وزارت قانون کی رائے تک نیب میں تمام معاملات معطل رہیں گے

وزارت قانون کی رائے آنے تک قومی احتساب بیورو (نیب) میں تمام معاملات پر فیصلے معطل رہیں گے۔نیب ہیڈ کوارٹر نے ریجنل آفسز کو فیصلے لینے سے روک دیا اور کہا کہ نیب نے وزارت قانون سے نئے آرڈیننس سے متعلق کئی سوالات پر وضاحت اور تشریح مانگی ہے۔

خیال رہے کہ نیب آرڈیننس کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز ماہر قانون اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے اندر درج ہےکہ زیر التوا مقدمات کو کیسے ڈیل کیا جائےگا۔سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے نیب پراسیکیوٹر جنرل کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہی تفریق کرنی ہے کہ پچھلے کیسوں پر اطلاق نہیں ہوگا، آئندہ پر ہوگا تو نیب آرڈیننس پہلے ہی بے معنی ہوجاتا۔

وسیم سجاد نے قانون میں ابہام کی نشاندہی کرتے ہوئےکہا ہےکہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں یہ تو کہا گیا ہے کہ کچھ چیزوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگالیکن کیس ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ کون کرے گا ؟ اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔علاوہ ازیں قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس کے تحت نیب ریفرنس کے ملزم کو پہلا ریلیف مل گیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عبداللہ نامی ملزم کا کیس سیشن جج کو بھیج دیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ عوام سے فراڈ کے کیس پر اب اس عدالت کا اختیار نہیں، ایسےکیسز اب عمومی قانون کے تحت دیگر عدالتوں میں چلیں گے۔احتساب عدالت نے ملزم کو 15 اکتوبر کو متعلقہ کورٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کیا تھا۔

Back to top button