وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کر دی گئی ، بلوچستان اسمبلی میں 33 اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر وزیراعلیٰ‌ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر حمایت کا اعلان کیا۔

65 اراکین اسمبلی پر مشتمل بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنما عبدالرحمان کھیتران نے اپنے خطاب میں‌ کہا کہ 33 اراکین کی حمایت آنے پر قرارداد کا فیصلہ ہو گیا ہے ، انھوں نے کہا کہ ہمارے پانچ اراکین اسمبلی کل سے لاپتہ ہیں جبکہ آئندہ روز مزید اراکین کے لاپتہ ہونے کا امکان ہے ، جام کمال کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں موقف اپنایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے خلاف قرار داد پیش کرنے والے اکثریتی اراکین میں سے سب کی حمایت حاصل کرنے والے کو بلوچستان اسمبلی کا وزیراعلیٰ بنایا جائے۔

اس موقع پر ناراض اراکین اسمبلی نے ایوان میں‌خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لاپتہ ہونے والے اراکین اسمبلی کو فوری طور پر ایوان میں لایا جائے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایوان سے 5 ارکان اسمبلی لاپتہ ہیں۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں شروع ہوگیا ہے جس میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔

بلوچستان میں جاری سیاسی بحران کے آثار سب سے پہلے رواں سال جون میں نمایاں ہوئے تھے جب اپوزیشن اراکین نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر کئی دنوں تک جام کمال خان عالیانی کی صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا کیونکہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ احتجاج بحرانی شکل اختیار کر گیا تھا اور بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے حزب اختلاف کے 17 اراکین اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

اس کے بعد اپوزیشن کے 16 ارکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی تاہم گورنر ہاؤس سیکریٹریٹ نے تکنیکی وجوہات کے سبب تحریک بلوچستان اسمبلی کو واپس کر دی تھی۔

اس ماہ کے اوائل میں بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ میں 14 اراکین اسمبلی کے دستخط کی حامل تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی کیونکہ عالیانی کو اپنی پارٹی کے ناراض اراکین کی مستقل تنقید کا سامنا تھا جن کا ماننا ہے کہ وزیراعلیٰ حکومت کے امور چلانے کے لیے ان سے مشاورت نہیں کرتے ، وزیراعلیٰ نے بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر کا عہدہ بھی چھوڑ دیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔

Related Articles

Back to top button