ڈی جی ISI کی تعیناتی پر تنازعہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟





نئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی تعیناتی پر پیدا ہونے والا حالیہ تنازعہ 1999 کی یاد دلاتا ہے جب وزیراعظم نواز شریف نے اپنی مرضی سے جنرل ضیاء الدین بٹ کو کو آئی ایس آئی کا سربراہ تعینات کر دیا تھا لیکن اس تعیناتی کا انجام ایک برس بعد جنرل مشرف کی فوجی بغاوت کی صورت میں ہوا۔ڈی جی ISI کی تعیناتی پر تنازعہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین اختلاف پیدا ہوا ہوں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی آرمی چیفس اور وزرائے اعظم کے درمیان ماضی میں بھی وجہ تنازع بنتی رہی ہے۔ اس مسئلے کی بنیاد کسی قانون کا نہ ہونا ہے جو ذمہ داری کا تعین کرے کہ یہ تقرری وزیراعظم نے کرنی ہے یا پھر آرمی چیف نے۔ عام طریقہ کار کے مطابق وزیر اعظم ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تقرر کرتے آ رہے ہیں، لیکن چیف آف آرمی سٹاف کا کردار ڈی جی آئی ایس آئی کو چننے میں قطعاً معمولی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ آرمی افسران بالآخر آرمی چیف کی کمان میں کام کرتے ہیں۔

ڈی جی ISI کی تعیناتی پر تنازعہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان فارغ ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ فیض ہی اس عہدے پر کام جاری رکھیں۔ فوج کے اندر معمول کے تقرر اور تبادلوں کے اعلان کے تحت ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ طریقہ کار میں معمولی تبدیلی آئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ پریس ریلیز میں ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر کرنے والی ‘اتھارٹی’ کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ باالفاظ دیگر پریس ریلیز میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ کس نے ڈی جی آئی ایس آئی کو تعینات کیا ہے۔ دونوں میں سے کسی طرف سے اس تنازع پر سرکاری بیان میسر نہیں یا یوں کہیے کہ سرکاری سطح پر کسی نے بھی باضابطہ اس پر موقف نہیں دیا۔

اس معاملے پر دفاعی تجزیہ کار عمر فاروق کہتے ہیں کہ ماضی میں طریقہ کار یہ رہا ہے کہ وزیراعظم تین افسران کے ‘پینل’ میں سے ایک کا ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے انتخاب کرتے ہیں۔ تین افسران کی یہ فہرست آرمی چیف وزیراعظم کو بھجواتے ہیں۔ تقرری کا نوٹیفیکیشن وزیراعظم سیکریٹریٹ سے جاری ہوتا ہے۔ ماضی کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہ آئی ایس پی آر ہی آرمی کمان میں ہونے والے تقرر اور تبادلوں کے حصے کے طور پر ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اعلان کرتا ہے۔ مسئلے کی جڑ کسی ایسے قانون کی عدم موجودگی ہے جو انٹرسروس انٹیلیجنس میں تقرر اور تبادلوں کے امور کار کو دیکھے۔

ڈی جی ISI کی تعیناتی پر تنازعہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے یاد رہے کہ 1999 میں تب کے فوجی سربراہ جنرل مشرف نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس روز اس وقت کے سول اور فوجی سربراہ کے درمیان اختلافات اپنے منطقی انجام کو پہنچے تھے جن کا آغاز اس نکتہ انجام سے ٹھیک ایک برس قبل پاکستان کی سب سے طاقتور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری سے ہوا تھا۔ 12 اکتوبر 1999 کا دن اس لیے بھی پاکستان کی فوجی اور سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن بنا کہ اس روز ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک حاضر سروس آئی ایس آئی چیف کو گرفتار کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین بٹ کو 12 اکتوبر 1999 کو ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر گرفتار کرنے والے افسر کا نام کرنل شاہد علی تھا جو اس وقت آرمی کی لیجنڈری ’ٹرپل ون‘ (111) بریگیڈ کے بٹالین کمانڈر تھے۔ جنرل مشرف کی کتاب ’اِن دا لائن آف فائر‘ کے مطابق کرنل شاہد علی وہ شخص تھے جنھوں نے 12 اکتوبر 1999 کی شام کو فوجی بغاوت کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے اپنے دستوں کے ہمراہ وزیراعظم ہاﺅس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ہمراہ اس شخص کو گرفتار کر لیا تھا جو حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی تھے اور جنھیں نوازشریف نے آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ فوجی بغاوت سے قبل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضیاالدین بٹ نے ایک سال تک ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر فرائض سرانجام دیے تھے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر تعیناتی کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین فوجی حلقوں میں ایک ایسے جنرل کے طورپر مشہور ہو گئے تھے جن کا نوازشریف سے خون کا رشتہ ہے۔ جنرل مشرف جی ایچ کیو میں اُنھیں چیف آف جنرل سٹاف لگانا چاہتے تھے۔

