عمران خان بالواسطہ کس کو دھمکیاں دے رہے ہیں؟





معروف صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان حضرت عمر فاروق کے ہاتھوں اپنے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید کی معزولی کا تذکرہ کر کے کس شخص کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو حضرت عمر فاروق اور خالد بن ولید کی مثالیں دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور سوچنا چاہیئے کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ اپنا موازنہ اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیات کے ساتھ کریں۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیہ میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ بڑے سادہ ہیں وہ لوگ جو عمران خان کو سادہ سمجھتے ہیں۔ بلاشبہ اسٹیٹس مین شپ ان کے قریب سے بھی نہیں گزری لیکن سیاست میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ان کی ضرورت ختم ہو جائے تو اکبر ایس بابر سے لے کر جہانگیر ترین تک جیسے محسنوں کو بھی پرے پھینکنے میں دیر نہیں لگاتے اور ضرورت پڑے تو شیخ رشید احمد اور بابر اعوان جیسے لوگوں کو بھی گلے لگالیتے ہیں جنہوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر ان کے روبرو ان پر ذاتی حملے کئے تھے۔ 
مذہب کا کارڈ خان صاحب جس طرح استعمال کررہے ہیں، اس طرح ہمارے سیاسی مولویوں نے بھی کبھی نہیں کیا۔ پہلے نواز شریف کے خلاف توہین رسالت اور مذہب کا کارڈ استعمال کیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد اپنے گرد شہباز گل، زلفی بخاری اور اسد عمر جیسے لوگ جمع کئے لیکن نام ریاست مدینہ کا استعمال کرنے لگے۔ عدلیہ، میڈیا اور نیب جیسے اداروں کو جس طرح انہوں نے استعمال کیا، وہ بیس نواز شریف اور دس آصف زرداری مل کر بھی نہیں کرسکتے۔ قومی سلامتی کے اداروں کو جس قدر انہوں نے متنازعہ بنایا، وہ سینکڑوں نریندر مودی بھی نہیں بناسکتے۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ان دنوں سیاسی ضرورتوں کے تحت عمران خان بولتے ہوئے وزیراعظم کم جبکہ علامہ، مورخ اور مبلغ زیادہ دکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم جب وہ اسلامی تاریخ کا حوالے دیتے ہیں تو بھی اپنی طرح سلیکٹڈ دیتے ہیں اور کسی دینی حکم کا سہارا لیتے ہیں تو اس میں بھی مرضی کے مطابق سلیکشن کرلیتے ہیں۔ مثلاً ان دنوں انہوں نے ایک بار پھر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں حضرت خالد بن ولیدؓ کی معزولی کا تذکرہ شروع کر رکھا اور ہر کوئی جانتا ہے کہ اس کے ذریعے وہ کس کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓنے کیا صرف یہی ایک کام کیا تھا جس کا وہ بار بار تذکرہ کرتے ہیں۔  صافی کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کی شہرت تاریخ کے سب سے بڑے عادل حکمران کے حوالے سے ہے جس کا عمران خان کی حکومت میں نشان تک نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اس عدل کا ذکر کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت عمر کی شہرت اس حوالے سے تھی کہ ان کے دور خلافت میں ان کے بیٹے کو سزا ہوئی جبکہ عمران نے خود کو اور اپنے سب چہیتوں کو احتساب سے مبرا کردیا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ وہ خلیفہ تھے کہ ان کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے۔  صافی سوال کرتے ہیں کہ کیا خان نے کبھی ان کی شخصیت کے اس پہلو کا ذکر کیا؟ آپ رضی اللہ عنہ جب کسی سرکاری عہدے پر کسی شخص کا تقرر کرتے تو اس کے اثاثوں کا تخمینہ لگوا کر اپنے پاس رکھتے، کیا عمران خان نے شاہ محمود قریشی، زلفی بخاری اور دیگر سے متعلق ایسا کیا؟آپ رضی اللہ جب کسی کو گورنر بناتے تو اسے نصیحت فرماتے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑے نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا۔ کیا خود خان صاحب نے دربان نہیں رکھے؟ صافی پوچھتے ہیں کہ کیا وزیراعظم ہائوس اور بنی گالہ کے محل کے دروازے عام آدمی کے لئے کھلے ہیں؟
کپتان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ انہوں نے پرویز مشرف، زرداری اور نواز شریف کے دور کی دی ہوئی اظہار کی آزادی بھی چھین لی اور ایک ایک سیاسی مخالف حتیٰ کہ خواتین تک کو جیلوں میں ڈالا۔ دوسری جانب حضرت عمر فاروق ؓ دنیا کےواحد حکمران تھے کہ جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی باز پرس بھی عمر سے ہوگی۔ لیکن خان کی حکومت میں روزانہ کتنے ہی لوگ بے گناہ قتل ہورہے ہیں۔ کیا انہوں نے حضرت عمر فاروق ؓکی سنت پر عمل کرتے ہوئے کبھی یہ سوچا کہ قیامت کے دن اس ایک ایک قتل کے لئے ان سے پوچھا جائے گا؟ صافی کے مطابق حضرت عمر فاروقؓ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ آپ ؓکے دورِ خلافت میں مسلمانوں کو بے مثال فتوحات اور کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ قیصر و کسریٰ کو پیوند خاک کرکے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرانے کے علاوہ مسلمان فاتح بن کر شام، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان، عجم، آرمینہ، آذربائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران تک جا پہنچے۔ دوسری طرف عمران خان کی حکومت میں مودی نے ہم سے ہمارا کشمیر ہڑپ کرلیا اور ہم تماشہ دیکھتے رہ گئے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ میری عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ اگر حضرت عمر فاروق کی شخصیت یا دور خلافت کا ذکر کرنا چاہتے ہیں تو صرف خالد بن ولید کے واقعے کو سلیکٹ نہ کریں۔ 
ان کی شخصیت کے دیگر محاسن، عدل، خوداحتسابی اور مثالی طرز حکومت کا بھی تذکرہ کریں۔ ویسے خان صاحب کی اطلاع کے لئے یہ بھی عرض ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کا بطور امیرالمومنین انتخاب ان کے انتخاب کی طرح متنازعہ نہیں تھا۔ان کا انتخاب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا جس کے بعد تمام اکابر صحابہ اور مسلمانوں نے شورائیت کے اصولوں کے تحت انہیں امیرالمومنین مانا تھا۔ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ خلفائے راشدین صرف حکمران نہیں بلکہ سپریم کمانڈر بھی تھے۔ کبھی عمران خان، حضرت خالد بن ولیدؓ کی معزولی کی وجہ بھی معلوم کرلیں۔ 
مورخین بتاتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ کہیں مسلمان اپنی فتوحات کو اللہ کی نصرت کی بجائے ایک شخصیت سے منسوب نہ کرنے لگ جائیں۔ گویا حضرت عمر فاروقؓ شخصیت کو بت بنانے کی بجائے اجتماعیت اور شورائیت کے قائل تھے لیکن یہاں تو عمران خان نے کرکٹ میں پوری ٹیم کی فتح کو اپنی ذات کے کارنامے میں بدل دیا۔ اور ہاں حضرت خالد بن ولید کو معزول کرکے حضرت ابوعبیدہؓ جیسے جلیل القدر صحابی کو سپہ سالار مقرر کیا گیا تھا لیکن کیا قوم نہیں جانتی کہ عمران خان کا انتخاب شہباز گل، شبلی فراز، فردوس عاشق اعوان اور فیاض چوہان جیسے لوگ ہوا کرتے ہیں۔

Back to top button