جنگ لڑی۔
نصرت جاوید کے مطابق عمران خان کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ جس تنظیم سے وہ اب مذاکرات کررہے ہیں و ہ در حقیقت ردعمل کے طورپر وجود میں آئی تھی۔اسے گلہ تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے ڈالر لینے کی خاطر طالبان کو دغا دیا۔ اسلام کے جاں نثار طالبان کے خلاف ڈرون جیسے وحشیانہ ہتھیاروں سے لڑی جنگ کے حامی فقط مغرب زدہ لبرل افراد رہے۔ وہ امریکہ اور یورپی ممالک سے گرانقدر رقوم لے کر این جی اوز بناتے ہیں۔یہ ادارے کمال مکاری سے پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کے لئے عورتوں کے حقوق کے بہانے فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔ ہمارا خاندانی نظام اور اس کی اقدار تباہ کرنے کو تلے بیٹھے ہیں۔
عمران خان کا یہ خیال بھی ہے کہ پاکستان میں طالبان کی حمایت میں ہتھیار اٹھانے والے فقط فروغ اسلام ہی کے خواہاں نہیں تھے۔وہ پختون قوم پرست بھی ہیںاور پختون غیروں کے غلام بننے کو کبھی آمادہ نہیں ہوتے۔امریکہ جیسی سپرطاقت 20برس کی طویل جنگ کے باوجود افغانستان کو مطیع بنانے میں ناکام رہی۔ بالآخر زچ ہوکر دوحہ میں ہوئے مذاکرات کے ذریعے اپنی جند چھڑانے کی راہ ڈھونڈی۔ پاکستان نے طالبان کو دوحہ مذاکرات میں شرکت کے لئے آمادہ کیا تھا۔امریکہ اب افغانستان سے ذلیل وخوار ہوکر نکل چکا ہے۔ حکومت کو لہٰذا ان کے پاکستانی حامیوں سے بھی مذاکرات کا آغاز کر دینا چاہیے تاکہ ہمارے ہاں دائمی امن قائم ہو۔پاکستان استحکام اور خوش حالی کی جانب بڑھے۔
نصرت کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ان کی ذاتی پیش قدمی نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔ وہ اب سڑکوں پر دھرنے دیتے والے اپوزیشن رہ نما نہیں رہے، وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ ہماری ریاست کے دائمی اداروں اور خاص طورپر قومی سلامتی کے ذمہ دار افراد سے طویل مشاورت کے بعد منظر عام پر لایا جاتا ہے۔میرا اصرار ہے کہ اس تنظیم سے مذاکرات کا فیصلہ عمران حکومت کا نہیں بلکہ ریاستِی اداروں کے ہے اور ریاست کی جانب سے ہوئے فیصلے پر اعتراض اٹھانا غداری بھی شمار ہوسکتا ہے۔

Back to top button