جہانگیر ترین نے عمران کیلئے ہارس ٹریڈنگ کا اعتراف کرلیا





وزیر اعظم عمران خان کے سابقہ دوست جہانگیر ترین نے 2018 الیکشن کے بعد ہارس ٹریڈنگ سے پنجاب حکومت بنوانے کا اعتراف کر کے اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات کی تصدیق کر دی ہے کہ آزاد صوبائی اراکین کی وفاداریاں پیسے سے خرید کر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بنوائی گئی تھی۔

ماضی میں پی ٹی آئی میں کنگ میکر کی حیثیت رکھنے والے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین نے کپتان اینڈ کمپنی پر اپنے احسانات جتاتے ہوئے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر یہ اقرار کیا ہے کہ عام انتخابات 2018 کے بعد مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے انہوں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ترین کا کہنا ہے کہ ان کا الگ سیاسی دھڑا آج بھی برقرار ہے اور وہ آئندہ الیکشن سے قبل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

جہانگیر ترین نے یہ اعتراف ضلع لودھراں کی تحصیل کہروڑ پکہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں انہوں نے اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ دیگر تمام مسائل کو ایک طرف رکھیں اور پہلے مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ ایک ویڈیو کلپ میں جہانگیر ترین نے بتایا کہ انہوں نے پنجاب حکومت بنانے میں عمران خان کی کس طرح مدد کی تھی۔ خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی تحریک انصاف پر الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ وہ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے جہانگیر ترین کے پیسے سے ہارس ٹریڈنگ اور آزاد ارکان کی وفاداریاں خرید رہی ہیں۔یہ پہلی بار تھا کہ جہانگیر ترین نے اس سلسلے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا لیکن انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں کیں کہ انہوں نے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شمولیت کا لالچ کیسے دیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ اگرچہ تحریک انصاف صوبہ پنجاب میں کامیاب ہوئی تاہم اسے پنجاب حکومت بنانے کے لیے چند نشستوں کی کمی کا سامنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میرے طیارے نے اڑان بھری، ہمارے پاس مسلم لیگ ن کے مقابلے میں 8 عدد نشستیں کم تھیں جبکہ 23 آزاد ایم پی اے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عمران کا پیغام ملا کہ پنجاب میں کمزور حکومت بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ فکر نہ کریں، سب بہتر یو جائے گا، اور پھر اللہ کے فضل سے سب بہتر ہو گیا، انہعں نے کہا کہ اسی طرح وفاقی حکومت بنانے کے لیے ہمیں 9 اراکین قومی اسمبلی کی کمی کا سامنا تھا لیکن میں نے مطلوبہ ایم این ایز اکٹھے کر لیے۔ انہوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ پنجاب میں حکومت قائم ہونے کے فوراً بعد ان کے اور عمران خان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی تھیں۔

مجھے اس سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم سازش کرنے والے اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر میرے تعلقات عمران خان کے ساتھ مکمل طور پر منقطع نہ ہوئے تو میں انکے لیے ایک خطرہ ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے ڈیڑھ سال تک کام کیا، وہ میرے خلاف اس حد تک گئے کہ کوئی حکومت کسی ایک شخص کے خلاف اتنا نہیں گئی ہوگی، لیخن ایک بار پھر میں عزت سے کھڑا ہوا، دو وزراء، چند ایم این ایز اور ایم پی ایز نے میری حمایت کی اور انہوں نے عمران خان کے سامنے بھی کہہ دیا کہ میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ان کا گروپ اب بھی فعال ہے اور وہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات میں دو سال باقی ہیں، ہم بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھا فیصلہ کریں گے، ایسا فیصلہ جو پاکستان کے حق میں ہو۔جہانگیر ترین نے کہا کہ جب انہیں انتخابات سے صرف چھ ماہ قبل ’ایک غلط اور فضول فیصلے کے نتیجے میں بطور پارلمینٹیرین نااہل قرار دیا گیا تو انہوں نے پاکستان چھوڑ دیا تھا تاہم انہوں نے عمران خان کو نہیں چھوڑا۔ ترین نے کہا کہ جب وہ بیرون ملک تھے تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اگر آج میں پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں جو کچھ کر رہا تھا وہ صرف ذاتی مفادات کے لیے تھا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں تحریک انصاف کے لیے اپنی جدوجہد اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھوں گا، تاہم بعد میں ان کے لئے حالات اتنے خراب کر دیے گئے کہ انہیں دیکھو اور انتظار کرو گے پالیسی اپنانا پڑ گئی۔

Back to top button