جام کمال نے پارٹی صدارت سے استعفے پر یوٹرن کیوں لیا؟





اپوزیشن جماعتوں کے بعد اب اپنی ہی پارٹی کے ناراض اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے چند روز قبل باپ پارٹی کی صدارت سے دیا گیا استعفیٰ واپس لینے کا اعلان کیا ہے تاکہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے والے حکومتی اراکین کو وہ بطور پارٹی صدر نااہل قرار دلواسکیں۔
واضح رہے کہ آئین کی شق 63 اے کے تحت وزیراعلیٰ کے انتخاب، اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ میں کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی قیادت کی ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں نااہل بھی ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جام کمال اسی لیے پارٹی صدارت چھوڑنے کا اعلان کرکے یوٹرن لینے پر مجبور ہوگئے ہیں تاکہ اپنے ساتھیوں کی بغاوت کی صورت میں اس آئینی شق کا بطور ہتھیار استعمال کرکے اپنے خلاف ووٹ دینے والوں کو اسمبلی سے نا اہل کروا سکیں۔ تاہم دوسری جانب ناراض اراکین پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے متحرک ہوچکے ہیں اور جام کے مخالف ظہور بلیدی کو قائمقام پارٹی صدر مقرر کردیا ہے۔ تاہم جام کمال سمجھتے ہیں کہ اگر پارٹی صدارت ان کے ہاتھ میں رہی تو وہ اپنے ناراض ساتھیوں کو نااہلی کی تلوار سے خوفزدہ کرکے بغاوت سے باز رکھ پائیں گے مگر تجزیہ کاروں کے خیال میں ایسا ہونا آسان نہیں کیونکہ جام کمال اپنی جماعت میں اجنبی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں لہذا ان کا اقتدار اور پارٹی پر گرفت قائم رکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے علاوہ حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گئی ہے جس کے بعد پارٹی کے دونوں دھڑوں کی میں ایک نئی جنگ شروع ہوگئی ہے۔سپیکر عبدالقدوس بزنجو، سردار صالح محمد بھوتانی، عبدالرحمان کھیتران اور ظہور احمد بلیدی کی قیادت میں جام کمال سے ناراض دھڑے نے رکن صوبائی اسمبلی اور چند روز قبل وزارت خزانہ سے احتجاجاً استعفیٰ دینے والے ظہور احمد بلیدی کو قائم مقام صدر بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں نوٹیفکیشن پارٹی کے جنرل سیکریٹری سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے جاری کیا ہے جو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے کچھ گھنٹے بعد وزیراعلیٰ جام کمال خان نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پارٹی کے چند رہنماؤں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس بلائی اور پارٹی صدارت چھوڑنے سے متعلق اپنے فیصلے پر یو ٹرن لیا۔ جام کمال کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی صدارت سے کوئی تحریری استعفیٰ نہیں دیا صرف چند ہفتے قبل ایک ٹویٹ کی تھی لیکن اب پارٹی کے دوستوں کے مشورے سے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ظہور بلیدی کو قائم مقام صدر بنانے سے متعلق نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ اس کا فیصلہ پارٹی کی ایگزیکٹیو کونسل میں نہیں ہوا، انفرادی طور پر کوئی کسی کو پارٹی صدر نہیں بنا سکتا۔
خیال رہے کہ جام کمال مئی 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ مئی 2021 میں ان کی معیاد صدارت ختم ہوئی تو الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا کہا۔ لیکن جام کمال نے کرونا کو وجہ بتا کر الیکشن کمیشن سے چھ ماہ یعنی نومبر 2021 تک کی مہلت لے رکھی ہے۔ 2018 کے انتخابات سے چند ماہ قبل وجود میں آنے والی پارٹی کی صدارت ان دنوں اس لیے بھی زیادہ اہم ہوگئی ہے کہ باپ پارٹی کے ناراض دھڑے نے بی این پی عوامی کے دو اور تحریک انصاف کے ایک رکن کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے۔ 18 ویں ترمیم میں فلور کراسنگ روکنے کے لیے پارٹی صدر کے کردار کو بڑھایا گیا ہے اور وہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ آئین کی شق 63 اے کے تحت وزیراعلیٰ کے انتخاب، اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ میں کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی قیادت کی ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں نااہل بھی ہو سکتا ہے۔
جام کمال شاید اسی لیے پارٹی صدارت اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس آئینی شق کا بطور ہتھیار استعمال کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں اس آئینی شق پر کارروائی کا عملی مظاہرہ 2018 میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس وقت کیا جب ثناء اللہ زہری کے استعفے کے بعد قائد ایوان کے لیے پارٹی کے امیدوار عبدالرحیم زیارتوال کی بجائے منظور کاکڑ نے عبدالقدوس بزنجو کو ووٹ دیا۔ پشتونخوا میپ نے الیکشن کمیشن سے رجوع کر کے منظور کاکڑ کی اسمبلی رکنیت ختم کرا دی۔ منظور کاکڑ بعد میں باپ پارٹی میں شامل ہوکر پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور پھر سینیٹر منتخب ہوئے۔ یاد رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اپنے قیام کے ساتھ سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے۔ طاقتور حلقوں کی حمایت اور الیکٹ ایبلز کی شمولیت کے نتیجے میں عام انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی، سینیٹ اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب جیسے امتحانات میں بھی کامیاب رہی مگر ان دنوں پارٹی ایک نازک ترین مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اسی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے چیف آرگنائزر اور سابق وزیر اعلیٰ جان محمد جمالی نے کہا ہے کہ پارٹی بچانے کے لیے وزیراعلیٰ پارلیمانی ارکان کا اجلاس بلائیں جس میں تمام 24 ارکان صوبائی اسمبلی شریک ہو کر اندرون خانہ فیصلہ کریں اور جسے بھی قربانی دینی ہے، وہ دیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں بی اے پی کے 24 ارکان ہیں جن میں سے 12 ارکان وزیراعلیٰ کے مخالف کیمپ میں ہیں۔ خبر ہے کہ ناراض ارکان پارٹی صدر اور وزیراعلیٰ جام کمال خان کے بعد پارلیمانی لیڈر کی تبدیلی پر بھی مشاورت کر رہے ہیں۔

Back to top button