ظاہر جعفر کے والدین کا فرد جرم سے بچائو کیلئے ہائیکورٹ‌ سے رجوع

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے فرد جرم سے بچنے کے لیے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے 14 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کا دن مقرر کیا ، ٹرائل کورٹ کے 6 اور 7 اکتوبر کے آرڈرز غیرقانونی ہیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو ابھی تک سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹ اور کوئی اور شواہد فراہم نہیں کیا گیا لہٰذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو جلد سے جلد کالعدم قرار دے۔ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی اس وقت اڈیالہ جیل میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 14 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی تھی۔ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مرکزی ملزم ‏ظاہر جعفر، ان کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی، 3 گھریلو ملازمین اور تھراپی ورکس کے چیف ایگزیکٹو افسر (‏سی ای ‏او) سمیت 6 ملازمین کی موجودگی میں نور مقدم قتل کیس کی تاریخ مقرر کی۔سیشن کورٹ نے 6 اکتوبر کو نور مقدم قتل کیس کے ملزموں پر فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ مؤخر کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔ظاہر ذاکر جعفر کے خلاف مقتولہ کے والد کی مدعیت میں دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی جس کے تحت ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعدازاں عدالت میں پیش کردہ پولیس چالان میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھیوں کی ملی بھگت کے باعث نور مقدم نے جان بچانے کی 6 کوششیں کی جو ناکام رہیں۔وقوعہ کے روز 20 جولائی کو ظاہر جعفر نے کراچی میں موجود اپنے والد سے 4 مرتبہ فون پر رابطہ کیا اور اس کے والد بھی اس گھر کی صورتحال اور غیر قانونی قید سے واقف تھے۔

واضح رہے کہ مقامی عدالت سے ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن 29 ستمبر کو ہائی کورٹ نے بھی ملزم کے والدین کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی تھی جس پر انہوں نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

Back to top button