عمران نے بھی اپنی آف شور کمپنی، اثاثے اور بنک اکاؤنٹ چھپائے





معروف تحقیاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دوسروں پر آف شور کمپنیاں بناکر منی لانڈرنگ اور قومی دولت لوٹنے کا الزام لگانے والے وزیراعظم عمران خان نے بھی ماضی میں اپنے ذاتی اثاثے، آف شور کمپنی، اور بینک اکاؤنٹس چھپائے لہذا نواز شریف کی طرح عمران کو بھی ان الزامات پر احتساب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سنیئر صحافی احمد نورانی کی فیکٹ فوکس پر شائع تحقیقاتی سٹوری میں بتایا گیا ہے کہ اگر نوازشریف کی اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نااہلی کے کیس میں لفظ ’’اثاثہ‘‘ کی وسیع تر تعریف کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو عمران خان کی جرسی چینل آئی لینڈز میں قائم اپنی آف شور کمپنی اور اس کے بینک اکاؤنٹ کا اعتراف دانستہ اثاثے چھپانے کا واضح ترین کیس ہے جس میں انہیں بھی نواز شریف کی طرح نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ نوارانی کے بقول ان دونوں کیسوں میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ نوازشریف کے خلاف حقدار ہونے کے باوجود 2006 سے مارچ 2013 تک بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا الزام لگا جبکہ اس دور میں انکے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں تھا، دودری جانب عمران کی ملکیتی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ اور اس کا بارکلے بینک میں اکائونٹ اور کمپنی کے دیگر اکائونٹس اس دور کے ہیں جب 2002، 2003، 2004 اور پھر 2012، 2013، 2014 اور 2015 میں وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے۔
احمد نورانی کی رپورٹ کے مطابق 33 برس تک آپریشنل رہنےکے بعد عمران خان کی ملکیتی کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ اکتوبر 2015 میں بند کی گئی جس کے پانچ ماہ بعد ایک جرمن صحافی کو جون 2015 میں پاناما پیپرز لیکس کی دستاویزات تک رسائی ملی۔ چنانچہ تب انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس یعنی آئی سی آئی جے سے وابستہ صحافیوں نے آف شور کمشنیوں کے ڈیٹا پر کام شروع کیا۔ شریف خاندان کے افراد نے تو بیرون ملک آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا اعتراف کیا جبکہ عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی کبھی ظاہر نہیں کی۔ احمد نورانی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور ان کے اکائونٹنٹ طاہر نواز سے بارہا استفسار کے باوجود آف شور کمپنی اور اس کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات میڈیا اور عدالت عظمیٰ کو کبھی فراہم نہیں کی گئیں۔ احمد نورانی کہتے ہیں کہ عمران کی آف شور کمپنی کے بینک اکائونٹس لندن نہیں بلکہ جرسی، چینل آئی لینڈز میں تھے جو آف شور کمپنیوں کےحوالے سے معروف ہے جبکہ عمران کا ذاتی اکائونٹ لندن میں تھا۔
اپنی آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے عمران خان کا دعویٰ تھا کہ آف شور کمپنی کے اپنے ملکیتی اثاثے یعنی لندن کے فلیٹ کو انہوں نے 2001 میں کالا دھن سفید کرنے کی سکیم کے تحت ظاہر کردیا تھا۔ تحریک انصاف کے وکلاء کا عدالت عظمیٰ میں کہنا تھا کہ آف شور کمپنی کا ایک ہی اثاثہ ظاہر کیا گیا چونکہ اسکا کوئی اور اثاثہ نہیں تھا جسے ظاہر کیا جاتا۔ واضح رہے کہ عمران خان نے 2013 کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرقاتے وقت اپنی آف شور کمپنی کے آپریشنل ہونے کا بتانے سے بھی احتراز کیا اور پاناما پیپرز سامنے آنے سے قبل اکتوبر 2015 میں کمپنی بند کردی۔
احمد نورانی نے فیکٹ فوکس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ تب بھی عمران کے لندن والے بینک اکائونٹ میں 127892 پائونڈز موجود تھے تاہم انہیں ظاہر نہیں کیا گیا حالانکہ واضح طور پر بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کا شمار اثاثے میں ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ افتخار احمد چیمہ ایم این اے کو اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیئے جانے کی سزا سے اتفاق نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ایک اصول طے کردیا تھا کہ جو ممبر پارلیمنٹ اپنے ادنیٰ سے اثاثے بھی ظاہر نہیں کرتا وہ بددیانت ہے اور آئین کے تحت نااہل قرار دیا جائے گا، لیکن عمران خان کو عدالت نے پھر بھی صادق اور امین قرار دیا حالانکہ اس بددیانتی کی بنیاد پر انہیں بھی نواز شریف کی طرح گھر سزا کا حقدار قرار دیا جاسکتا تھا۔
لہذا قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ وقت بدلنے پر یہ کیس عمران خان کے گلے پڑ سکتا ہے۔

Back to top button