ڈاکٹر قدیر نے جوہری پھیلاؤ کا الزام اپنے سر کیوں لیا





پاکستانی جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کی کہانی بیان کرتے ہوئے معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے بتایا ہے کہ انہوں نے جوہری پھیلاو کا الزام اپنے سر اس لیے لیا تا کہ پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچایا جا سکے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل انکوائری شروع ہو جاتی اور ہمارے جوہری پلانٹ کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا۔اسکے علاوہ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں بھی لگا دی جاتیں لہٰذا میں نے اپنی گردن پیش کر دی۔ حکومت نے مجھ سے ٹیلی ویژن پر اعتراف کرایا اور مجھے اپنے گھر میں نظر بند کر دیا، یوں میں عالمی برادری کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کا بھی مجرم بن گیا۔

اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا قصہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ ملاقات جہاز میں ہوئی۔ وہ کراچی سے اسلام آباد آ رہے تھے۔ ہماری سیٹ خوش قسمتی سے ساتھ ساتھ تھی، یوں ان سے طویل گفتگو کا موقع مل گیا۔ وہ کم زور اور علیل دکھائی دیتے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو وہ مسکرا کر بولے عمر بہرحال عمر ہوتی ہے، ہمارے سارے ساتھی ایک ایک کر کے رخصت ہو چکے، پڑھنے لکھنے کو دل نہیں کرتا، اب صرف بندروں کو کھانا کھلاتا ہوں اور ٹیلی ویژن پر آپ لوگوں کی بک بک سنتا ہوں، لہٰذا بیمار اور کم زور نہ ہوں تو کیا ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ نے صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا پر مہربانی کی۔یہ بہت اعزاز کی بات ہے‘ پورا ملک آپ کا احترام کرتا ہے‘ آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’اچھا لگتا ہے بلکہ بہت اچھا لگتا ہے لیکن دنیا کی ہر کام یابی کی ایک قیمت ہوتی ہے، مجھے بھی وہ قیمت ادا کرنا پڑی جو اب مجھے بہت بھاری محسوس ہوتی ہے۔

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر خان نے بتایا کہ انہیں سفر کا بہت شوق تھا اور وہ دنیا گھومتے پھرتے رہتے تھے لیکن پاکستان کے ایٹمی پلانٹ نے ان سے سفر کی یہ آزادی چھین لی۔ بقول ڈاکٹر خان وہ 1980 کے بعد ملک سے باہر نہ جا سکے۔ انکا کہنا تھا کہ عام لوگوں کی طرح گھومنے پھرنے کی آزادی سے محرومی انہیں بہت تکلیف دیتی ہے۔ بقول ڈاکٹر خان، میرا دل چاہتا ہے میں کندھے پر تھیلا رکھ کر باہر نکل جاؤں لیکن جا نہیں سکتا۔ ملک کے اندر بھی محصور ہوں، سیکیورٹی کے بغیر کہیں نہیں جا سکتا، تعزیت کے لیے بھی جانا ہو تو ایک کرنل صاحب کو بتانا پڑتا ہے، وہ اجازت دیتے ہیں توچلا جاتا ہوں ورنہ پرسا دے دیتا ہوں۔ جاوید چوہدری نے بتایا کہ اس وقت بھی موصوف کرنل صاحب ڈاکٹرقدیر کے ساتھ جہاز میں سوار تھے اور ہماری گفتگو کان لگا کر سن رہے تھے۔ وہ یہ گفتگو سن کر ہنس پڑے اور میں نے بھی قہقہہ لگا دیا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر قدیر خان سے پوچھا کہ ’’آپ کے بارے میں مشہور ہے آپ کو غصہ بہت آتا ہے اور آپ صدر پاکستان بھی بننا چاہتے تھے‘‘۔ اس پر وہ مسکرائے غور سے میری طرف دیکھا اور فرمایا ’’یہ دونوں باتیں درست ہیں‘‘۔ وہ بولے ’’میاں نواز شریف مجھے صدر بنانا چاہتے تھے اور میں بھی راضی تھا۔ آپ اب مجھ سے پوچھیں گے‘ کیوں؟ بات پھر وہی ہے، سفر! میں صدر بننے کے بعد بھارتی صدر عبدالکلام کی طرح ٹریول کر سکتا تھا جو میرے لیے بہت بڑا تحفہ ہوتا لیکن یہ بھی ہو نہ سکا۔ نواز شریف مکر گئے بلکہ انھوں نے مجھے کے آر ایل سے بھی ریٹائرکرنے کا فیصلہ کر لیا‘۔ میں نے ٹوک کر پوچھا ’’اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے‘‘؟ وہ سنجیدگی سے بولے ’’میاں صاحب کانوں کے کچے ہیں۔ لوگوں نے ان کے کان بھر دیے تھے اور انھوں نے یقین کر لیا تھا۔

