کیا عمران خان اپنی مرضی کا ISI چیف لگانے والے ہیں؟





ISI وفاقی حکومت کے اس اعلان کے بعد کہ آئی ایس آئی چیف تعینات کرنا وزیراعظم کا آئینی اختیار ہے، سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا عمران خان لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے حق میں فوجی قیادت کا فیصلہ برقرار رکھیں گے یا کسی اور کو اس اہم ترین خفیہ ادارے کا نیا سربراہ مقرر کر دیں گے؟
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے ISI کہ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی قانونی طریقہ کار کے مطابق ہو گی جس کے تحت آرمی چیف اس عہدے کے لیے وزیراعظم کو تین نام تجویز کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیراعظم فوجی قیادت کی جانب سے اعلان کردہ آئی ایس آئی سربراہ کی جگہ لیفٹننٹ جنرل آصف غفور یا کسی اور کو بھی تعینات کر سکتے ہیں۔ لہذا سوشل میڈیا پر اس بحث میں تیزی آگئی ہے کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس کا نیا سربراہ کون ہوگا، اور کیا فیض حمید کے دور میں توسیع کی جائے گی یا فوج کے امیدوار ندیم احمد انجم کی تقرری عمل میں آئے گی؟
اس بحث کا آغاز تب ہوا تھا جب فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے تاحال کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں اس معاملے پر افواہوں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ شروع میں تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان افواہوں کی تردید کی جاتی رہی لیکن پھر 12 اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان اختلافات کو بالواسطہ تسلیم کر لیا۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان فیض حمید کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ابھی اس عہدے پر کام جاری رکھیں۔ اس بارے حکومت کا اب یہ موقف سامنے آیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی پر وزیراعظم اور آرمی چیف ‘دونوں کا اتفاق رائے ہے لیکن انکی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کا ہے۔’
ISI اس حوالے سے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم آفس کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا کہ فوج کا وقار کم ہو اور سپہ سالار کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے کہ سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی آئے۔
لیکن سوال یہ یے کہ اب آئی ایس آئی کے سربراہ کون ہوں گے، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید یا لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم؟ اس سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے دونوں میں سے کسی کا بھی نام لیے بغیر کہا ہے کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر میشہ مشاورت اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد کیا جائے گا۔‘ ان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باوجوہ کے درمیان ’ایک طویل نشست‘ ہوئی جس میں یہ معاملہ بھی بحث کا موضوع تھا۔
ادھر سوشل میڈیا سے لے کر ٹی وی ٹاک شوز تک پر نظر دوڑائی جائے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے بعد بھی ابہام باقی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس وقت ’ڈی جی آئی ایس آئی‘ ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے جس میں عام لوگوں سے لے کر صحافی و تجزیہ کار اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ کچھ دنوں کی تاخیر کے بعد حکومتی موقف نے قیاس آرائیاں دور کر دی ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ ابہام کی فضا برقرار ہے۔
ISI ایک ٹویٹ میں اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ’جنرل ندیم انجم ہی نئے ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے‘ جس کی حکومت نے اپنے موقف سے تصدیق کر دی ہے۔ ’بس سمری نوٹیفیکیشن بھی آنے والا ہے۔ انکا۔کہنا ہے کہ اگر دونوں میں اختلاف نہیں تو کونسا معاملہ حل کرنا ہے؟ اختلاف نہیں تو بات چیت، ملاقات، مذاکرات، کابینہ میں بحث کیوں ہو رہی ہے؟ سمری پر سائن کیوں نہیں کیے جا رہے؟
اس معاملے پر ٹی وی اینکر کامران خان نے کہا ’افغانستان کی وجہ سے عالمی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہیں۔ پاکستان چند گھنٹوں کے لیے قومی سلامتی فیصلہ سازی میں عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ضروری ہے وزیر اعظم عمران، آرمی چیف جنرل باجوہ ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی پر متحد ہوں۔ ISI یہ ادارہ دونوں شخصیات کی مشترکہ پسند کے سربراہ کے بغیر نہیں چل سکتا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’آئی ایس آئی سربراہ تعیناتی اختیار وزیر اعظم کا ہے مگر عہدے پر فائز لیفٹیننٹ جنرل کا انتخاب آرمی چیف کے مشورے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ’یقیناً ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم کو رپورٹ کرتا ہے، ہدایت لیتا ہے۔ مگر وہ آرمی چیف کا بھی تابع ہوتا ہے، آرمی ڈسپلن کا پابند ہے۔ ایک شخصی پسند آئی ایس آئی سربراہ خطرے کی گھنٹی ہوگا۔ خدانخواستہ۔‘
ایک خاتون صارف نائلہ عنایت نے فواد چوہدری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سول ملٹری قیادت ’شاید ایک پیج پر ہیں مگر مختلف کتابوں کے۔‘ معرعف خاتون صحافی ریما عمر نے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ 6 اکتوبر کو ہونے والے آئی ایس پی آر کے ٹویفیکیشن کو ’ریجیکٹ یعنی مسترد کر دیا گیا ہے؟‘ صحافی کامران یوسف اس معاملے پر کہتے ہیں کہ ’اکتوبر 1998 میں تب کے وزیر اعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف جنرل مشرف سے مشاورت کے بغیر ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا تھا۔ اس سے اعلیٰ عسکری قیادت ناراض ہوئی تھی۔ خیال ہے کہ اس بار معاملہ الٹ ہے!‘
ISI وہ ریما عمر کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ ’وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری وزیراعظم کو بائی پاس کر کے کی گئی، جس کی وجہ سے تنازع شروع ہوا۔ دوسرے لفظوں میں وزیر اعظم نے آئی ایس پی آر کی 6 اکتوبر کی پریس ریلیز مسترد کر دی ہے۔‘
مگر سوشل میڈیا صارف ملیحہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔وہ کہتی ہیں کہ ‘تین سال عمران خان کو فوج کا سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی کا طعنہ دینے والے آج یہ افواہ اڑا کر بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ فوج اور عمران خان متحد نہیں۔’ اس دوران سماجی کارکن جبران ناصر کا موقف تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے پر ہم ’انفرادی شخصیات کو فوقیت دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مسلح افواج کی ادارتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے کہ وہ کسی تعیناتی کے لیے تیار، قابل اور آمادہ متبادل تلاش کر سکیں۔‘ سینئیر صحافی طلعت حسین کو اعتراض ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں مندی، معاشی تنزلی، آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف، امریکہ، افغانستان، انڈیا، دہشتگردی، مظاہروں اور ’دیگر 10 لاکھ چیزیں ہیں لیکن اولین ترجیح ’درست‘ ڈی جی آئی ایس آئی ہے۔‘ ISI خاتون صحافی نسیم زہرہ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اپنی اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو جلد از جلد ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر فیصلہ لینا ہوگا۔ یہی یہ قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔‘ اس صورتحال پر سینیئر تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کو لے کر ‘ڈیڈ لاک برقرار ہے‘ جس سے ’ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو تبدیل کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کو ’اعتماد میں لیے بغیر نہیں کیا ہوگا۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وزیر اعظم سویلین بالادستی کے لیے جنرل فیض حمید کے تبادلے کو تسلیم نہیں کر رہے تو پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے بیانیے ‘ووٹ کو عزت دو‘ کو اپنا لیا ہے۔‘

Back to top button