کیا پاکستان کرکٹ میچ بھی چین سے ہی کھیلنا چاہتا ہے





پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا کی جانب سے چین کو دنیائے کرکٹ میں لانے کی کوششوں کے اعلان کے بعد کرکٹ حلقوں میں اس حوالے سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اب پاکستان کرکٹ میچ بھی چین کے ساتھ ہی کھیلنا چاہتا ہے۔

رمیز راجا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے اجلاس میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے دورۂ پاکستان کی منسوخی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر انحصار کم کرنا ہوگا اور کرکٹ میں مزید پیسہ لانا ہوگا تاکہ بین الاقوامی ٹیمیں آئندہ پاکستان کو نظر انداز نہ کریں۔ رمیز راجا کی بریفنگ کے دوران سینیٹ کمیٹی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چین کو بھی کرکٹ میں لانے کی کوششیں تیز کر دیں تاکہ اگر کوئی اور ملک پاکستان کے ساتھ نا بھی کھیلنا چاہیے تو دوست ملک چین تو موجود ہو۔

لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب چین کو کرکٹ کی جانب راغب کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ 2006 میں بھی تب کے پی سی بی چیئرمین شہریار خان نے سابق فاسٹ بائولر راشد خان کو چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بیجنگ بھیجا تھا۔ راشد خان نے پاکستان کے لیے چار ٹیسٹ اور 29 ایک روزہ میچز کھیل رکھے ہیں اور وہ 1983 کے ورلڈ کپ میں بھی قومی سکواڈ میں شامل تھے۔چین کو کرکٹ کی طرف راغب کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں راشد خان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے کوچ تھے جنہیں پاکستان نے حکومتی سطح پر چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بھیجا تھا۔اُن کے بقول اُنہوں نے 11 برس تک چین میں انڈر 15 سے لے کر مرد اور خواتین کی سینئر ٹیموں کے ساتھ بطور کوچ کام کیا اور وہ آئندہ برس ایشین گیمز کی تیاریوں کے لیے چین جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے نچلی سطح پر کافی کام ہو رہا ہے لیکن اب بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔

راشد کہتے ہیں کہ جب وہ چین گئے تو اس وقت بیجنگ سمیت کچھ شہروں میں بچے سکولوں میں کرکٹ کھیلتے تھے لیکن اس کے بعد کرکٹ پر کافی کام ہوا اور اُن کی کوچنگ میں چین کی خواتین کرکٹ ٹیم نے 2010 کے ایشین گیمز میں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا جہاں اسے پاکستان سے شکست ہوئی تھی۔راشد خان کے مطابق چین کی حکومت اور کھیلوں کی دیگر تنظیموں کی زیادہ توجہ اولمپک گیمز میں کھیلی جانے والی گیمز پر ہی ہوتی تھی لیکن 2010 کے بعد اب بتدریج اس میں بہتری آ رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں سکول لیول پر 50 ٹیمیں قائم ہو چکی ہیں۔
اُن کے بقول 2014 کے ایشین گیمز میں بھی چین کی مرد اور خواتین کی کرکٹ ٹیموں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا چین کے عوام کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں؟ راشد خان کا کہنا ہے کہ جب وہ چین گئے تھے تو وہاں کے مقامی افراد کو کرکٹ کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی اور وہ اسے بیس بال سے ملتا جلتا کھیل سمجھتے تھے لیکن اب بتدریج اُن میں اس کھیل سے متعلق آگاہی بھی بڑھ رہی ہے۔اُن کے بقول چین میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کرکٹ کو پروفیشنل کھیل کے طور پر نہیں لیتے اور اسی وجہ سے حکومتی سطح پر کرکٹ کھیلنے والوں کو زیادہ فوائد نہیں ملتے جو اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے والوں کو ملتے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کی جانب سے چین کو کرکٹ میں لانے کے بیان پر راشد خان کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں رمیز چاہتے ہیں کہ کہ جس طرح چینی کمپنیاں بھارتی کرکٹ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اسی طرح وہ پاکستان کرکٹ میں بھی پیسہ لگائیں۔اُن کے بقول چین کی مختلف موبائل فون کمپنیاں بھارتی کرکٹ بورڈ اور انڈین پریمیئر لیگ کو سپانسر کر رہی ہیں۔

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ ‘کرک انفو’ کے پاکستان میں نمائندے عمر فاروق کہتے ہیں کہ چین میں کرکٹ زیادہ نہیں کھیلی جاتی اور یہی وجہ ہے کہ وہاں اس کھیل پر زیادہ پیسہ نہیں لگائے جاتے ۔اُن کے بقول رمیز راجا کی یہ کوشش ہے کہ کسی نے کسی طریقے سے کرکٹ میں پیسہ آئے تاکہ پاکستان، بھارت کی طرح دنیا کے دیگر ممالک کے لیے پرکشش ملک بن جائے۔

عمر کہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے بھی پی ایس ایل کے تیسرے سیزن کے دوران چینی کرکٹرز کو پاکستان بلایا تھا۔ ان کھلاڑیوں کو پی سی بی کے خصوصی اجازت ناموں کے ساتھ میچز کے دوران ٹیم ڈگ آؤٹ میں بٹھایا گیا تاکہ وہ اس کھیل سے ہم آہنگ ہو سکیں اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ گھل مل کر اس کھیل کے حوالے سے مزید معلومات لے سکیں۔اُن کے بقول چین میں جو کھلاڑی اس وقت کرکٹ کھیل بھی رہے ہیں، اُن میں زیادہ تر پاکستانی یا دیگر ایشین نژاد کھلاڑی ہیں۔ اگر کرکٹ کو اولمپک میں شامل کر لیا جائے تو شاید چین کی اس کھیل میں دلچسپی بڑھے لیکن اس کے لیے چینی عوام کی بھی اس کھیل میں دلچسپی درکار ہوگی۔

Back to top button