باقی رہی غصے کی بات تو وہ مجھے واقعی آتا ہے اور شدید آتا ہے لیکن اس کی وجہ ہوتی ہے، میں منافقت، کام میں کوتاہی اور وعدہ خلافی برداشت نہیں کر پاتا، میں نے جب کام شروع کیا تو مجھے ہر طرف سے ان تینوں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، میں نے لوگوں پر دباؤ ڈالنا شروع کیا اور یہ مجھے شارٹ ٹمپرڈ سمجھنے لگے۔ ان میں جنرل پرویز مشرف بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے بتایا کہ مشرف کرنل کی حیثیت سے کچھ عرصہ میرے ساتھ کام کرتے رہے۔ میں نے ایک دن ان کی سرزنش کی، وہ خاموش رہے لیکن دل میں رکھ لیا اور پھر مجھ سے اس کا بدلہ لیا مگر کیا فرق پڑتا ہے، میں آج بھی یہاں ہوں جب کہ وہ مارے مارے پھر رہے ہیں،اسے کہتے ہیں قانون قدرت۔

جاوید چوہدری کے مطابق انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان سے پوچھا کہ ’’آپ کا دل سب سے زیادہ کس نے دکھایا‘‘۔ وہ ہنس کر بولے ’’جنرل مشرف اور نواز شریف نے‘‘۔ وہ بولے ’’جنرل مشرف نے مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا اور میرے کام اور میرے احسانات کا ایک لمحے کے لیے بھی پاس نہیں کیا۔ میرے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا‘‘۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ ’’آپ انکار کر دیتے۔ آپ نے مشرف کے کہنے پر سارا الزام اپنے سر کیوں لے لیا؟‘‘ وہ دکھی لہجے میں بولے ’’مجھے چوہدری شجاعت حسین نے مجبور کیا تھا‘ میرے ان کے ساتھ ذاتی مراسم ہیں، وہ میرے پاس آئے اور میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر کہا، ڈاکٹر صاحب ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔ آپ نے اگر مہربانی نہ کی تو امریکا پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے دے گا۔ یہ جوہری پروگرام کو بھی غیر محفوظ ثابت کر دے گا لہٰذا آپ پاکستان کے لیے الزام قبول کر لیں اور میں چوہدری شجاعت حسین کو انکار نہ کر سکا۔ جاوید نے ڈاکٹر خان سے پوچھا ’’ آپ اگر انکار کر دیتے تو کیا ہوتا؟‘‘ وہ تھوڑی دیر سوچتے رہے اور پھر بولے پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل انکوائری شروع ہو جاتی اور ہمارے جوہری پلانٹ کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا، ملک پر اقتصادی پابندیاں بھی لگا دی جاتیں لہٰذا میں نے اپنی گردن پیش کر دی،حکومت نے مجھ سے ٹیلی ویژن پر اعتراف کرایا اور مجھے اپنے گھر میں نظر بند کر دیا، یوں میں عالمی برادری کے ساتھ ساتھ قوم کا بھی مجرم بن گیا۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی ڈاکٹر عبدالقدیر نہ ہوتے تو پاکستان دنیا کی واحد اسلامی نیوکلیئر پاور نہ ہوتا لیکن 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے وقت انھیں جان بوجھ کر اگنور کیا گیا۔ وہ اس پراجیکٹ کے بانی تھے، وہ نہ ہوتے تو پاکستان کبھی جوہری منزل نہ پا سکتا لہٰذا ڈاکٹر خان زیادہ عزت کے حق دار تھے، ہمیں ان پر جوہری راز بیچنے کا الزام نہیں لگانا چاہیے تھا اور یہ اگر مجبوری تھی تو پھر مجبوری ختم ہونے کے بعد ہمیں یہ داغ دھو دینا چاہیے تھا، ہمیں انھیں اس دھبے کے ساتھ دنیا سے رخصت نہیں کرنا چاہئے تھا، وہ ہمارے محسن تھے، قائد اعظم کی طرح کے محسن، جناح نے ملک بنایا تھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے ملک بچایا تھا لیکن ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہم نے انھیں چور بنا کر دنیا سے رخصت کر دیا، دنیا میں آج تک جو آیا اس نے چلے جانا ہے ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی 10 اکتوبر 2021 کو چلے گئے لیکن آپ بے حسی دیکھئے ، محسن پاکستان کے جنازے میں نہ تو صدر تھے، نہ وزیر اعظم تھے، نہ اپوزیشن لیڈر تھے اور نہ ہی سروسز چیفس تھے۔ کیا قومیں اپنے ہیروز کو اس طرح رخصت کیا کرتی ہیں؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گیلی قبر اس وقت پورے ملک سے یہی سوال کر رہی ہے، شاید اس اجتماعی بے حسی پر کوئی بول پڑے، کوئی ایک بول پڑے؟

Back to top button