بدگمان محبوب کو جوابی تھپڑ مارنے والی ماہ پارہ کون ہے؟





جیو ٹی وی کا ڈرامہ ’’رنگ محل‘‘ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے جس میں’’مہ پارہ‘‘ کا مرکزی کردار اداکارہ سحر خان انجام دے رہی ہیں۔ڈرامے کی ایک قسط میں اپنے بدگمان محبوب راعد یعنی علی انصاری کو تھپڑ مارنے پر ماہ پارہ کو بھی اسی طرح سراہا جا رہا ہے جیسے پچھلے دنوں ہم ٹی وی کے ڈرامے لاپتہ کی ہیروئن فلک یعنی سارہ خان کی طرح سراہا گیا تھا جس نے اپنے شوہر کے تھپڑ کے جواب میں ایک زور دار جوابی تھپڑ رسید کرکے خوب شہرت حاصل کی تھی۔

ڈرامے میں اپنے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے مہ پارہ یعنی سحر خان نے بتایا کہ عموماً لڑکیوں کے ساتھ کچھ بھی ہوتا ہے تو وہ روتی ہیں اور کہتی ہیں کہ سب ختم ہو گیا۔ مگر مہ پارہ نے ’موو آن‘ یعنی آگے بڑھنے کا پیغام دیا۔ اس نے پیغام دیا کہ آپ کے ساتھ زندگی میں کچھ بھی ہو جائے آپ نے زندگی نہیں روکنی اور آگے بڑھتے جانا ہے۔ سحر خان بتاتی ہیں کہ جب انھیں اس ڈرامے کا سکرپٹ ملا اور انھوں نے ادے پڑھا تو چند سین ایسے تھے جن پر وہ بے ساختہ رو پڑیں۔ انکا کہنا ہے کہ جب آپ ایک کردار کے ساتھ جذباتی لگاؤ پیدا کر لیتے ہیں تو وہ پراجیکٹ اچھا ہو جاتا ہے۔

رنگ محل کے جتنے بھی سین ہیں ان میں ایک ربط ہے، ڈرامہ دیکھتے ہوئے بالکل بھی ایسے نہیں لگتا کہ یہ سین تو بے محل ہے۔ رواں برس جولائی کے اختتام پر شروع ہونے والے اس ڈرامے کی 88 اقساط نشر ہو چکی ہیں اور راعد کا کردار ادا کرنے والے علی انصاری کے بقول ہر نئی قسط کی ریٹنگ پہلے آنے والی قسطوں سے بہتر ہوتی ہے۔ علی انصاری بتاتے ہیں کہ رنگ محل میں قدرے کم معروف اداکاروں کو کاسٹ کیا گیا مگر ڈرامہ انڈسٹری میں گذشتہ کئی ماہ سے یہ ڈرامہ ٹاپ چارٹس پر ہے۔ سحر خان بتاتی ہیں کہ اِس ڈرامے کے بعد ان سے ڈرامہ انڈسٹری کے کئی لوگوں نے رابطہ کیا جبکہ چند انڈین اداکاروں نے انسٹاگرام پر پیغامات بھیجے جن میں مہ پارہ کے کردار کو سراہا گیا تھا۔

خاص طور پر جب ایکٹرز آپ کے کام کی تعریف کرتے ہیں تو اُچھا لگتا ہے اور جب کوئی چیز ناظرین کو پسند آ جائے تو پھر تو بہت ہی اچھا لگتا ہے۔ مہ پارا نے اپنے کردار کے شروع میں مشرقی لباس زیب تن کیا ، ڈوپٹہ اوڑھا لیکن جب وہ اس حلیے میں ملازمت کیلئے گئی تو باس کے ہچکچانے پر اس نے ماڈرن لباس بھی زیب تن کیا گویا وہ اپنے خوابوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سحر کہتی ہیں کہ جب ان کا کردار چینج ہوا تو لوگوں کو اچھا نہیں لگا اور انھوں نے سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجے اور کچھ لوگوں کو نے کہا انھیں یہ سب اچھا نہیں لگا اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ علی انصاری کہتے ہیں کہ کانٹینٹ کسی بھی ڈرامے کی مقبولیت کی بنیادی وجہ ہوتا ہے ، پوری ٹیم نے بہت محنت کی اور سیٹ پر کوئی ایسی ویسی چیز نہیں تھی ،

سب ایک خاندان کی طرح تھے ، وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ سحر کہتی ہیں کہ جب غلط فہمیاں آپ کے اپنے گھر والے پیدا کرتے ہیں تو ان کا جواب ڈھونڈنا کافی مشکل ہوتا ہے کیونکہ آپ سوچتے ہیں کہ ان میں حقیقت ہو گی۔علی انصاری کہتے ہیں کہ ابھی تو پکچر باقی ہے کیونکہ ابھی ڈرامے میں بہت ٹوئسٹ آنے باقی ہیں سٹوری میں۔

شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے سحر نے بتایا شوٹنگ کے دوران چائے کا گرم کپ میری ٹانگ پر گر گیا تھا جس پر دو دن کی بریک لینا پڑی۔ سحر بتاتی ہیں کہ ایک قسط میں جب انھوں نے راعد کو تھپڑ مارا تو ناظرین کے کافی جذباتی پیغامات انھیں موصول ہوئے۔ لوگ خوش ہوئے، کئی نے کہا ٹھیک کیا اور زور سے مارنا چاہئے تھا۔ ڈرامہ رنگ محل جیو ٹی وی سے نشر کیا جا رہا ہے جوکہ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

Back to top button