آئی ایس آئی کا کنٹرول لینے کی جنگ کون جیتے گا؟





اسلام آباد میں اندر کی خبر رکھنے والے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر کھڑا ہونے والا تنازعہ ابھی حل نہیں ہو سکا جسکا ثبوت وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا ہے کہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا جبکہ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری وزیراعظم کا اختیار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر وزیراعظم عمران خان اپنی مرضی کا ڈی جی آئی ایس آئی لگا کر ادارے کا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے تھے اس لیے آئی ایس پی آر کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے نام کے اعلان کے بعد ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود وزیراعظم ہاؤس سے انکا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ اب فواد چوہدری انہیں یہ کہہ دیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی وزیر اعظم کا اختیار ہے اور یہ عمل قانونی طور طور پر سرانجام دیا جائے گا۔ یعنی دبے لفظوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا اعلان قانونی عمل نہیں تھا۔ تاہم مسئلہ صرف اتنا ہی نہیں کہ فوج کے ادارے نے اپنی مرضی کا آئی ایس آئی چیف لگانے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کم از کم دسمبر 2021 تک آئی ایس آئی چیف برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ عمران خان آئی ایس آئی کے فیض حمید کو مزید چند ماہ اسی عہدے پر رکھنے کے خواہشمند تھے لیکن اب نئے ڈی جی کی تعیناتی طریقہ کار کے تحت ہوگی۔ انھوں نے ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے بتایا کے وزیراعظم ایسا افغانستان کی صورت حال کی وجہ سے چاہتے تھے۔
اس سے قبل وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے معاملے پر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں اختلاف کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سول و ملٹری قیادت ‘ایک پیج’ پر ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گرم ہیں کہ عمران خان فیض حمید کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فیض ان کا مزید کچھ وقت نکلوا دیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جنرل فیض حمید نے خود کو مستقبل میں آرمی چیف کے عہدے کا امیدوار بنانا ہے تو ان کے لئے کور کی کمانڈ کرنا لازمی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عامر ڈوگر کے مطابق 12 اکتوبر کو کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے بتایا کہ انھوں نے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے کہا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری طریقہ کار کے تحت ہوگی۔‘ سما ٹی وی پر بات کرتے ہوئے عامر ڈوگر نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ ‘میرے جنرل قمر باجوہ سے آئیڈیل تعلقات ہیں اور کسی بھی آرمی چیف کے وزیر اعظم سے اتنے آئیڈیل تعلقات نہیں رہے جتنے میرے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ موجودہ افغانستان صورت حال میں جنرل فیض اس عہدے پر کچھ ماہ اور رہ جاتے۔ انھوں نے کہا ‘اب لائحہ عمل یہ ہے کہ تین یا پانچ نام وزارت دفاع کی طرف سے آئیں گے جن میں سے ایک نام کا انتخاب وزیر اعظم کریں گے۔۔۔ وزیراعظم نہیں چاہتے کہ ایسا تاثر جائے کہ ہم فوج کو کمزور کر رہے ہیں۔

ڈوگر نے بتایا کہ ‘یہ پیشہ ورانہ فیصلہ ہے جو آرمی چیف کر رہا ہوتا ہے۔ اسے پتا ہے اپنے جرنیلوں میں کس کو کس پوزیشن پر کھلانا ہے۔۔۔ لیکن ایک طریقہ کار ہوتا ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے۔ اس۔مرتبہ طریقہ کار میں کوئی خلا رہ گیا ہے۔’ عامر ڈوگر کے مطابق ‘عمران خان نے کہا کہ جنرل ندیم کی شہرت بہت اچھی، بڑے پروفیشنل جنرل ہیں۔ ان کی ذات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر عمران قانون کی بالادستی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ڈوگر نے بتایا کہ عمران خان نے آرمی چیف سے کہا کہ ‘آپ طریقہ کار اپنائیں ورنہ ماضی میں تو یہاں ربڑ سٹیمپ تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں۔’ اس پر جب اینکر ندیم ملک نے عامر ڈوگر سے پوچھا کہ آیا عمران خان نے کابینہ اجلاس میں یہ بات کہی کہ ‘میں ربر سٹامپ نہیں ہوں’ تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ‘ساری باتوں کا تو آپ کو پتا ہے، میرے منھ سے آپ نے ضرور نکلوانا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان کا ہے وہ ہی فیصلہ کریں گے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی وہی ہوں گے جن کا اعلان آئی ایس پی آر نے کیا یا کوئی اور جسے وزیراعظم مقرر کریں گے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی کامران خان نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏آئی ایس آئی سربراہ کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کا ہے مگر لیفٹیننٹ جنرل کا انتخاب آرمی چیف کے مشورے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یقیننا DG ISI وزیر اعظم کو رپورٹ کرتا ہے ہدایت لیتا ہے مگر وہ COAS کا بھی تابع ہوتا ہے آرمی ڈسپلن کا بھی پابند ہے۔ لہازا صرف ایک شخص کی پسند سے آئی ایس آئی کا سربرا لگانا خطرے کی گھنٹی ہوگا۔

Back to top button