پاکستان نے گوادر کا علاقہ عمان سے کتنے میں خریدا؟


شاید بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ گوادر کا علاقہ پاکستان نے 1958 میں عمان کے سلطان اعلیٰ حضرت سعید بن تیمور سے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کے عوض خریدا تھا اور ایسا کرتے وقت پاکستان نے عمان کے سلطان کو بھارت کی جانب سے کی گئی آفر کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ رقم ادا کی تھی۔
خیال رہے کہ گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا ایک شہر ہے جو 1958 تک عمان کی ملکیت ہوتا تھا۔ گوادر دراصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوات یعنی “کھلی ھوا ” اور در کا مطلب” دروازہ” ہے، یعنی ھوا کا دروازہ۔ بعد ازاں یہ نام گواتدر سے بگڑ کر گوادر بن گیا۔ 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں 21ویں صدی کی ضروتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل کا وقت جوں جوں قریب آ رہا ہے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔
کہتے ہیں کہ تاریخ میں دو قوتیں ہی ایسی گزری ہیں جنھوں نے گوادر کی اہمیت کو پہچانا، برطانیہ اور اس کے بعد پاکستان۔ برطانیہ کی دلچسپی والی بات تو اب پرانی ہوگئی کیونکہ اس کا تعلق 19ویں صدی کے وسط اول سے ہے جب افغانستان نے 1839 میں ان علاقوں پر حملہ کیا۔ اس وقت برطانوی حکومت نے ضرورت محسوس کی کہ وہ تربت اور ایران کے درمیان پورے خطے کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور گوادر کی تاریخی، سیاسی اور دفاعی اہمیت سے واقفیت حاصل کرے۔گوادر پر پاکستان کی توجہ تقسیم ہند کے فوراً بعد ہی مبذول ہو گئی تھی اور اس نے اپنے قیام کے تقریباً دو برس بعد سنجیدگی سے کوشش کی کہ یہ علاقہ اس کی تحویل میں آ جائے۔ بحیرہ عرب کے کنارے واقعہ اس ساحلی علاقے میں پاکستان کی دلچسپی کی وجوہات دو تھیں، معیشت اور مضبوط دفاعی حصار۔ گوادر ان دونوں مقاصد کی راہ میں ایک بڑی دیوار کے طور پر حائل تھا۔ یہ دیوار صرف اسی طور گرائی جا سکتی تھی اگر یہ علاقہ پاکستان میں شامل کر لیا جاتا۔ پاکستان اپنے قیام کے بعد اپنی تاریخ کے شاید سب سے بڑے اقتصادی بحران سے دوچار تھا جب وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادایئگی کے وسائل بھی نہیں رکھتا تھا۔
سمگلنگ کی وجہ سے اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا کیونکہ اس طرح سے قومی وسائل تیزی سے سکڑتے جا رہے تھے۔ اس زمانے میں سمگلنگ کا ایک بڑا مرکز گوادر کی یہی پرانی اور غیر ترقی یافتہ بندر گاہ تھی۔
اگرچہ یہاں ایک ایئر پورٹ بھی موجود تھا لیکن اس کے استعمال کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی اور 1956 میں آخری بار اسماعیلی برادری کے پرنس علی خان کی یہاں آمد کے موقع پر رونق دیکھی گئی تھی۔ دفاعی عدم تحفظ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے مختلف جائزے مرتب کروائے جن کے بعض منتخب حصے 25 ستمبر 1958 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوئے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان بحیرہ عرب کی اس ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ گواٹر کے مقام تک، جو پاکستانی سرزمین کا آخری مقام ہے، ایک سڑک تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ ملک کا دفاع مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ پر بھی قابو پایا جاسکے۔ لیکن اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گوادر کی صورت میں حائل تھی جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہی سبب تھا کہ حکومت پاکستان نے 1949 میں ہی گوادر کے حصول پر سنجیدگی سے توجہ دینی شروع کی۔یہ کوششیں 1958 میں اپنے عروج پر پہنچ گئیں جب پاکستان اور عمان کے درمیان اس معاملے میں فیصلہ کن بات چیت ہوئی جس میں اس خطے میں سابق قابض قوّت اور عمان میں فوجی اڈے رکھنے والی طاقت برطانیہ نے دونوں ملکوں کی معاونت کی۔ یوں اس زمانے کی غیر ترقی یافتہ بندر گاہ پاکستان کا حصہ بن گئی۔
