مریم نواز نے جسٹس شوکت کے خفیہ ایجنسی پر الزامات دہرا دیے

https://youtu.be/RgWhgz01ns8
مریم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اپنی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردہ نئی متفرق درخواست میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا آئی ایس آئی کی مداخلت بارے سپریم کورٹ میں جمع شدہ بیان اور احستاب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی اعترافی ویڈیو کو بنیاد بنایا ہے، تاہم عدالت نے درخواست پر اعتراض لگا کر واپس کر دیا ہے۔ 4 اکتوبر مریم نواز کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کی گئی جس میں برطرف جسٹس شوکت صدیقی کے راولپنڈی بار سے خطاب کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ عرفان قادر ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی مریم نواز کی درخواست میں بتایا گیا کہ شوکت صدیقی نے کہا کہ چیف جسٹس کو اپروچ کیا گیا کہ ہم نے الیکشن تک نواز شریف اور اس کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا۔ درخواست کے مطابق خفیہ ادارے کی اہم شخصیت کے بارے سابق جج نے سپریم کورٹ کو بھی بتایا ہے۔ سابق جج نے خفیہ ادارے کے بارے جس کیس میں جواب جمع کرایا وہ اب بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ تب کے ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے جسٹس شوکت کو شریف خاندان کو سزائیں دینے کا کہا تھا، جو پاکستان کی تاریخ میں پولیٹیکل انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی بدترین مثال ہے۔

مریم نواز کے وکیل نے جسٹس شوکت صدیقی کے خطاب کی روشنی میں بریت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ شوکت صدیقی کی پنڈی بار میں تقریر نے ساری کارروائی مشکوک بنا دی ہے جبکہ نیب کے لیے لازم ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے تاہم ٹرائل کی ساری کارروائی اور ریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو الیکشن سے صرف 19 دن قبل شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ بعد ازاں نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں 19 ستمبر 2018 کو ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے سزا دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔جس کے بعد 22 اکتوبر 2018 کو نیب نے نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی رہائی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائر صفدر کی سزا معطلی کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل خارج کردی تھیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی اپنی بحالی سے متعلقہ کیس کی پیروی کے دوران سپریم کورٹ کو جمع کروائے گئے اپنے تحریری جواب میں یہ الزام لگا چکے ہیں کہ جنرل فیض حمید نے بطور ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی دو مرتبہ مجھ سے میرے گھر ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے یقین دہانی چاہی کہ نواز شریف کی 25 جولائی 2018 کے الیکشن سے پہلے ضمانت نہ ہو سکے۔ جسٹس صدیقی کے مطابق پہلی ملاقات 26 جون 2018 کو ہوئی جب کہ دوسری ملاقات 19 جولائی 2018 کو ہوئی۔

میجر جنرل فیض حمید نے جون 2018 کی ملاقات میں کہا کہ کوئی راستہ بتائیں، یہ آئی ایس آئی کے وقار کا معاملہ ہے۔جسٹس صدیقی کے بقول جواب میں جنرل فیض حمید کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ قانون کے مطابق عمل کرے گی۔جسٹس شوکت کے مطابق یہ باتیں کرنے سے پہلے فیض حمید نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر جانے کا کہا۔ جب لوگ کمرے سے نکل گئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر احتساب عدالت وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر کو سزا دے تو ہائی کورٹ میں اپیل کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے۔ شوکت صدیقی اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ یہ بات میرے لیے حیرت کا باعث تھی کہ جنرل فیض ملزمان کی سزائوں کے بارے میں اتنے یقین سے کیسے کہہ رہے ہیں، لیکن میں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کوئی تاثر نہ دیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ عدالتی طریقہ کار سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس سے بھی کہ ٹرائل کا کیا نتیجہ نکلے گا، تو پھر آپ مجھ سے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں۔ جواب میں فیض نے مجھ سے سیدھا سوال کیا کہ اگر فیصلے کے خلاف اپیلیں آپ کے سامنے لگیں تو آپ کا کیا رویہ یا موقف ہوگا؟ میں نے کہا کہ میں جج کے حلف کے عین مطابق مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر کروں گا کیونکہ مجھے اللہ کو جواب دینا ہے۔ اس پر جنرل فیض نے رد عمل میں جو تبصرہ کیا وہ میرے لیے انتہائی مایوس کن اور ایک بڑے دھچکے کا باعث تھا۔ فیض نے کہا اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔بعد ازاں فیض حمید نے یہ کہتے ہوئے مجھ سے اجازت چاہی کہ وہ میرے خلاف زیر التوا ریفرنسز کا خیال رکھیں گے اور اشارہ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف بھی ریفرنس موجود ہے، شاید وہ اس وجہ سے یا خراب صحت کے باعث استعفا دے دیں، اگر ایسا ہو گیا تو آپ نومبر کے بجائے ستمبر میں بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بن سکتے ہیں۔

شوکت صدیقی کے مطابق مجھے انکی بات سن کر سخت دھچکا لگا خصوصا یہ سوچ کر کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل پر بھی اتنا اثر ڈال سکتے ہیں۔شوکت صدیقی اپنے بیان میں مزید کہتے ہیں کہ 19 جولائی 2018 کی دوسری میٹنگ میں جنرل فیض حمید نے مجھے بتایا کہ 18 جولائی 2018 کے آرڈر کے بعد انہیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طلب کر لیا ہے اور میری نوکری دائو پر لگی ہوئی ہے کیونکہ جنرل باجوہ سخت ناراض ہیں کہ میں ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہینڈل نہں کر سکا۔ فیض حمید کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف نے انہیں ہدایت کی ہے کہ آپ سے ملوں اور معلوم کروں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ جسٹس شوکت کے مطابق اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سوائے اس کے کچھ نہیں چاہتا کہ ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔ جواب میں فیض نے کہا سر بہتر ہو گا کہ تلخی چھوڑیں اور در گزر سے کام لیں، ماسوائے چند افراد کے مسلح افواج کے رینکس میں آپ کی شہرت راست گو اور سچے پاکستانی کی ہے۔ لہذا ہمارے مابین اچھے تعلقات کار پاکستان کے مفاد میں ہوں گے۔

مریم نواز کی دائر کردہ متفرق درخواست میں سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف کیس میں اہم ثبوت ہے۔ درخواست کے مطابق نیب کے ذریعے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے ایک غیر قانونی ریفرنس دائر کیا گیا۔ مریم نواز نے اپنی درخواست میں ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ اثاثوں کے الزام میں تین الگ ریفرنس دائر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی، سپریم کورٹ نے اس کیس میں تفتیش کو سپروائز کیا، سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کی بھی اس کیس میں مانیٹرنگ کی اور ایک طرح سے اس کیس میں پورا عمل ہی کنٹرول کیا جو کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ 6 جولائی 2019 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔ لیگی نائب صدر نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ ویڈیو میں ارشد ملک کو اعتراف کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز کو العزیزیہ ریفرنس میں ‘دباؤ اور بلیک میل’ ہوکر سزا سنائی اور نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔

تاہم مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم کرنے کی متفرق درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مریم نے اس درخواست میں وہی استدعا کی جو مرکزی اپیل میں کی ہے، رجسٹرار کے مطابق مریم نواز اہنی اپیل میں کعئی نئی گراؤنڈز عدالت کی اجازت سے ہی لے سکتی ہیں۔ مریم کی متفرق درخواست پر اعتراضات جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل سپیشل بنچ کے سامنے سماعت کے لیے لگائے گئے ہیں جن کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

Related Articles

Back to top button