تحریک لبیک دوبارہ حکومت کے خلاف میدان میں آ گئی


کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے دوبارہ سے حکومت کے خلاف میدان میں آتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے ساتھ اپریل 2021 میں کیا جانا والا فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا معاہدہ پورا نہ کیا گیا تو 21 اکتوبر کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ لاہور میں پچھلے کئی روز سے ٹی ایل پی کا احتجاج جاری تھا جسے اب مرکزی شوریٰ کے حکم پر پُرامن دھرنے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ احتجاج بنیادی طور پر تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو عدالتی احکامات کے باوجود رہا نہ کئے جانے کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔
تاہم اب احتجاجی دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ ’حکومت پاکستان تحریک لبیک کے ساتھ کیے گے معاہدے سے بار بار روگردانی کی مرتکب ہوئی ہے جسے اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تین دن میں معاہدے پر عملدرآمد کا کہا گیا تھا جبکہ اب 6 ماہ گزر گئے لیکن معاہدے کی ایک شق پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔‘ ان کا کہنا تھا ’لاہور میں پندرہ روز سے پرامن احتجاج جاری ہے اور کسی نے ان کی ایک نہیں سنی۔‘ لہذا اب تحریک لبیک کی جانب سے حکومت کو 21 اکتوبر تک کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ اگر تب تک حکومت کی جانب سے معاہدہ پر من و عن عملدرآمد نہ ہوا تو 21 اکتوبر شام 5 بجے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ تحریک کی مجلس شوریٰ کا کہنا ہے کہ سڑکیں بند کیے بغیر احتجاج کر کے بھی دیکھا لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی لہذا اب سڑکیں بند کرنا پڑیں گی۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کا اپریل 2021 میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے مطالبے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد ختم کیا گیا تھا۔ تنظیم کا خیال تھا کہ معاہدے کے بعد ان کے سربراہ علامہ ساجد رضوی کو رہا کر دیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور وہ بدستور جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے تنظیم کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے چچا کی درخواست پر ان کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا تھا جبکہ پنجاب حکومت نے سعد رضوی کی رہائی کے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سعد رضوی کو رہا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ عدالتِ عالیہ کو اس کیس سے متعلق تفصیلی ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا تھا اور یہ کہ سعد رضوی کی نظربندی کا حکومتی فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سعد رضوی کی رہائی کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سعد رضوی کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے تاہم ان کی رہائی تاحال عمل میں نہیں آئی ہے۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے سعد رضوی کا کیس دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کو بھجواتے ہوئے فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔
‎یاد رہے کہ اپنے والد خادم رضوی کی وفات کے بعد مذہبی جماعت ٹی ایل پی کے سربراہ مقرر ہونے والے سعد رضوی کو پہلے وفاقی حکومت کے احکامات پر ایم پی او (نقص امن عامہ) کے قانون کے تحت نظر بند کیا گیا تھا اور ساتھ ہی انھیں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 11 ٹرپل ای کے تحت بھی جیل میں رکھا گیا تھا۔‎ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو رواں برس اپریل میں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو اپریل کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
اس احتجاج کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکاتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔
اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔
اس کے بعد تنظیم نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 12 اپریل کو احتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔

Related Articles

Back to top button