جام کمال کی وزارت اعلی بچنے کے امکانات ختم کیوں ہو گئے؟





بلوچستان کی سیاست میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر اعلی کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی اراکین کی ایک بڑی تعداد کی مخالفت کا بھی سامنا ہے اور ان کے خلاف حکومتی اراکین کی جانب سے بھی تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو جام کمال نے اپنی وزارت کو دوام بخشنے کے لیے وہ تمام گر بھی آزما لیے جو شاید ان سے پہلے قبل از وقت گھر بھیجے جانے والے وزرائے اعلی میں سے کسی نے نہیں آزمائے تھے۔ جمع تفریق کے مطابق جام کمال کے خلاف اپوزیشن اراکین کی تعداد 23 ہے جبکہ انکے مخالف حکومتی اراکین کی تعداد 15 ہے جن میں سے 14 نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دیا ہے جبکہ 15ویں رکن خود سپیکر بلوچستان اسمبلی ہیں جو جام کمال کے دشمن نمبر ایک ہیں۔

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عادل شاہ زیب کے مطابق بلوچستان کی سیاست میں اکثر معمول رہا ہے کہ وزارت اعلی کے ایک سے زیادہ امیدوار ہونے کی وجہ سے کوئی بھی وزیراعلی زیادہ عرصے ٹک نہیں پاتا۔ راتوں رات حکومتیں بنتی اور ختم ہو جاتی ہیں اور چٹکی بجتے ہی وزیراعلی کا تبدیل ہونا کوئی زیادہ حیرت کی بات نہیں۔

‎موجودہ وزیراعلی جام کمال کے خلاف بھی بغاوت کا آغاز ان کے حلف اٹھاتے ہی ہو گیا تھا کیونکہ سابق وزیراعلی اور انہی کی پارٹی کے سپیکر قدوس بزنجو بھی وزارت اعلی کے مضبوط امیدوار تھے۔ سپیکر صاحب کی نجی محفلیں ہوں یا میڈیا گفتگو وہ اب تک کھل کر جام کمال کی مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن جام کمال کو اب تک وہ کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن اب معاملہ جام کمال کے ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ وہ حلقے جنوں نے جام کمال کو وزیراعلی بنوانے میں کلیدی کردار ادا کیا یا تو کسی اور کو وزیراعلی لانے یا نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ عادل شاہ زیب کے مطابق حالیہ سیاسی ہلچل کا آغاز تو 14 ستمبر کو ہوا جب اپوزیشن جماعتوں کے 16 اراکین نے جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی لیکن اسے گورنر نے اعتراض لگا کر جام کمال کو ایک لائف لائن فراہم کر دی۔

‎لیکن اس کے باوجود حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ناراض اراکین اسمبلی اور اپوزیشن کی بیٹھیں اور پھر اسلام آباد میں بھی اہم ملاقاتیں جاری جس کے دباؤ میں یہ خبر تک پھیل گئی کہ جام کمال مستعفی ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ لیکن اس پیش رفت کے ساتھ ہی ایک اور ایسی ڈیویلپمنٹ ہوئی کہ جس سے فی الحال جام کمال کی حکومت کا جانا تقریبا ٹھہر چکا ہے بشرطیکہ جام کمال کو وزیراعلی بنوانے والے حلقے ایک دفعہ پھر انہیں بچانے کے لیےمیدان میں نہ اتر آئیں۔ حکمران اتحاد کے ناراض اراکین نے جام کمال کو مستعفی ہونے کے لیے چھ اکتوبر تک کی ڈیڈلائن دی تھی۔ تاہم جام کمال اپنے منصب پر برقرار رہے۔

جس کے بعد ان کی کابینہ کے تین وزیر وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی، وزیر خوراک عبدالرحمان کھیتران، وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ، جبکہ چار مشیروں نے احتجاج استعفی دیدیا۔۔۔ اپوزیشن کے علاوہ ان کی اپنی جماعت کے اراکین نے اپنے وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد پیش کر کے جام کے ٹھہرنے کی رہی سہی کسر بھی ختم کر دی ہے۔اس وقت جام کمال کے مخالفین میں اپوزیشن کے 23 جبکہ حکومتی اتحاد کے 15 اراکین شامل ہیں۔ یعنی نمبر گیم سے یہ نتیجہ اخذ ہو رہا ہے کہ جام کمال اپنی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

‎اگر زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے تو جام کمال نے اپنی وزارت کو دوام بخشنے کے لیے وہ گر بھی آزما لیے جو شاید ان سے پہلے قبل از وقت گھر جانے والے وزیراعلی میں سے کسی نے نہیں آزمائے۔ مرکزی حکومت کی شدید ناقد جماعت جمعیت علمائے اسلام کے رہنما غفور حیدری سے جام کمال کی ملاقات اور مدد کی درخواست نے ان کی کمزور پوزیشن کو مزید عیاں کیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکز میں مائی باپ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے بھی جام کمال کو بچانے کے لیے ہنگامی دورے کیے۔

ناراض اراکین کو رام کرنے کے لیے ہرممکن اور سر توڑ کوششیں کی تاہم فل الحال نتیجہ ناپید ہی ہے۔ اپوزیشن تو شروع سے ہی جام کمال کے طرز حکمرانی کو بلوچستان کے لیے نقصان دہ قرار دیتی رہی لیکن خود حکمران جماعت باپ کے 14 اور اتحادی پی ٹی آئی کے ممبران کا ایک مشترکہ گلہ ‎یہ ہے کہ جام کمال ایک ’مطلق العنان‘ حکمران ہیں جو کسی کی نہیں سنتے اور کوئی ایسی وزارت نہیں جس میں وہ براہ راست مداخلت نہ کرتے ہوں۔ تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سردار یار محمد رند ہوں، سپیکر قدوس بزنجو ہوں یا وزیر خزانہ ظہور بلیدی جیسے کابینہ کے سینیئر اراکین انہیں گلہ جام کمال کے رویے اور طرز حکمرانی سے ہے۔

‎مسئلہ یہ ہے کہ جام کمال ابھی بھی بضد ہیں نہ تو وہ نوشتہ دیوار پڑھ پا رہے ہیں اور نہ ہی اپنے ساتھیوں منانے کے لیے اپنا رویہ تبدیل کر پائے ہیں۔ نقصان بلوچستان اور وہاں کی عوام کا ہو رہا ہے جہاں گذشتہ چند ماہ سے حکومتی رٹ مسلسل کمزور ہوتی چلی آرہی ہے۔ آدھی سے زیادہ اسمبلی اور کابینہ بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں ڈیرے ڈال چکی ہے۔ ایک اور پہلو کو بھی جام کمال نظر انداز کر رہے ہیں اور وہ یہ جتنی تیزی سے انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کا اعتماد کھویا ہے اتنی ہی تیزی سے ان کی حکومت غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ جام صاحب کے پاس کمال دکھانے کے لیے وقت کم ہے لیکن انہیں یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ اگر وہ جلد بلوچستان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے یا بصورت دیگر مستعفی نہیں ہوتے تو بلوچستان کی غیریقینی کی سیاست مرکز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر عمران خان کے لیے بھی نہ ٹلنے والے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

Back to top button