کیا آپ ڈینگی بخار کی علامات سے واقف ہیں؟





ڈینگی بخار دنیا بھر میں سب سے ذیادہ تیزی سے پھیلنے والا بخار بن چکا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔اس وقت ملک کے مختلف شہروں میں ڈینگی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 40 کروڑ افراد کو ڈینگی انفیکشنز کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے 9 کروڑ 60 لاکھ افراد بیمار ہوتے ہیں۔ ڈینگی بخار مچھر کی ایک قسم Aedes کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو خود ڈینگی وائرس سے منتشر ہوتا ہے اور کاٹنے کے بعد خون میں وائرس کو منتقل کردیتا ہے۔ مگر یہ بیماری ایک سے دوسرے فرد میں براہ راست نہیں جا سکتی۔ ڈینگی کی علامات عموماً بیمار ہونے کے بعد 4 سے 6 دن میں ظاہر ہوتی ہیں اور کم از کم 10 دن تک برقرار رہتی ہیں۔ ان علامات میں اچانک تیز بخار، شدید سردرد، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں اور مسلز میں شدید تکلیف، تھکاوٹ، قے، متلی، جلد پر خارش جو بخار ہونے کے بعد 2 سے 5 دن میں ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ ناک اور مسوڑوں سے خون کا معمولی اخراج قابل ذکر ہیں۔
ا
کثر اوقات ڈینگی علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے اور انہیں فلو یا کسی اور وائرل انفیکشن کا نتیجہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے۔چھوٹے بچوں اور ایسے افراد جو پہلے ڈینگی سے متاثر نہ ہوئے ہوں، ان میں بیماری کی شدت زیادہ عمر کے بچوں اور بالغ افراد کے مقابلے میں معمولی ہوتی ہے مگر سنگین مسائل کا خطرہ ہر مریض میں ہوسکتا ہے جیسے ڈینگی ہیمرج بخار جو بہت تیز بخار کی قسم ہے، یہ خون کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور جگر کا سائز بھی بڑھا دیتی ہیں۔سنگین علامات کے نتیجے میں خون کا اخراج بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے اور موت کا خطرہ بھی پیدا ہو ہوتا ہے۔

کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد یا دوسری یا کئی بار ڈینگی کا سامنا کرنے والے لوگوں میں ڈینگی ہیمرج بخار کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر ڈینگی کی تشخیص ایک بلڈ ٹیسٹ سے کر سکتے ہیں، ابھی ڈینگی انفیکشن کے علاج کے لیے کوئی مخصوص دوا موجود نہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو ڈینگی ہے تو آپ پیراسیٹامول استعمال کرسکتے ہیں، مگر اسپرین سے گریز کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ خون کا اخراج بدتر کرسکتی ہے۔مریضوں کو آرام کے ساتھ زیادہ پانی پینا چاہئے اور اگر بخار کم ہونے کے بعد اولین 24 گھنٹوں میں حالت زیادہ خراب محسوس ہو تو فوری ہسپتال جانا چاہئے۔

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں لہازا اپنے تحفظ کے لیے موسکیٹو ریپیلنٹس کا استعمال کریں چاہے گھر یا دفتر سے باہر ہو یا چار دیواری کے اندر، گھر سے آستینوں والی قمیض اور پیروں میں جرابیں پہنے، گھر میں اے سی ہو تو اسے چلائیں، کھڑکیاں اور دروازوں میں مچھروں کی آمد روکنا یقینی بنائیں، اے سی نہیں تو مچھروں سے بچاؤ کی نیٹ استعمال کریں۔ اسی طرح مچھروں کی آبادی کم کرنے کے لیے ان کی افزائش کی روک تھام کی تدابیر پر عمل کریں جیسے پرانے ٹائروں، گلُدان اور دیگر میں پانی اکٹھا نہ ہونے دیں۔اگر گھر میں کسی کو ڈینگی ہو گیا ہے تو اپنے اور دیگر گھر والوں کے تحفظ کے لیے بہت زیادہ احتیاط کریں جس متاثرہ فرد کو جن مچھروں کے کاٹنے سے ڈینگی ہوا وہ گھر میں دیگر افراد میں بھی اس بیماری کو پھیلا سکتے ہیں۔

Back to top button