ڈی جی ISI لگانے کا اختیار عمران کا ہے یا باجوہ کا؟





ڈی جی ISI ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی تعیناتی پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کے مابین ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آئینی طور پر پر خفیہ ادارے کا سربراہ وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے لیکن بطور حاضر سروس لیفٹننٹ جنرل وہ فوج کے ڈسپلن میں آتا ہے اور آرمی چیف کو جواب دہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی ان کا اختیار ہے تو آرمی چیف سمجھتے ہیں کہ اس اہم ترین پوسٹ پر حاضر سروس جرنیل کی تعیناتی فوجی قیادت کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

فوج کی جانب سے ندیم احمد انجم کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنے کے اعلان کے ایک ہفتہ بعد اب حکومت نے کہا ہے کہ اس پوسٹ پر تعیناتی کا قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا کیونکہ یہ اختیار وزیر اعظم کا ہے۔ لیکن ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان اس وقت بہت آئیڈیل تعلقات ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سول ملٹری قیادت کے آئیڈیل تعلقات کی ہانڈی بیچ چوراہے کے پھوٹ چکی ہے اور اب یہ دراڑ بھرنے کی بجائے مزید بڑھے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت ایک ایسے شخص کو ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر اپنی من مانی کرنے کی اجازت نہیں دے گی جس نے پچھلے تین برس میں فوج کے ادارے کو اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے استعمال کرکے اس کی ساکھ کو برباد کیا ہے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے لیے قانونی طریقہ کار کیا جسے بقول وزیراعظم اعظم اختیار نہیں کیا گیا؟ یا بھی جاننا یو گا کہ ماضی میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کیسے ہوتی رہی ہے اور ماضی میں اس کا اعلامیہ کون جاری کرتا رہا رہا ہے۔سینئر وکیل خواجہ حارث اس بارے میں کہتے ہیں کہ رولز آف بزنس کے مطابق تو طریقہ کار یہ ہے کہ سیکرٹری دفاع تین ناموں کی سمری تیار کر کے وزیراعظم آفس بھجواتے ہیں اور وہاں سے منظوری ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق ’تو یقیناً فائنل اختیار وزیراعظم کا ہی ہے لیکن اس میں آرمی چیف کی بطور سربراہ ادارہ مشاورت شامل ہوتی ہے۔‘

ایک سینیئر قانون دان نے بتایا کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے لیے یقینی طور پر نام تو آرمی چیف ہی دیتے ہیں اور یہی روایت رہی ہے، لیکن چونکہ آئی ایس آئی وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے اس لیے یہ اتھارٹی وزیراعظم کی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ عموماً یہی ہوتا آیا ہے کہ آرمی چیف وزیراعظم سے مشاورت کر کے نام وزرات دفاع کے ذریعے وزیراعظم آفس بھجواتے ہیں اور پھر نام کی منظوری ہوتی ہے۔

حالیہ معاملےمیں نام وزارت دفاع کے ذریعے نہیں آیا بلکہ آرمی چیف نے وزیراعظم سے ملاقات میں براہ راست نام والی سمری پیش کر دی اور اسی دوران پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اعلامیہ جاری کر دیا۔‘انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کو یہ تحفظات ہیں کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی منظوری سے پہلے ہی اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور وہ بھی جنرل فیض حمید کو مریم نواز شریف کی جانب سے چارج شیٹ کئے جانے کے چند گھنٹے بعد۔

ماضی میں ڈی جی آئی ایس آئی کیسے لگا کرتے تھے اس حوالے سے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ جب بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو ان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے موقع پر تنازع کھڑا ہوا تھا، جب حمید گل ڈی جی آئی ایس آئی تعینات ہوئے جن کا بعد ازاں ملتان کور تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ اس پر بھی سول ملٹری تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو نے ریٹائرڈ لیفٹینیٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا مگر فوج اور بینظیر کے مابین تناؤ برقرار رہا لہٰذا ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر تنازعہ پہلی دفعہ کھڑا نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی یہ معاملات یونہی چلتے رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف جب 1997 میں وزیراعظم تھے تب نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز پر وزیر اعظم اور تب کے آرمی چیف جنرل کرامت کے مابین تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔اس پر وزیراعظم نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جنرل جہانگیر کرامت سے کہا تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں اور وہ مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد نواز شریف نے جنرل مشرف کو آرمی چیف تعینات کیا۔ لیکن سول ملٹری تناؤ برقرار رہا۔

بعد ازاں مئی 1999 میں کارگل تنازع کے بعد جنرل مشرف اور نواز شریف کے مابین بھی سرد مہری آگئی۔ اسی دوران وزیراعظم نواز شریف نے اپنی مرضی سے ضیاء الدین بٹ کو آئی ایس آئی چیف لگا دیا تھا جس پر پرویز مشرف خوش نہیں تھے۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان کے غیر ملکی دورے سے واپسی کے سفر پر دوران پرواز ہٹا کر جنرل ضیاالدین خواجہ کو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا تو جنرل مشرف نے مارشل لا لگا دیا اور حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا تھق جس پر فوج میں سخت غصہ پایا گیا اور حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد وزیراعظم عمران خان عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی قیادت کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں یا ان کی جگہ اپنی مرضی کا ڈی جی آئی ایس آئی لے آتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کوئی فیصلہ کیا تو فوجی قیادت اور وزیر اعظم کے مابین اختلافات کی خلیج مذید وسیع ہونے کا امکان ہے۔

Back to top button