قرضوں کی مس مینجمنٹ سے ملک کو 2500 ارب کا نقصان ہوا

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا ہے کہ قرضوں کی مس مینجمنٹ سے ملک کو 2500 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے(ایف پی سی سی آئی)نےآئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں کو شامل کرنے اورقرضوں کی مس مینجمنٹ سے ملک کو پہنچنے والے 2500 ارب روپے کے نقصان کی اعلیٰ سطع کی انکوائری کروانے کا مطالبہ کر دیا۔

ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وزیر خزانہ کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ انکلوسو مذاکرات کی تجویز دی گئی ہے، اس حوالے سے وزیرخزانہ شوکت ترین کو خط بھی لکھا گیا ہے۔

خط ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصرحیات مگون اور چیئرمین پالیسی بورڈ ایف پی سی سی آئی و سابق سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگہ کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے۔

جس میں ایف پی سی سی آئی نے وزیرخزانہ شوکت ترین سے قرضوں کی مس مینجمنٹ پر اعلیٰ سطع کی انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ قرضوں کی مس مینجمنٹ سے ملک کو 2500 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

Back to top button