اقتدار پر قبضے کے بعد پرویز مشرف اپنے دوستوں سے یہ مذاق کرتے تھے کہ ’1998 میں چیف آف آرمی سٹاف بننے کے بعد جیسا کہ انھوں نے سوچا تھا کہ وہ جنرل ضیا الدین کو چیف آف جنرل سٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان کو ڈی جی آئی ایس آئی لگائیں گے۔ اگر ان کے منصوبے کے مطابق یہ تقرریاں ہو جاتیں اور نواز شریف مجھے ہٹانے کی کوشش کرتے تو یہ کوشش کامیاب ہو جاتی۔‘ نوازشریف نے ضیاالدین کو ڈی جی آئی ایس آئی بنا دیا جس کے نتیجے میں مشرف اپنے سابقہ آئی ایس آئی کے قریبی سمجھے جانے والے ساتھی لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان کو چیف آف جنرل سٹاف لگانے پر مجبور ہوئے، مشرف کے مطابق چیف آف جنرل سٹاف ایک ایسا کلیدی منصب تھا جس کی بنا پر 12 اکتوبر 1999 کی شام وزیراعظم نوازشریف کی انھیں چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش ناکامی میں بدل گئی۔

اپنی کتاب ’اِن دا لائن آف فائر‘ میں مشرف نے 12 اکتوبر کے اس دن کے واقعات کی واضح تفصیل تحریر کی ہے کہ چیف آف جنرل سٹاف کی بھجوائی ہوئی ٹرپل وَن بریگیڈ کے دستوں نے کس طرح جنرل ضیاالدین بٹ پر قابو پایا اور 10 کور کمانڈر نے وزیراعظم ہاﺅس کو کنٹرول میں لے کر وزیراعظم اور ان کے ہمراہ موجود اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو گرفتار کر لیا۔ مشرف کی کتاب کے مطابق جنرل ضیا الدین نے وزیراعظم ہاﺅس کی دہلیز پر اصرار کیا کہ وہ نئے چیف آف آرمی سٹاف ہیں اور ٹرپل وَن بریگیڈ کے دستوں کو ان کی کمانڈ میں ان کے حکم کو ماننا ہو گا۔ تاہم کرنل شاہد علی نے ان کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ بعدازاں ان کی حفاظت پر مامور سپیشل سروسز گروپ کمانڈوز نے اپنے ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد زبردستی ان سے ’سرنڈر‘ کرایا گیا۔

عمر فاروق کے مطابق جنرل مشرف بطور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاالدین پر اعتماد نہیں کرتے تھے، اول دن سے انھوں نے آئی ایس آئی سے کلیدی فائلیں اور منصوبہ جات واپس لے لیے تھے اور کشمیر و افغانستان سے متعلقہ ذمہ داری اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان کو سونپ دی تھی جو اس سے قبل آئی ایس آئی میں اپنی سروس کے دوران کشمیر اور افغانستان سے متعلق امور نبھا چکے تھے۔

دوسری جانب جنرل ضیا الدین وزیراعظم نوازشریف کے نہایت قریب آ گئے تھے اور نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک دوروں میں بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوتے تھے۔ جی ایچ کیو کو اس پر شک ہو گیا اور اس نے جنرل ضیاالدین کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ آرمی نے بطور ادارہ جنرل ضیاالدین بٹ کے بارے میں تین انکوائریاں کرائیں مگر بعدازاں انھیں ان الزامات سے بری کر دیا گیا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی وزیراعظم کی منصوبہ بندی یا ’سازش‘ کا حصہ تھے۔

اکتوبر 1999 میں فوجی بغاوت کے فوری بعد جنرل مشرف نے عنان اقتدار بطور چیف ایگزیکٹیو سنبھال لی اور اکتوبر کی بغاوت سے پہلے آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان تعلقات کی خرابی میں انٹیلیجنس چیفس کے کردار کی تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ تحقیقات ایک لیفٹیننٹ جنرل نے کی تھیں جو فوجی حکومت کے ابتدائی برسوں میں مشرف کے سیکریٹریٹ کا حصہ رہے۔ اس تحقیقات سے پتہ چلا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر دونوں ہی وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات کی خرابی کے ذمہ دار تھے۔ یہ دونوں ادارے مل کر ملک کی ایگزیکٹیو اتھارٹی تشکیل دیتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف انکوائری کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل نے کیا تھا جو مشرف کے انتہائی بااعتماد تھے۔ وزیراعظم نوازشریف نے جس دن سے ضیاالدین بٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا، اسی دن سے وہ مشرف کی نگاہوں میں مشکوک ہو گئے تھے لہذا جب نواز شریف نے انہیں آرمی چیف مقرر کیا تو انہیں گرفتاری بھی بھگتنا پڑ گئی، تاہم وہ کورٹ مارشل سے بال بال بچ گئے۔

Back to top button