پاکستان میں گوادر کے انضمام کا اعلان اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم فیروز خان نون نے پارلیمان کے اجلاس میں کیا اور قوم کو بتایا کہ عمان کے سلطان اعلیٰ حضرت سعید بن تیمور نے یہ علاقہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت بلامعاوضہ پاکستان کے حوالے کیا ہے جو نسلی، لسانی، جغرافیائی اور تاریخی طور پر فطری طور پر پاکستان کا حصہ تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ آئین کی دفعہ 104 کے تحت یہ علاقہ مغربی پاکستان میں شامل سمجھا جائے گا، اسے خصوصی حیثیت حاصل ہوگی لیکن یہاں کے باشندوں کے حقوق ملک کے دیگر شہریوں کے برابر ہوں گے۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھی اس واقعے کو ملک کی تاریخی کامیابی اور انڈیا کی ہزیمت کے طور پر دیکھا گیا۔اس سلسلے میں روزنامہ جنگ میں انتہائی دلچسپ کارٹون شائع ہوا جس میں دو دروازے دکھائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک بھارتی ساحلی علاقے گوا کا تھا، جس سے بھارت کو نکلتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ پاکستان کو گوادر کے دروازے سے اندر داخل ہوتے دکھایا گیا۔ پاکستان میں سرشاری کی یہ کیفیات آئندہ تقریباً دو ہفتے یعنی اس وقت تک جاری رہی جب تک عالمی شہرت یافتہ جریدے ٹائم کا آئندہ 22 ستمبر 1858 کا شمارہ شائع نہیں ہوا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کو گوادر کا یہ قبضہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر بلا معاوضہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے ایک خطیر رقم یعنی 4 کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ جریدے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت پاکستان نے سلطان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر اس علاقے سے تیل نکالا گیا تو اس کی آمدن میں سے کچھ حصہ انھیں بھی دیا جائے گا۔پاکستانی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر بڑے نمایاں انداز میں شائع کی، جس سے ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی۔ حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے قوم کو غلط معلومات فراہم کیں اور انھیں اندھیرے میں رکھا۔
اس ہنگامہ خیز صورت حال میں حکومت کچھ دنوں تک خاموش رہی لیکن 24 ستمبر 1958ءکے بعد گورنر مغربی پاکستان نواب مظفر قزلباش نے اپنے ایک پالیسی بیان کے ذریعے خاموشی توڑی۔ اس سے ٹائم میگزین کی خبر سے شروع ہونے والی بحث کا خاتمہ بھی ہوا اور اس معاملے میں ایک نیا پہلو بھی شامل ہوگیا، یعنی گواد کے حصول کے سلسلے میں انڈیا کی دلچسپی سامنے آئی۔ ان کے بیان کا لبِ لباب یہ تھا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان نے گوادر کے حصول کے لیے رقم ادا کی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارت بھی گوادر میں دلچسپی رکھتا تھا اور اُس نے اِس کے حصول کے لیے عمان کے سلطان کو پاکستان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ معاوضے کی پیشکش کی تھی۔ بھارت نے اس مقصد کے لیے کئی ایسے ملکوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش بھی کی جو اس معاملے میں اثر انداز ہو سکتے تھے۔ گوادر میں انڈیا کی دلچسپی کی دو بڑی وجوہات ٓتو ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کی رپورٹ سے واضح ہیں۔ اس سے بھی اہم وجہ اُس وقت کے اخبارات کے بقول یہ تھی کہ اس زمانے میں یہ علاقہ سمگلروں کی جنت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان اطلاعات کے مطابق کراچی سے گوادر تک سمگلروں کا ایک نیٹ ورک متحرک تھا جو پاکستان سے سونا، غذائی اجناس اور دیگر قیمتی چیزیں بیرون ملک منتقل کیا کرتا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گوادر کے پاکستان میں شامل ہونے کے بعد ان سرگرمیوں میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ سمگلنگ میں تیزی کی اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب گوادر کے پاکستان میں شامل ہونے کے بعد پاکستانی سیاحوں اور غیر ملکی سامان سستے داموں خریدنے کے شائقین افراد نے گوادر کا رخ کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں کراچی سے گوادر تک کا سفر سمندری راستے سے ہوا کرتا تھا جس کا کرایہ 23 روپے تھا لیکن ان دنوں میں بڑھ کر 300 روپے تک جا پہنچا تھا۔ ابتدا میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہر قسم کی تجارت معمول کے مطابق جاری رہے گی لیکن جب سونے، کرنسی اور دیگر اشیا کی سمگلنگ شروع ہو گئی تو حکومت کو مجبوراً بہت سے پابندیاں عاید کرنی پڑیں۔ تاہم ایسی ہی سرگرمیاں جاری رہی ہوں گی، جن کی روک تھام کے لیے ساحلی علاقوں کے گرد ایک شاہرہ کی تعمیر کی ضرورت محسوس کی گئی لیکن اس کی راہ میں عمان حائل تھا جس کا گوادرپر اختیار تھا۔ گوادر کی پاکستان میں شمولیت سے یہ رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔

Related Articles

Back to top button