مریم کو سٹائل کوئین قرار دینا موضوع بحث کیوں بن گیا؟

https://youtu.be/9F9F8bZ-Sw8

اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ موضوع زیر بحث ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور ملکی سیاست میں ان کا مزاحمتی بیانیہ لیکر چلنے والی مریم نواز کی خوش لباسی کو ماڈلنگ اور انکو سٹائل کوئین قرار دینا کیا انکے سنجیدہ سیاسی امیج کےلیے فائدہ مند یے یا نقصان دہ ہے؟
اس بحث کا آغاز تب ہوا جب مسلم لیگ ن کی پنجاب سے رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے مریم نواز کی ایک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’سٹائل کوئین مریم نواز۔‘ ان کی اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے سینئر صحافی عامر متین نے انھیں جتایا کہ گویا وہ مریم نواز کی ’ماڈلنگ کی تصاویر‘ اپ لوڈ کر کے ان کی تشہیر کر رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’آپ ملکہ اور شہزادی جیسے چاپلوسانہ الفاظ استعمال کر کے مریم کی بطور ایک ماڈل تشہیر کر رہی ہیں جو کہ مناسب نہیں۔ عامر متین نے مشورہ دیا کہ آپ کو مریم نواز کی سیاسی ذہانت اور بصیرت کو ان کے برانڈڈ کپڑوں اور جوتوں سے زیادہ فروغ دینا چاہیے۔ لیکن وہ یہاں رکے نہیں بلکہ انہوں نے بینظیر بھٹو، اینگلا مرکل، ممتا بینرجی اور اندرا گاندھی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے دور کی کچھ خواتین رہنماؤں نے اپنے کام کی وجہ سے نام بنایا۔ خوبصورتی اور وقار صرف گوچی کے بیگز اور ورساچی کے جوتوں سے نہیں بڑھا پاتے۔‘
عامر متین کی ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی ایک اور رہنما ثانیہ عاشق نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’احترام کے ساتھ عرض ہے کہ ایک لیڈر کی شخصیت انلس کے کرشمے کے لیے اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ قائداعظم کی جناح کیپ سے لے کر بے نظیر بھٹو کے لباس کے انتخاب تک، وہ چیزیں ہیں جن سے ان کے پیروکار تعلق جوڑ سکتے ہیں۔ ثانیہ نے کہا کہ مریم نواز خود کو ایک مضبوط پاکستانی روایتی خاتون کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ عورت کیسی دکھائی دیتی ہے اس سے مرد کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔‘
اسی دوران تحریک انصاف کے حامی بھی موقع غنیمت جانتے ہوئے میدان میں کود پڑے اور حنا پرویز بٹ کو اس بات پر خوب لتاڑا کہ وہ اپنی لیڈر کو ’آبجیکٹیفائے‘ کر رہی ہیں۔ بحث نے زور پکڑا تو نون لیگ کے حامیوں نے بھی دفاعی مورچہ سنبھالا اور پی ٹی آئی کو یاددہانی کرائی کہ وہ بھی اپنے لیڈر عمران خان کو ’ہینڈسم‘ کہہ کر ان کی سیاسی بصیرت کے بجائے ان کی وجیہہ شخصیت کے معترف رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تبصروں کا بازار گرم ہوا تو یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا سیاسی شخصیات کو ان کی سیاسی بصیرت، سیاسی اپروچ، اور قوت فیصلہ کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے یا ان کی ظاہری وضع قطع کی بنیاد پر؟  یا پھر یہ تمام لوازمات ہی ایک مکمل سیاسی شخصیت کی عوام میں مقبولیت کے لیے ضروری ہیں؟  
پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں محمد علی جناح اور ذوالفقارعلی بھٹو جیسی قدآور شخصیات آج بھی اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں وہیں انکا منفرد لباس اور انداز بھی انکی عوامی مقبولیت کی وجہ بنا۔ گویا سیاست اور سٹائل کا ہر دور میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔  سوٹ اور ٹائی کے ساتھ چمڑے کے جوتے اور ہاتھ میں سگار جناح کی شخصیت کو پُرکشش بنا دیتا تھا۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد انکا یہ انداز بھی بدلا اور پھر انہوں نے نفیس شیروانی زیب تن کرنا شروع کر دی اور سر پر جناح کیپ رکھ لی۔ اسی طرح عوامی لیڈر ہونے کہ وجہ سے بھٹو نے پینٹ کوٹ کو ترک کر کے روایتی شلوار قمیض کا انتخاب کیا۔ بھٹو کی بیٹی بے نظیر نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو سر پر مخصوص انداز سے دوپٹہ پہننا ان کا ٹریڈ مارک بن گیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اب مریم نواز کا بھی ہے۔
مریم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے فیشن ڈیزائنر ماہین خان کا کہنا تھا کہ خواتین کو اچھا لگنے کی فکر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان کی تعلیم اور ذہانت ان کا تعارف ہوتا ہے، لیکن خواتین کے لیے اپنے پیشے اور شعبے کے لحاظ سے ملبوسات کا انتخاب کرنا بھی ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین چاہے سیاستدان ہوں، بینکر ہوں یا کسی دفتر میں کام کرتی ہوں، انھیں صاف ستھرا اور باوقار دکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اکثر اسمبلی میں بیٹھی خواتین کو لان کے جوڑوں میں دیکھتی ہوں جن کی استری تک خراب ہوتی ہے جو دیکھنے میں برا لگتا ہے۔ خواتین کو پتا ہونا چاہیے کہ گھر کے حلیے اور کام کے حلیے میں فرق رکھنا ہوتا یے۔
یاد رہے کہ ماہین خان نے ینظیر بھٹو کے لیے بھی کپڑے ڈیزائن کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک مرتبہ بینظر بھٹو نے مجھے بلایا، اور کہا کہ یہ کپڑے بنا دو۔ لیکن میں نے انہیں منع کر دیا کہ میں یہ نہیں بناؤں گی۔ میں نے بینظیر کو مشورہ دیا تھا کہ انھیں سادہ یک رنگی لباس پہننا چاہیئں۔ لیکن انکی اپنی پسند کا بھی خیال رکھا گیا چونکہ بی بی کو کندھوں پر چنٹوں والی آستینیں پسند تھیں اس لیے وہ انکے لباس میں شامل کر دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کا وہ سبز جوڑا بھی ڈیزائن کیا جو انھوں نے بطور وزیر اعظم حلف برادری کے وقت پہنا اور بہت مشہور بھی ہوا۔ ماہین نے بتایا کہ وہ جوڑا اس وقت برطانیہ کے تاریخی میوزیم مادام تساؤ میں محترمہ کے مجسمے نے پہن رکھا ہے۔
مریم نواز کے حوالے سے ماہین کا کہنا تھا کہ انہیں تیز رنگ پہننا پسند ہیں، انھیں خوبصورت لگنا پسند ہے۔ وہ اپنے انداز میں خوبصورتی اور نسوانیت قائم رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ میں مہنگی برانڈڈ چیزوں کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے آپ اپنے ورکرز میں احساس کمتری پیدا کر سکتے ہیں تاہم یہ مریم کا انتخاب ہونا چاہے کہ وہ کیسا لگنا چاہتی ہیں۔ ماہین نے کہا کہ مریم ایک ذہین خاتون ہیں، وہ اپنی ظاہری شخصیت پر بہت محنت کرتی ہیں اور وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔

Back to top button