کپتان اپنے ساتھیوں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرے گا؟

https://youtu.be/YPY1IWVIjGU

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پنڈورا پیپرز میں شامل تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرنے کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ پنڈورا میں پکڑے جانے والے اپنے کسی بھی ساتھی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر عمران اپنوں کے احتساب کے دعوؤں میں سنجیدہ ہوتے تو اب تک پنڈورا پیپرز میں شامل وزراء سے استعفے لے لیے ہوتے۔
انٹرنیشل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلزم یعنی آئی سی آئی جے کی طرف سے جاری کردہ پنڈورا پیپرز میں وفاقی وزرا کے نام آنے کے بعد کہیں عمران کے ’نئے پاکستان‘ پر تنقید ہوئی تو کہیں ان سے سخت ایکشن کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پنڈورا پیپرز میں شامل تمام حکومتی وزراء اور دیگر شخصیات فوری طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو اور اور ان کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔ تاہم عمران خان نے پینڈورا پیپرز میں شامل سیاستدانوں، سابق فوجی افسران اور انکے اہلِ خانہ کی آف شور کمپنیوں کی معلومات سامنے آنے کے بعد ان سے جواب طلبی کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اصل حقائق قوم کے سامنے لائے گا۔ کپتان نے اپنے وفاقی وزرا میں سے کسی کے بھی خلاف نیب یا ایف آئی اے کو تحقیقات شروع کرنے کا نہیں کہا جیسا کہ حزب اختلاف کے لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
پنڈورا پیپرز میں جن افراد کے نام آئے ہیں ان میں تحریک انصاف کے ایک اہم اتحادی سمیت کابینہ کے تین ارکان اور ان کے اہل خانہ، فضائیہ کے سابق سربراہ کے اہل خانہ سمیت فوج کے اہم عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔ آئی سی آئی جے کی تحقیق میں سامنے آنے والے ناموں میں وفاقی کابینہ کے ارکان شوکت ترین، مونس الٰہی اور خسرو بختیار سمیت فیصل واوڈا اور علیم خان سمیت 700 پاکستانی شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں نے اپنی غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے آفشور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق ’یہ نام تو پہلے بھی چل رہے تھے۔ عمران خان کی جانب سے احتساب کے اعلان نے سب کا منھ بند کر دیا ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے اور 700 کے 700 لوگوں سے تحقیقات کی جائیں گی۔
ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پینڈورا پیپرز کی پوری تحقیقات کی جائیں گی اور جو ملوث ہوگا کارروائی ہوگی۔ ان کے مطابق عمران خان کسی کی کرپشن برداشت نہیں کریں گے چاہے کوئی ان کے کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔
تاہم دوسری جانب عمران کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ان کی جانب سے بلا احتساب کارروائی کے سارے دعوے جوٹے ثابت ہوں گے کیونکہ انہوں نے پہلے بھی کبھی اپنے کسی ساتھی کی کرپشن ثابت ہونے پر اس کو نیب کے حوالے نہیں کیا۔ وہ صرف اپوزیشن کے احتساب پر یقین رکھتے ہیں اور اپنوں کے لیے انہوں نے احتساب کے دوہرے معیار مقرر کر رکھے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے بڑی مثال وزیر اعظم کے سابق دست راست جہانگیر خان ترین کی ہے جنہوں نے شوگر سکینڈل میں میں پکڑے جانے کے بعد عمران کو بلیک میل کرنے کے لیے ایک فارورڈ بنا لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں شوگر سکینڈل میں ایف آئی اے نے این آر او دے دیا۔
جہانگیر خان ترین کے علاوہ عمران خان کے جن ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات لگے ان میں اعظم سواتی، بابر اعوان، علیم خان، عامر کیانی، اجمل وزیر، سمیع اللہ چوہدری، ظفر مرزا، ندیم بابر، فردوس عاشق اعوان اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ شامل بھی شامل تھے لیکن ان میں سے صرف علیم خان کو نیب نے گرفتار کیا۔ باقی کسی بھی شخص کے خلاف کرپشن کے الزامات پر نہ تو نیب نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی ایف آئی اے نے، جس سے عمران خان کا اپنوں اور غیروں کے لئے احتساب کا دوہرا معیار بے نقاب ہو جاتا ہے۔ لہذا پنڈورا پیپرز سکینڈل میں شامل حکومتی شخصیات کے خلاف بھی وزیراعظم کی جانب سے کسی کارروائی کی امید رکھنا ایک دیوانے کا خواب ہو گا۔

Back to top button