بچوں کی ہلاکت پرFC کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گیا


بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایف سی اہلکاروں کا یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گیا ہے کہ وہاں ہلاک ہونے والے دو کمسن بہن بھائی دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔ اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دونوں بچوں کی ہلاکت ایف سی کی جانب سے فائر کیے گئے ایک گولے کے پھٹنے سے ہوئی چنانچہ اب ان بچوں کی ہلاکت کا کیس فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ تھانہ مکران میں ہلاک ہونے والے بچوں کے دادا محراب بلوچ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے کیونکہ بچوں کا والد دبئی میں مقیم ہے۔
یاد رہے کہ پانچ اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو کمسن بہن بھائی ہلاک جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا تھا۔ بچوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ واقعہ ایف سی کی جانب سے فائر کیے جانے والے گولے کے پھٹنے سے پیش آیا تاہم ایف سی حکام نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بچوں کی ہلاکت اُس ہینڈ گرینیڈ کے پھٹنے کے باعث ہوئی جس سے وہ کھیل رہے تھے۔ بچوں کے لواحقین نے میتوں کے ہمراہ ابتدا میں ضلع کیچ میں احتجاج کیا تاہم ’انصاف نہ ملنے‘ کے باعث لواحقین نے میتوں کے ہمراہ اپنا دھرنہ کوئٹہ کے گورنر ہاؤس کے سامنے منتقل کر لیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعے کا مقدمہ ایف سی کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف درج کیا جائے۔ لیکن اب 19 اکتوبر کو اس سلسلے میں دائر ایک درخواست کو نمٹاتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبد الحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ سمیت انتظامیہ کے تین اہلکاروں کو معطل کرنے اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی کا حکم دیا۔ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد لواحقین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بچوں کی تدفین کر دی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کا تعلق بنیادی طور پر ضلع پنجگور کے علاقے بالگتر سے ہے۔ ان بچوں کے دادا مہراب بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں بچے بہن بھائی تھے، جن کی عمریں چھ سے سات سال کے درمیان تھی جبکہ زخمی ہونے والا تیسرا بچہ بھی ان کا رشتہ دار ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بچوں کے والد گذشتہ تین سال سے دبئی میں محنت مزدوری کر رہے ہیں اور ان کے یہی دو بچے تھے۔
بچوں کی ہلاکت اور ان کی لاشوں کے ہمراہ دھرنے کے حوالے سے سینیئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس بلوچستان کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس معاملے کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران بچوں کے لواحقین کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حکومت بلوچستان ارشد مجید، ایڈیشنل آئی جی پولیس بلوچستان ذوالفقار حمید، ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ نے (Daily Situation Report) کی نقل پیش کی جس کے مطابق نائب تحصیلدار ہوشاپ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ پرکوٹگ کے علاقے میں ایف سی کی جانب سے مارٹر کا گولہ فائر کیا گیا جس میں بچے زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو بچوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ بچے گھروں کے باہر کھیل رہے تھے کہ ایف سی کی جانب سے راکٹ فائر کیا گیا جس کے باعث دو بچے ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ۔کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈی ایس آر پر نائب تحصیلدار کے دستخط کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ سماعت کے دوران عدالت کے سوالات کا ڈپٹی کمشنر کیچ نے تسلی بخش جواب نہیں دیے۔
عدالت نے سماعت کے دوران سی ٹی ڈی تھانے میں بچوں کے دادا کے موقف کے مطابق مقدمے کے اندراج کا حکم دیتے ہوئے ڈی آئی جی کرائمز برانچ کو اس واقعے کا صاف اور شفاف انکوائری کے لیے تین سینئر پولیس افسروں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے حکومت بلوچستان کو حکم دیا کہ وہ زخمی ہونے والے بچے کے علاج معالجے کے اخراجات کی ایڈوانس میں ادائیگی کرے۔ عدالت نے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی تجویز پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ ہلاک ہونے والے بچوں کو شہید قرار دینے اور ان کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے متعلقہ محکمے کے ساتھ اٹھائے۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کیچ ، نائب تحصیلدار ہوشاپ اور اسسٹنٹ کمشنر تربت کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف غفلت اور نااہلی پر تادیبی کاروائی شروع کرنے کا حکم دیا۔

Related Articles

Back to top button